کسان اتحاد کے ایک دھڑے نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف کوئٹہ پریس کلب سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا آغاز کیا ہے لیکن کسان اتحاد کے دوسرے دھڑے اور بلوچستان کی تنظیمیں اس میں شامل نہ ہونے کا اعلان کر چکی ہیں۔
پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی کاشت کاروں کو سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس میں سب سے زیادہ گنے کی قیمت اور شوگر ملوں سے گنے کے کاشت کاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر اور گندم کی خریداری پر تحفظات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کھاد، بیج، بجلی کے بلوں کے معاملے پر کسان مشکلات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کی امید لے کر کسان تنظیمیں گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف ادوار میں احتجاج بھی کرتی رہی ہیں۔
انہیں مسائل کو حل کرانے کے لیے کسان اتحاد خالد باٹھ گروپ نے آج یعنی 25 ستمبر کو کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کی تیاری کی ہے۔ لیکن اس بار اس میں دیگر کسان تنظیمیں اس میں شامل نہیں ہو رہیں۔
چیئرمین کسان اتحاد خالد باٹھ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’کاشت کاروں کو سب سے زیادہ مسائل پنجاب میں درپیش ہیں، جنہیں حل کرنے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سنجیدہ ہیں اور نہ کسانوں کی شکایات سنتی ہیں اس لیے ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفے کا مطالبے کے ساتھ آج کوئٹہ پریس کلب سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں۔‘
دیگر تنظیمیں لانگ مارچ میں شامل کیوں نہیں؟
کسان اتحاد کے دوسرے بڑے دھڑے کے صدر ملک خالد کھوکھر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’کسانوں کو جن سنجیدہ مشکلات کا سامنا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
حکومت ہمارے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ بھی دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اس کا حل سڑکیں بلاک کرنا یا تحریک چلانا نہیں بلکہ مل بیٹھ کر قابل عمل لائحہ عمل بنانے میں ہے۔ ہماری تنظیم یا بلوچستان سمیت کسی بھی صوبائی تنظیم کا کوئٹہ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان کے بقول: ’کیونکہ کسان اتحاد کے نام سے سیاسی جماعت بنانے والوں نے یہ سیاسی حکمت عملی بنائی ہے، جس کا مقصد کسانوں کی مشکلات ختم کرنے کی بجائے ان کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ جو سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے وہ کسانوں کی نمائندگی کیسے کر سکتی ہے۔‘
بلوچستان کی کسان تنظیموں نے بھی اس لانگ مارچ میں شرکت نہیں کی، نہ ہی کسانوں کی وہاں سے نمائندہ تنظیم کے کسی عہدیدار نے اس کے حق میں کوئی اعلان کیا ہے۔
خالد کھوکھر کے بقول: ’کوئٹہ میں لانگ مارچ سے بلوچستان کے کسان بھی متفق نہیں ہیں، نہ ہی وہ اس میں شریک ہو رہے ہیں۔ کیونکہ اس وقت ملک میں دیگر کئی مسائل موجود ہیں، امن و امان کی صورت حال بھی واضح ہے۔ ایسے حالات میں سڑکوں پر نکلنا کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔‘
لیکن لانگ مارچ کی قیادت کرنے والے خالد باٹھ کے بقول: ’ہم کسان اتحاد کے پلیٹ فارم سے لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کسانوں کے مسائل حل کیے جائیں اور ہمیں ریلیف دینے میں ناکامی پر وزیر اعلیٰ پنجاب مستعفی ہو جائیں۔ یہ لانگ مارچ کوئٹہ سے براستہ ڈیرہ اسماعیل خان اسلام آباد پہنچے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لانگ مارچ پنجاب کی حدود میں شامل نہیں ہوگا۔ ملتان سے ہمارے اتحادی کسانوں کی ریلی وہاں سے نکل کر ہمارے ساتھ راستے میں شامل ہو جائے گی۔‘
لانگ مارچ میں مشکلات
خالد باٹھ نے بتایا کہ ’لانگ مارچ روکنے کے لیے کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ راستے میں بھی رکاوٹوں کی اطلاعات ہیں۔ لیکن ہم اس صورت حال سے گھبرانے والے نہیں، لانگ مارچ ضرور روانہ ہوگا۔
ہم نے سب کو دعوت دی ہے، جو کسان چاہے اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ ہمارے اپنے ساتھیوں کی بڑی تعداد اس میں مختلف علاقوں سے شریک ہو رہی ہے۔ اس کی منزل اسلام آباد ہے، وہیں پہنچ کر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔‘
ملک خالد کھوکھر کے بقول: ’ایک طرف ہمارے سکیورٹی اہلکار دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بعض سیاسی جماعتیں بھی لانگ مارچ کر رہی ہیں۔ پہلے جماعت اسلامی کا لانگ مارچ شروع ہوا جو ملتان رکا ہوا ہے۔ دوسرا پی ٹی آئی نے بھی 27 کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
سڑکیں بند ہیں، جگہ جگہ کنٹینر پڑے ہیں، ان حالات میں کسانوں کو سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہیے۔ کیونکہ ہم مسائل کا حل چاہتے ہیں، کسی کی سیاسی آلہ کاری کا سبب بننے سے گریز کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہم کل یعنی 26 ستمبر کو پریس کانفرنس کر رہے ہیں جس میں ہم تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی دعوت دیں گے۔
ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا پلیٹ فارم حاضر ہے، آئیں تمام سیاسی جماعتیں بیٹھیں اور حکومت سے اپنے معاملات گفتگو کے ذریعے حل کریں۔ جب سیاسی استحکام ہوگا تب ہی کسانوں کے مسائل بھی سنے جائیں گے اور انہیں حل کرنے کی حکمت عملی بھی بنائی جا سکے گی۔ ہر مسئلے کا حل احتجاج یا تحریک نہیں ہوتا بلکہ گفتگو سے ہر معاملہ طے ہو سکتا ہے۔‘
