گوجرانوالہ: ’بیٹی پیدا ہونے کے امکان‘ پر بیوی پر تشدد کرنے والے شوہر کا ریمانڈ

گوجرانوالہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ شوہر نے مبینہ طور پر لڑکی پیدا ہونے کے امکان پر بیوی کو اپنے گھر والوں کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے عدالت سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گجرانوالہ کے علاقے واپڈا ٹاؤن میں خاتون پر شوہر کی جانب سے تشدد کی اطلاع ملنے کے کچھ ہی دیر بعد ملزم طیب منان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

’پولیس نے عدالت کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔ کیس کی قانونی پہلوؤں سے تفتیش بھی جاری ہے۔‘

پولیس افسر کے مطابق ’متاثرہ خاتون کے والد نے مقدمہ درج کروایا ہے کہ ان کی بیٹی کو خاوند نے دوسری بیٹی پیدا ہونے کی معلومات کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔‘

متاثرہ لڑکی کے والد امجد جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’میری بیٹی عروج امجد کی شادی ڈیڑھ سال پہلے طیب منان سے ہوئی تھی۔ ایک سال بعد ہی بیٹی پیدا ہوئی جس پر وہ اور ان کے گھر والے خوش نہیں تھے۔

’اب پانچ ماہ کی حاملہ ہے جب الٹرا ساؤنڈ میں اس کے شوہر کو معلوم ہوا کہ عروج کی دوسری أولاد بھی بیٹی ہے۔ تو اس نے گھر جا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امجد جاوید کہتے ہیں کہ ’میری بیٹی نے بتایا کہ وہ اس کا حمل ضائع کرنے کے لیے تشدد کرتا رہا اور پکڑ کر دیواروں سے ٹکراتا رہا۔ اب میری بیٹی اتنی شدید زخمی ہے کہ ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی طبیعت بہت خراب ہے۔‘

دوسری جانب ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ ’میرا بیوی سے اس کے والد کے ساتھ کاروباری لین دین کی وجہ سے جھگڑا ہوا تھا۔ یہ الزام کہ بیٹی پیدا ہونے کے امکان پر تشدد کیا درست نہیں ہے۔‘

آج بھی بیٹی پیدا ہونے پر تشویش کیوں؟

لاہور میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم وائز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بشریٰ خالق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ملک میں خواتین پر تشدد کے جتنے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، اسی طرح قانونی کارروائیاں بھی تیز ہورہی ہیں۔

’سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں خواتین کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے سرگرم ہیں۔ لیکن یہ یک طرفہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ معاشرتی سوچ کا معاملہ ہے۔ معاشرے کا بڑا حصہ آج بھی مرد کو خاتون سے زیادہ طاقتور صرف جنسی بنیاد پر سمجھتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس فرسودہ سوچ کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدام کرنا ہوں گے کہ لڑکی کی بجائے لڑکے پیدا ہونے سے ہی خاندان مضبوط اور طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ شادیوں سے پہلے نوجوانوں میں اس سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا کہ لڑکی اور لڑکا دونوں انسانی بنیادوں پر برابر ہیں۔

’کوئی صرف اس لیے زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتا کہ وہ مرد ہے۔ ہمارے ہاں یہ سوچ کافی گھرانوں میں آج بھی موجود ہے کہ نسل صرف لڑکوں سے ہی پروان چڑھتی ہے۔‘

بشریٰ کے بقول ’اگرچہ ہمارے ملک میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے زیادہ بہتر قانون سازی ہوئی ہے اور ان پر عمل بھی ہورہا ہے۔ لیکن اجتماعی طور پر معاشرتی سوچ کو مکمل تبدیل کیے بغیر ان مسائل کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق ’ایک خامی ضرور ہے کہ خواتین پر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری سخت سزا اور اس پر عمل کیا جائے۔ تاکہ خواتین کا معاشرے میں مکمل تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *