جن مسائل کا سامنا پاکستان کو اپنے ہمسائے افغانستان سے ہیں کچھ اس سے ملتے جلتے مشکلات سعودی عرب کو اپنے ہمسائے یمن سے بھی در پیش ہیں۔
افغانستان کی طرح یمن میں بھی قبائلی، نسلی اور مسلکی تقسیم نے خاصی گنجلک صورت حال پیدا کی ہوئی ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد عثمانی سلطنت ختم ہوئی تو یمن پر زیدی اماموں کی حکومت قائم ہو گئی جو 1920 سے 1962 تک قائم رہی۔ اس کے بعد ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں شمالی یمن میں الگ حکومت قائم ہو گئی۔ جنوبی یمن پر بدستور انگریز قابض رہے جنہیں 1967 میں اقتدار چھوڑنا پڑا تو جنوبی یمن آزاد ریاست بن گیا جہاں جلد ہی اقتدار سوشلسٹ گروپوں نے حاصل کر لیا۔
اس طرح شمالی اور جنوبی یمن 1990 تک دو الگ الگ ریاستوں کی صورت میں موجود رہے۔ 22 مئی 1990 کو شمالی اور جنوبی یمن کا اتحاد ہو گیا۔ عبداللہ صالح یمن کے صدر بنے جو 2011 تک مسند نشین رہے۔ 2000 کے آغاز سے یمن کے لیے دو مسائل پیدا ہوئے ایک القاعدہ ور دوسرا حوثی، دو بار مسلح بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد بالآخر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر حوثیوں نے قبضہ کر لیا۔
یوں یمن ایک بار پھر دو حصوں میں بٹ گیا۔ تب سے اب تک وقفے وقفے سے یمن میں خانہ جنگی ہو رہی ہے جو اب ایک بڑے بحران کی صورت میں پورے خطے کو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے پوری دنیا میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
تاہم جو چیز یمن کو افغانستان سے مختلف بناتی ہے وہ اس کی قدیم تہذیب ہے جہاں تمدن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ یہاں شہری آبادیاں تھیں شاہی محل تھے۔ علوم و فنون تھے۔ رسم الخط پر مبنی ایک زبان تھی۔ دنیا کے مختلف خطوں سے اس کی تجارت تھی۔ ایسا حیرت انگیز آبپاشی کا نظام تھا جس نے صحرا عرب کو نخلستان میں بدل ڈالا تھا۔ یہاں کی مشہور خوشبوئیں روم اور ہندوستان تک پہنچتی تھیں۔ یہ سب کچھ آج سے کم و بیش 2800 سال پہلے ہو رہا تھا۔ قرآن مجید نے اس قوم میں ایک ایسی خاتون حکمران کا ذکر کیا ہے جو مشاورت سے فیصلے کرتی ہے اور قوم میں انصاف کو قائم رکھتی ہے۔
جہاں قبل از مسیح ایک خاتون نے حکمرانی کی
یہ غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح کا واقعہ ہے۔ جب یروشلم پر حضرت سلیمان کی حکومت قائم تھی۔ اس وقت یمن پر ایک طاقتور مگر انصاف پسند خاتون ملکہ سبا کی حکومت تھی۔ قرآن کی سورۃ النمل میں ملکہ سبا کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق ایک بار حضرت سلیمان جن کو پرندوں کی بولیاں سمجھنے کی قدرت عطا کی گئی تھی انہوں نے اپنے لشکر میں سے ہد ہد نامی پرندے کو غائب پایا جس پر وہ متفکر ہوئے۔ جب وہ واپس آیا تو اس سے باز پرس کی کہ تم کہاں گئے تھے۔ ہد ہد نے جواب دیا کہ میں سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں (سبا یمن کا پرانا نام تھا)۔
وہاں ایک عورت بادشاہت کرتی ہے جس کی سلطنت عالی شان ہے اور اس کا بہت بڑا تخت ہے لیکن وہ اللہ کو نہیں سورج کو پوجتی ہیں۔ شیطان نے انہیں راہِ حق سے روکا ہوا ہے۔ پھر حضرت سلیمان کی جانب سے ہدہد ملکہ کو ایک خط پہنچاتا ہے جس میں انہیں اللہ کی اطاعت کی دعوت دے کر حضرت سلیمان کے دربار میں طلب کیا جاتا ہے۔
ملکہ سبا یہ خط اپنے درباریوں کو دکھا کر ان سے مشورہ کرتی ہے تو بعض لوگ انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہاں جانے سے آپ کی بے عزتی ہو گی۔ جس پر ملکہ سبا پہلے حضرت سلیمان کے دربار میں تحفے تحائف بھیجتی ہیں، جب ایلچی یہ تحفے لے کر حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچتا ہے تو وہاں سے جواب آتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی ہر نعمت ہے بہتر یہ ہی ہے کہ آپ خود تشریف لے آئیں نہیں تو ہم لشکر بھیج دیں گے۔ جس پر ملکہ سبا خود حضرت سلیمان کے دربار میں حاضر ہوتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب ہوتا یہ ہے کہ حضرت سلیمان کے دربار میں ایک طاقتور جن ملکہ سبا کے پہنچنے سے پہلے ملکہ کا تخت دربار میں پہنچا دیتا ہے جسے دیکھ کر ملکہ سبا حیران ہو جاتی ہیں اور فوراً ایمان لے آتی ہیں۔ یہ واقعہ قرآن سے پہلے مسیحی، یہودی اور حبشی روایات میں بھی مختلف انداز سے آیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یمن کی تہذیب نہ صرف قدیم ہے بلکہ اسے جزیرہ نما عرب کے اندر انفرادیت حاصل رہی ہے۔ یمن کی نادر سبا، معین، قتبان، حضر موت، اوسان اور حمیر جیسی ریاستیں مختلف ادوار میں تاریخ کے صفحات پر ابھریں اور پھر مٹ گئیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ ان ریاستوں کی قدامت ایک ہزار سال قبل مسیح تک بیان کرتے ہیں۔
آبپاشی کا جدید نظام
دارالحکومت صنعا سے مآرب کا فاصلہ تقریباً 200 کلومیٹر ہے۔ جہاں آبپاشی کے ایک ہزار قبل مسیح سے موجود قدیم نظام کے آثار کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہوا ہے جبکہ بعض ماہرین ان آثار کو تین ہزار قبل مسیح تک لے جاتے ہیں۔ اس نظام میں بارشوں کا پانی ایک بڑے ڈیم کے اندر جمع کر لیا جاتا تھا جہاں سے نہریں نکال کر زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ اس سے نہ صرف صحرائے عرب ایک نخلستان میں بدل گیا تھا بلکہ یمن ایک خوشحال ریاست بھی بن گئی تھی جہاں اناج کی فراوانی تھی۔
مآرب کا ڈیم اس حوالے سے منفرد ہے کہ کسی اور قدیم تہذیب میں آبپاشی کا اس قدر منفرد نظام نہیں ملتا۔ ہزاروں سال پہلے کس طرح انسانوں نے اتنا بڑا منصوبہ بنایا اور اسے پایہ تکمیل تک بھی پہنچایا جس سے 100 مربع کلومیٹر کا علاقے سیراب ہوا۔ یہ صرف قدیم یمنیوں کی بے مثال مہارت کا مظہر نہیں تھا بلکہ انہوں نے ہزاروں سال پہلے فوڈ سکیورٹی کے ذریعے ریاستی نظام کو مضبوط سہارا بھی دے دیا تھا۔
پھر یمن اپنی خوشبوؤں کے حوالے سے بھی زمانہ قدیم سے جانا جاتا ہے یہاں لوبان اور مرّ جیسی انتہائی قیمتی خوشبوئیں بنتی تھیں جن کی مانگ اس وقت افریقہ، روم اور ہندوستان تک تھی۔ اپنے وقت کا یہ عظیم منصوبہ بھی کسی موسمی تغیر و تبدل کے نتیجے میں برباد ہو گیا اور یہ بند ٹوٹنے سے جو سیلاب آیا اس نے پوری ایک تہذیب کو ختم کر دیا جس کا ذکر پھر قرآن کی سورۃ سبا میں آیا ہے۔
مآرب کے کتبے
مآرب شہر میں ایک قدیم آوام مندر کے آثار ملے ہیں جسے بعض مورخین ملکہ سبا کا محل بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ محل ہے یا پھر کوئی مذہبی عمارت، اس حوالے سے بحث موجود ہے تاہم اس کی بیضوی شکل کی فصیل جو 375 سے 250 فٹ تک لمبی اور13 میٹر تک بلند تھی۔ اس میں تراشے ہوئے پتھر انتہائی مہارت سے لگائے گئے ہیں۔ یہاں سے ایک اہم کتبہ ملا جس کی قدامت 670 ق م بتائی گئی ہے جس کے مطابق یہ سبائی حکمران یدع ایل دریح کے دور کا ہے جس میں فصیل اور معبد کا ذکر ہے۔
ماہرین آ ثار قدیمہ مآرب شہر کی تاریخ کو اڑھائی ہزار سال پہلے کا ایک ایسا شہر قرار دیتے ہیں جس میں ریاستی و مذہبی نظام موجود تھا۔ جہاں لکھت پڑھت ہوتی تھی۔ یہاں پتھروں اور کانسی سمیت مختلف مواد پر سبائی تحریریں ملتی ہیں جن میں ہزاروں سال پہلے وہاں کے قانون، ریاستی نظام، جنگ اور زراعت کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔
آوام مندر کے قریب ایک وسیع سبائی قبرستان بھی ملا ہے جس میں کئی منزلہ مقبرے بھی ملے ہیں جہاں کانسی، مٹی کے برتن، زیورات، مجسمے اور عود جلانے کے برتن بھی ملے ہیں۔
تقریباً 2700 سال پہلے یمن کی تہذیب اپنے جوبن پر تھی جہاں کی ملکہ سبا کی سلطنت کی عظمت کی گواہی قدیم صحیفوں میں بھی بیان کی جاتی ہے۔ جہاں آبپاشی کا نظام تھا جدید شہر تھے جو دنیا بھر کے ساتھ تجارت کر رہے تھے۔ مگر آج اڑھائی ہزار سال بعد وہی یمن جنگ و جدل کا شکار ہے اور پوری دنیا کے لیے سکیورٹی رسک بن چکا ہے۔

