جب دادی کے وظیفے پر موکل سامنے کھڑا ہوتا تھا

ایک مرتبہ دادی نے وظیفہ پڑھا، چالیس اکتالیس دن کا، اب مانا جاتا تھا کہ یہ پورا کر لیا تو موکل آ جائے گا ۔۔۔ بھائی وہ آ بھی گیا۔

دادی کہتی تھیں چھن چھن  کی سی آواز آئی ایک دو دفعہ، لیکن وہ پڑھتی رہیں، جب مستقل آنے لگی تو اٹھ کے دیکھا، سامنے دروازے کی جالی پہ گرگٹ جیسا کوئی بڑا سا جانور تھا.

وہ ایسے پاؤں رکھے ہوئے تھا جیسے اندر آنے کی کوشش کر رہا ہو۔ دادی ڈر گئیں، وظیفہ چھوڑ کے آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دی۔ جانور چلا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اب یہ جینوئن قصہ ہے، مجھے آدھا ادھورا یاد تھا تو سیما باجی (میری پھپھو) سے پوچھا، انہوں نے مزید کنفرم کر دیا کہ ’ہاں امی کا خیال تھا کہ وہ موکل تھا اور بعد میں اسی دن انہوں نے کہا تھا کہ ہائے، میں اگر نہ ڈرتی تو اس سے کچھ مانگ ہی لیتی۔‘

تو میرے بچپن تک جن، بھوت، پریاں، روحیں، موکل، جادو وغیرہ بڑے عام تھے کیونکہ وہ زمانہ ٹیکسٹ کا تھا یا منہ سے کہی گئی بات کا۔

اب دیکھیں یہ کتنا آسان ہو گا میرے لیے بتانا کہ 1960 کی ایک اندھیری سیاہ رات کو میں سائیکل پہ جا رہا تھا، راستے میں بکری کا بچہ نظر آیا، میں نے پیچھے کیرئیر پہ بٹھا کر اس کو باندھ دیا۔

تھوڑا آگے گیا تو سائیکل چلانی مشکل ہو رہی تھی ۔۔۔ مڑ کے جو دیکھتا ہوں تو اسی بکری کے بچے کی ٹانگیں زمین پہ دور تک گھسٹتی آ رہی تھیں۔

آج کل یہ دعویٰ کرنا مشکل ہے۔ ہر گلی، محلے، سڑک پہ بتیاں لگی ہیں یہ بڑی بڑی، پھر کیمرے بھی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ اب ہم لوگ اس چیز پہ یقین ہی نہیں کرتے جس کو دیکھا نہ جا سکے۔

تو یہی مسئلہ فلم والوں کو بھی درپیش ہے۔ آپ غور کریں، جتنی فلمیں یا نیٹ فلکس سیریز آپ دیکھتے ہیں ان میں سے عموماً دلچسپ وہی لگتی ہیں جو ڈیجیٹل وقت سے پہلے کی ہوں۔

ارطغرل، بریجرٹن، گیم آف تھرونز، پیکی بلائنڈرز، کوئینز گیمبٹ ۔۔۔ بے شمار نام ہیں اور مزے کی بات یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تار والے فون تک کہانی پہنچتی ہے ۔۔۔ جدھر کمیونیکیشن آسان ہوئی وہاں پلاٹ ختم۔

فونوں کی تاریں کٹ سکتی تھیں، خط گم ہو سکتے تھے اور پیچھے جائیں تو کیمرے کا وجود ہی نہیں تھا، لوگوں کی سوچ سائنسی نہیں ہوئی تھی، راز بندوں کے مرنے تک قید رہ سکتا تھا، زندگی کی رفتار سست ترین ہو سکتی تھی، کھوجیوں کو سراغ لگانے میں چار قسطیں لگ سکتی تھیں ۔۔۔ مطلب مارجن تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سستے میں کچھ بنانا ہے تو سیونٹیز میں کر لیں، مہنگے سیٹ لگانے ہیں تو 1920 سے پہلے قبل مسیح تک جدھر مرضی کی کہانی بنا لیں مگر 1980 کے بعد کہانی تباہ دے!

ایک مسئلہ اور بھی ہے، 2010 کا سین اگر کسی فلم میں ہے، آج وہ کتنا ریلیوینٹ ہو گا؟

گاڑیاں، موبائل فون کے ماڈل، تب کی سوشل میڈیا ایپس ۔۔۔ تو وہ سدا بہار نہیں رہے گی ۔۔۔ لیکن ماضی کا سبجیکٹ لیں تو بھیا آپ امر ہیں کیونکہ وہ سب کچھ جما ہوا ہے اپنی جگہ پر، جو ہو گیا وہ بس ہو گیا۔

تو کُل ملا کر یہ سمجھیے کہ ٹیکنالوجی ہم سے کہانی چھین چکی ہے اور ہم عجیب بے سُری حقیقتوں کے درمیان پھنس چکے ہیں۔

آج کل اگر میں بچہ ہوتا اور دادی کوئی وظیفہ شروع کرتیں تو شاید انہیں بتائے بغیر میں دو تین کیمرے لگا دیتا ۔۔۔ پھر جو موکل آتا تو بنی بنائی فلم یوٹیوب پہ چل جاتی ۔۔۔ جب وہ ملینز ہٹ کرتی تو کوئی بندہ ایک اور ویڈیو ڈال دیتا کہ موکل وغیرہ کچھ نہیں، اصل میں لمبی سی دم والی گوہ آئی تھی جالی پہ ۔۔۔ قصہ ختم پیسہ ہضم! لیکن کہانی مر جانی تھی۔

پیاریو ۔۔۔ ہماری نسل بغیر وژولز کے یقین رکھنے والی تھی، جسے نہیں دیکھا اس پر یقین کر لیا ۔۔۔ کہانیاں ہی کہانیاں، مزے ہی مزے!

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *