سائن لینگویج: جب ہاتھوں کے اشارے زبان بن جائیں

کراچی اولڈ سیکریٹریٹ میں ریڑھی لگانے والے عامر کے لیے گاہکوں کی ضروریات سمجھنا روزمرہ کا معمول ہے، لیکن جب کوئی سماعت سے محروم شخص سائن لینگویج میں اپنی ضرورت بتانے آئے تو ہر بات فوراً سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

عامر کے مطابق بعض اوقات اشاروں میں کہی گئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تو وہ سامنے والے شخص کو کاغذ دے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی ضرورت لکھ کر بتا سکے۔

یہ بظاہر ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، لیکن سماعت سے محروم افراد کے لیے روزمرہ زندگی میں ایسے مواقع عام ہیں، جہاں کسی دکان سے چیز خریدنے، بینک میں کام کروانے، ہسپتال میں اپنی تکلیف بتانے یا کسی نئی جگہ پر اپنی ضرورت سمجھانے کے لیے انہیں دوسروں کی مدد لینا پڑ سکتی ہے۔

سائن لینگویج سماعت سے محروم افراد کے لیے رابطے اور اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس زبان کو سمجھنے والے افراد کی محدود تعداد کئی مواقع پر ان کے لیے کمیونیکیشن کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

سائن لینگویج صرف ہاتھوں کے اشارے نہیں

سائن لینگویج ایک بصری زبان ہے جس میں ہاتھوں کی حرکات، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کے ذریعے خیالات، ضروریات اور معلومات کا اظہار کیا جاتا ہے۔

سماعت سے محروم افراد کے لیے یہ زبان رابطے، تعلیم اور اظہار کا اہم ذریعہ ہے، تاہم مشکل اس وقت پیش آتی ہے، جب ان کے سامنے موجود شخص سائن لینگویج سے واقف نہ ہو۔

ایسی صورت میں بات چیت کے لیے کاغذ، موبائل فون یا کسی تیسرے فرد کی مدد لینا پڑ سکتی ہے۔

’سائن لینگویج میں مزید ترقی اور باقاعدہ کرنے کی ضرورت‘

پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈیف کے ڈائریکٹر فرحت اقبال کے مطابق پاکستان میں سائن لینگویج کو مزید ترقی دینے کے ساتھ اس کی وکیبلری بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔

فرحت اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’پاکستان سائن لینگویج کو باقاعدہ (سٹینڈرڈائز) کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔‘

ان کے مطابق وفاق نے اس حوالے سے اقدام کیا ہے اور مختلف صوبوں سے سماعت سے محروم افراد کے رہنماؤں کو اکٹھا کرکے سائن لینگویج کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’جب سماعت سے محروم افراد کے رہنما، جو اس زبان کے صارف ہیں، اپنی زبان کو خود سٹینڈرڈائز کریں گے تو یہ زبان مزید آگے بڑھے گی۔‘

فرحت اقبال کے مطابق سماعت سے محروم افراد کے لیے کمیونیکیشن بیریئر ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سائن لینگویج کی زیادہ سے زیادہ ترویج کی جائے، اسے عام کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ زبان سکھائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز پرائمری سکولز سے بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ عام بچوں کو بھی سائن لینگویج سکھائی جائے اور وہ سماعت سے محروم بچوں کے ساتھ بہتر انداز میں رابطہ کر سکیں۔

سندھ کے محکمہ اطلاعات میں گریڈ 17 کے افسر آصف منیر خود سماعت سے محروم ہیں اور انہیں سرکاری ملازمت کرتے ہوئے 27 سال ہو چکے ہیں۔

وہ اشاروں کی زبان کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں، تاہم ایسی جگہوں پر جہاں لوگ انہیں نہیں جانتے یا سائن لینگویج سے واقف نہیں ہوتے، وہاں کمیونیکیشن میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آصف منیر کی بات ان کی بڑی بیٹی عروج آصف نے سائن لینگویج سے اردو میں منتقل کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’وہ ایسے مواقع پر اپنی بات کو آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر کاغذ پر لکھ کر دیتے ہیں یا موبائل فون اور انٹرنیٹ کی مدد لیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ٹیکنالوجی نے سماعت سے محروم افراد کے لیے رابطے کے کئی مسائل آسان کیے ہیں۔

عروج نے آصف منیر کی ترجمانی کرتے ہوئے بتایا کہ ’ماضی میں جب کی پیڈ والے موبائل فون عام تھے تو کسی سے بات کروانے کے لیے گھر کے کسی فرد یا دوسرے شخص کی مدد لینا پڑتی تھی، لیکن اب موبائل فون کے ذریعے معلومات لکھ کر یا دکھا کر بات سمجھانا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔‘

ان کے مطابق کچھ ایسی جگہیں ہیں جہاں ان کے والد کا پہلے آنا جانا نہیں ہوتا اور لوگ انہیں یا ان کی سائن لینگویج کو نہیں سمجھتے۔

’ایسی صورت میں ابو مجھے کال کر لیتے ہیں۔ میں وہاں موجود لوگوں سے بات کرتی ہوں اور پھر ویڈیو کال کے ذریعے ابو کو سمجھا دیتی ہوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ بینکنگ سیکٹر یا ہسپتال میں ایسی صورت حال زیادہ پیش آتی ہے۔

عروج آصف کے مطابق: ’ہسپتالوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ابو اپنی تکلیف نہیں سمجھا پاتے کہ کیا مسئلہ ہو رہا ہے تو مجھے وہاں جا کر انٹرپریٹ کرنا اور ان کی بات سمجھانا پڑتی ہے۔‘

سندھ میں خصوصی بچوں کے لیے 67 ادارے، تقریباً 20 ہزار طلبہ

سندھ حکومت کے مطابق صوبے بھر میں خصوصی بچوں کے لیے 67 ادارے ہیں، جہاں تقریباً 20 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

حکومت سندھ نے خصوصی بچوں کے لیے 49 ڈیجیٹل کلاس رومز اور 20 سیٹلائٹ سکولز شروع کیے ہیں، جبکہ سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام کا مقصد اساتذہ کی استعداد بڑھانا اور سائن لینگویج کے ذریعے خصوصی تعلیم کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سماعت سے محروم بچوں کی تعلیم اور معاشرے کے ساتھ ان کے رابطے میں سائن لینگویج کے کردار پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

سماعت سے محروم کمیونٹی کی تعلیم روزگار تربیت و حقوق کے لیے کام کرنے والے عرفان ممتاز کہتے ہیں: ’ہماری کمیونٹی کا اصل مسئلہ اشاروں کی زبان نہیں بلکہ اس زبان تک مناسب رسائی کا فقدان ہے، خصوصاً تعلیم اور روزمرہ کی خدمات میں۔‘

انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر اشاروں کی زبان کو فروغ دینے اور اسے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

’عام بچوں کو بھی سائن لینگویج سکھائی جائے‘

فرحت اقبال کے مطابق سائن لینگویج کو صرف سماعت سے محروم افراد تک محدود رکھنے کے بجائے عام بچوں کو بھی ابتدائی عمر سے یہ زبان سکھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر سکولوں میں ابتدائی سطح سے سائن لینگویج سکھانے کا آغاز کیا جائے تو آنے والے برسوں میں سماعت سے محروم افراد اور باقی معاشرے کے درمیان کمیونیکیشن کی رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں۔

آصف منیر کی کہانی میں یہ رکاوٹ ایک مختلف شکل میں نظر آتی ہے، جہاں نئی جگہوں پر سائن لینگویج نہ سمجھنے والے افراد سے بات چیت کے لیے کبھی موبائل فون اور کبھی ان کی بیٹی عروج آصف کو رابطے کا ذریعہ بننا پڑتا ہے۔

دوسری جانب عامر کی ریڑھی پر کاغذ کا ایک ٹکڑا اس مسئلے کی سادہ تصویر پیش کرتا ہے۔

جب ایک زبان دونوں طرف سمجھ میں نہ آئے تو بات سمجھانے کے لیے کاغذ، موبائل فون یا کسی تیسرے شخص کی مدد لینا پڑتی ہے۔

23  ستمبر کو سائن لینگویج کے عالمی دن کے موقعے پر یہ سوال اہم ہے کہ سماعت سے محروم افراد کے لیے رابطے کی زبان کو صرف ان کی کمیونٹی تک محدود رکھا جائے یا اسے معاشرے کے دوسرے افراد تک بھی پہنچایا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *