ایرانی حکام نے بدھ کو اشارہ دیا ہے کہ انہیں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی اُس حالیہ تجویز پر امریکہ کا باضابطہ جواب موصول ہو گیا ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محض چند دن قبل اعلانیہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس جواب میں کیا ہے اور آیا ایرانی تجویز کو مسترد کیا گیا یا نہیں؟
حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کابینہ کے اجلاس میں امریکی جواب صدر مسعود پزشکیان کو پیش کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’ہم اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور ایرانی عوام کے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔ اب اس معاہدے کی بنیاد دو طرفہ مفاد حکمت عملی پر ہونی چاہیے۔‘
کابینہ کا یہ اجلاس گذشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے بعد عباس عراقچی کی ایران واپسی پر منعقد ہوا، جہاں حکام نے امریکی حکام کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کیے اور عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر قطری اور پاکستانی ثالثوں سے بھی ملاقات کی۔
عباس عراقچی نے کابینہ کو اپنے دورہ نیویارک اور وہاں ہونے والی ملاقاتوں پر بریفنگ دی، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط بھی شامل تھیں، جن کے بارے میں مہاجرانی نے بتایا کہ انہیں ثالثوں کے ذریعے پہنچا دیا گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں بحران پیدا ہوا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑا اور مختلف ملکوں میں تیل کی قیمتیں اور مہنگائی بڑھ گئی۔
مسائل حل کرنے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا لیکن سات ماہ میں دونوں ملکوں کے درمیان کوئی ٹھوس اور واضح معاہدہ نہیں ہو سکا۔
عباس عراقچی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے ایک ہفتے کے اندر آبنائے کھولنے کی تجویز پیش کی تھی بشرطیکہ امریکہ دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھانے پر رضامند ہو جائے۔
ٹرمپ نے فوری طور پر اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ ’بہت بری طرح ہار رہا ہے‘ لیکن اس کی پیشکش ’قابل قبول نہیں ہوگی۔‘
عوامی سطح پر بات کرنے کا اختیار نہ رکھنے والے اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے حکام کے مطابق، ٹرمپ کے اعلانیہ مسترد کرنے کے باوجود ثالثوں نے لڑائی ختم کرنے اور آبنائے کھولنے کا معاہدہ کروانے کے لیے ایران اور امریکہ کے ساتھ کوششیں جاری رکھیں۔
