دارالحکومت میں ایک بار پھر احتجاج اور دھرنوں کا موسم ہے جس کے لیے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں کنٹینرز دکھائی دے رہے ہیں اور ساتھ ہی افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے لانگ مارچ اور احتجاجی دھرنوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جماعت اسلامی نے تو 20 ستمبر سے کراچی سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کی کال دے رکھی ہے۔
اس حوالے سے دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات عروج پر ہیں اور ہر جگہ کنٹینرز موجود ہیں۔
اسلام آباد کے تمام داخلی و خارجی راستے کھلے ہیں، اندرونِ شہر ہر قسم کی ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے، شہری مصدقہ معلومات کے لیے اسلام آباد پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز اور ITP FM 92.4 سے باخبر رہیں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔#WeRIslamabadPolice #ITP #Awareness pic.twitter.com/dBNeCy2p34
— Islamabad Police (@ICT_Police) September 21, 2026
اسلام آباد پولیس نے اس سے ضمن میں ریڈ زون، ہائی سکیورٹی زون اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی طلب کی تھی، جبکہ ساڑھے 23 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کا بھی منصوبہ ہے۔
تاہم اس سب کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف مقامات کی پرانی ویڈیوز شیئر کرنے اور راستوں کی بندش کے حوالے سے افواہیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
اصل حقیقت کیا ہے؟
اسلام آباد پولیس کے مطابق فی الحال شہر کے تمام راستے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مختلف مقامات پر کنٹینرز ضرور موجود ہیں اور احتجاج کے پیشِ نظر داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں، لیکن اسلام آباد پولیس کے مطابق راستوں کی مکمل بندش کا فیصلہ صورت حال کے مطابق کیا جائے گا۔
پولیس اور انتظامیہ کے مطابق اگر احتجاج کے دوران کسی مخصوص راستے کو بند کرنے کی ضرورت پڑی تو ٹریفک پلان کے تحت اسے بند کیا جا سکتا ہے۔
موٹروے کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر تعمیراتی یا مرمتی کام کی وجہ سے عارضی رکاوٹیں یا لین کی بندش ہو سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد جانے والی پوری موٹروے بند کر دی گئی ہے۔
