پاکستان: دہشت گردی سے لڑنے کا طریقہ بدلنا ہو گا

میرے اسلام آباد کے محلے میں واقع ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز نے خاموشی توڑ دی۔ ایک لمحے کے لیے نمازی ساکت رہ گئے۔ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا، لیکن اس ردعمل نے سب کچھ بیان کر دیا۔

جب ایک بے ضرر آواز بھی عبادت میں خلل ڈال دے تو اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردی نے ہماری زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ ہم نے تقریباً غیر معمولی چیزوں کو معمول سمجھ لیا ہے: مساجد کے باہر مسلح پولیس اہلکار، روزمرہ زندگی کے گرد رکاوٹیں۔ لیکن خوف اب بھی موجود ہے۔

یہ خوف میرے لیے نیا نہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک دہشت گرد حملہ کتنی تیزی سے نہ صرف معاشرے کے تحفظ کے احساس کو بدل دیتا ہے بلکہ اس کے اداروں کے ردعمل کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ 11 ستمبر 2001 کو میں امریکی ریاست لوزیانا کے شہر بیٹن روج کی پولیس اکیڈمی میں موجود تھا۔ اس وقت پاکستان پر امریکی پابندیاں عائد تھیں اور ہنگامی واقعات سے نمٹنے کے انتظام سے متعلق ہمارا تربیتی کورس دونوں ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ رابطوں کی محتاط بحالی کا حصہ تھا۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ ہم ایک فرضی بحران کی مشق کی تیاری کر رہے تھے کہ ایک پروگرام معاون کمرے میں گھس آیا: امریکہ پر حملہ ہو گیا تھا۔ پھر حملہ آوروں کے نام اور شناختیں سامنے آئیں۔ ہم امید کر رہے تھے کہ اس کے اثرات ہمارے خطے تک نہیں پہنچیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

میں راولپنڈی میں سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں پر واپس آیا، لیکن دنیا بدل چکی تھی۔ ایک فیصلہ کر لیا گیا تھا: ’ہم امریکہ کے ساتھ ہیں۔‘ پاکستان اگلے مورچے کا اتحادی بنا اور جلد ہی خود اگلا مورچہ بن گیا۔ کل کے جنگجو آج کے عسکریت پسند بن گئے، کچھ جرائم کی دنیا میں چلے گئے اور کچھ دہشت گردی کی طرف مائل ہو گئے۔ افغان جنگ کے دوران مغرب کے ساتھ مل کر جس سانپ کو ہم نے پالا تھا، وہی ہمارے خلاف ہو گیا۔

پچیس برس بعد پاکستان گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 میں پہلے نمبر پر ہے۔ 2025 میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ملک کے 74 فیصد سے زیادہ دہشت گرد حملے اور اس سے ہونے والی 67 فیصد اموات ہوئیں۔ کئی دہائیوں کی اس جنگ کے بعد اب ہمیں زیادہ سخت سوالات پوچھنے ہوں گے۔ ہم اب بھی کس سے لڑ رہے ہیں؟ نئی نسل کے عسکریت پسند مسلسل کیوں پیدا ہو رہے ہیں اور انہیں تشدد کی طرف کیا کھینچتا ہے؟ شاید سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ دہشت گردی سے کیسے لڑا جائے بلکہ یہ ہے کہ ان تمام برسوں نے ہمیں کیا یہ سکھایا ہے کہ اس سے کیسے نہیں لڑنا چاہیے۔

دہشت گردوں کو پسپا کیا جا سکتا ہے۔ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد قومی ردعمل نے صورت حال کا رخ بدل دیا تھا۔ مگر جنگ کے کچھ معرکے جیت لینا پوری جنگ جیتنے کے مترادف نہیں۔ دہشت گردی اس وقت لوٹ آتی ہے جب اسے جنم دینے والے عوامل باقی رہتے ہیں۔ اگر پرانے طریقوں پر مزید سختی سے عمل کرنا ہی حل ہوتا تو ہم یہ مسئلہ بہت پہلے حل کر چکے ہوتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمیں کون سے کام چھوڑ دینے چاہییں۔ تین باتیں خاص طور پر نمایاں ہیں۔

پہلی بات، آج کے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کرتے ہوئے کل کے عسکریت پسند پیدا کرنا بند کریں۔ طاقت کا استعمال بعض اوقات ضروری ہوتا ہے لیکن ضرورت سے زیادہ طاقت نہیں۔ اجتماعی سزا، ضمنی نقصانات، من مانی گرفتاریاں اور لوگوں کی تذلیل ان ہی برادریوں کو ہم سے دور کرتی ہیں جن کے اعتماد کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ ناقص پولیسنگ اور سخت گیر سکیورٹی آپریشن ایک دہشت گرد کو تو ختم کر سکتے ہیں، مگر اگلے دہشت گرد کی پیدائش میں مددگار بن سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری بات، انتخابی اور سیاسی مفادات پر مبنی انسدادِ دہشت گردی بند کریں۔ سہولت اور مفاد کے مطابق ’اچھے‘ اور ’برے‘ عسکریت پسندوں کی کوئی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسی تفریق کی بڑی قیمت ادا کر چکا ہے۔ اسی طرح انسداد دہشت گردی کو سیاسی انجینئرنگ کا آلہ بھی نہیں بننا چاہیے۔ پولیس کو ایک دن سیاسی کشمکش میں جھونک کر اگلے دن یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے درکار عوامی اعتماد حاصل کر لے گی۔

تیسری بات، قانون کو نظرانداز کرنے والے شارٹ کٹس اختیار کرنا بند کریں۔ ماورائے عدالت طریقے بظاہر سخت اور مؤثر دکھائی دے سکتے ہیں لیکن وہ ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب تفتیش ناکام ہو، گواہوں کو دھمکایا جائے، استغاثہ کمزور ہو اور مقدمات ختم ہو جائیں تو اگلا آپریشن صرف اسی ناکامی کے چکر کو دوبارہ شروع کرتا ہے۔ یہ حکمت عملی نہیں بلکہ ناکامی کی ری سائیکلنگ ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ بندوق سے آگے بھی دیکھا جائے۔ عسکریت پسندی کو محرومی، کمزور طرزِ حکمرانی، ناانصافی، انتہا پسند بیانیے اور مواقع کی کمی غذا فراہم کرتے ہیں۔ عسکریت پسند کو ختم کر کے شکایت اور محرومی کی وجوہات کو برقرار رکھنا صرف گھڑی کو دوبارہ صفر پر لانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح کامیابی کو صرف مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد سے بھی نہیں ناپنا چاہیے۔ ہم سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں دہشت گردوں کے خاتمے کی خبریں سنتے ہیں۔ مگر ایک تکلیف دہ سوال باقی رہتا ہے: اگر دہشت گردوں کو مار دینا ہی کافی ہوتا تو دہشت گردی بار بار واپس کیوں آتی؟

شہادت کے بارے میں بھی ہمیں ازسرِنو سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم بجا طور پر شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، لیکن اچھی قیادت کا مطلب یہ بھی ہے کہ مشن کی تکمیل کے بعد اہلکاروں کو زندہ واپس لایا جائے۔ ہر بڑے حملے کے بعد بے لاگ جائزہ ہونا چاہیے: کیا ناکام ہوا، اسے کون درست کرے گا، اور کب تک کرے گا؟ اگر ہم ناکامی سے سبق نہیں سیکھتے تو ہم دراصل اس کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔

بیرونی محفوظ پناہ گاہیں یقیناً اہم ہیں، لیکن وہ ہر چیز کی وضاحت نہیں کرتیں۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ ملک کے اندر کیا چیز بار بار ناکام ہو رہی ہے۔ جب سول اداروں کی صلاحیت جواب دے جائے تو فوج کو کارروائی کرنا پڑتی ہے مگر آخری مقصد قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پولیس کی قیادت میں نظام کی بحالی ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کو پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا سے نہیں بلکہ مؤثر انٹیلی جنس، پیشہ ورانہ پولیسنگ، قابل اعتماد انصاف اور ریاست پر اعتماد رکھنے والے شہریوں سے شکست دی جاتی ہے۔

ہمیں اپنی کچھ پسندیدہ اصطلاحات بھی ترک کر دینی چاہییں۔ ہمیں بارہا بتایا گیا کہ دہشت گردوں کی ’کمر توڑ دی گئی ہے‘، ’صورت حال کا رخ بدل چکا ہے‘، نیٹ ورکس ’توڑ دیے گئے ہیں‘ اور اس خطرے کو ’فیصلہ کن انداز میں کچل دیا جائے گا۔‘ حالیہ دنوں میں کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران پولیس مسجد پر ہونے والا حملہ، جس میں 23 افراد جان سے گئے، اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ سبق سادہ ہے: دہشت گردی کو صفتوں اور دعوؤں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان میں نہ ہمت کی کمی ہے اور نہ منصوبوں کی۔ جس چیز کی کمی ہے وہ قانون کی حکمرانی، پیشہ ورانہ اداروں اور اچھی طرز حکمرانی کے ذریعے مستقل مزاجی سے اپنے راستے پر قائم رہنے کا نظم و ضبط ہے۔ ہم اکثر بہت جلد فتح کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس کے نتائج بعد میں سامنے آتے ہیں: ضائع ہونے والی جانوں، بکھرتی برادریوں اور ان مقدمات کی صورت میں جو کبھی سزا تک نہیں پہنچتے۔

حال ہی میں میں نے بین گازور کی کتاب ’اے شارٹ ہسٹری آف دی ورلڈ اِن 50 فیلئرز‘ پڑھی۔ اس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ناکامی تب ہی قیمتی بنتی ہے جب ہم اس سے سیکھیں۔ یا پھر چارلس ڈارون سے منسوب ایک معروف مفہوم کے مطابق، بقا سب سے طاقتور یا سب سے ذہین کو نہیں ملتی بلکہ اسے ملتی ہے جو تبدیلی کے مطابق خود کو سب سے بہتر ڈھال لے۔

انسدادِ دہشت گردی تقاضا کرتی ہے: سیکھو، خود کو ڈھالو، ورنہ دوبارہ ناکام ہو جاؤ۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم کتنی سخت ضرب لگاتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ان حالات کو تبدیل کرتے ہیں جو دہشت گردی کو دوبارہ جنم دیتے ہیں۔ ورنہ ہم ایک ہی جنگ، ایک ہی طریقے سے، بار بار لڑتے رہیں گے۔

مصنف سابق وفاقی سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور اقوامِ متحدہ کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں اور جامعات میں قانون اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔

یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔ یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *