2350 سال پہلے راولپنڈی کا حکمران قبیلہ آج کس حال میں ہے؟

مری روڈ راولپنڈی پر محلہ وارث خان آتا ہے، جو چوہان راجپوتوں کے نام پر ہے۔

اس قبیلے کے ایک فرد چوہدری ستار خان نے اپنے آبائی قصبے آدڑہ، گوجر خان سے نقل مکانی کر کے موجودہ راولپنڈی کینٹ کے علاقے میں اپنا ڈیرہ ڈال دیا۔ ان ہی کی نسبت سے اسے پہلے چھوٹا آدڑہ اور بعد میں صرف آدڑہ کہا جانے لگا۔

راولپنڈی شہر کبھی سرکلر روڈ کے اندر آباد تھا۔ چوہان راجپوت آدڑہ سے آ کر سرکلر روڈ کے باہر آباد ہوئے تو یہ محلہ زمینداراں یا محلہ چوہدریاں کہلایا جانے لگا، جو بعد میں ان کے نامور فرزند چوہدری وارث خان کے نام سے منسوب ہو گیا۔

شہر میں وارث خان کے چوہدریوں سے قدیم کسی خاندان کی روایات موجود نہیں ہے۔ یہ خاندان کہاں سے آیا تھا؟ اس کی تاریخ کیا کہتی ہے؟ یہ سوال مزید اہم اس وقت ہو جاتا ہے جب تقسیم کے فسادات میں بھی اسی خاندان کا نام آتا ہے۔ آج یہ خاندان کس حال میں ہے؟ سب سے پہلے اس خاندان کی تاریخی روایت کا جائزہ لیتے ہیں:

راولپنڈی کے چوہان

اے ڈی میکلیگن اور ایچ اے روز کی مشترکہ تصنیف ’ذاتوں کا انسائیکلو پیڈیا‘ جس کے مترجم یاسر جواد ہیں، لکھتے ہیں کہ ’یہ راجپوتوں کا مرکزی قبیلہ ہے۔ ہندوستان کے 36 حکمران ایسے گزرے ہیں، جو چوہان راجپوت تھے۔ ہندوستان کے آخری ہندو بادشاہ پرتھوی راج کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا۔‘

یہ پوٹھوہار میں کیسے آئے؟ اس حوالے سے ’وادیٔ پوٹھوہار‘ مرتب رشید نثار میں مقالہ نگار زہرہ جبین لکھتی ہیں: ’پانی پت کی لڑائی میں رائے پتھورا کی شکست کے بعد حسبِ دستور سلطان غوری، راجہ کے لواحقین کو قید کر کے غزنی لے کر جا رہے تھے۔ اس میں ایک سہولت یہ بتائی گئی کہ جو بھی راستے میں اسلام قبول کر لے گا اسے رہا کر دیا جائے گا۔ ملک راج جو کہ پرتھوی راج کا بھائی بند تھا اس نے کوہستانِ نمک میں ڈومیلی کے مقام پر اسلام قبول کر لیا۔‘

پرتھوی راج کی حکومت میں حصہ دار ہونے کی نسبت سے وہ ادھی راج کہلاتا تھا۔ اس کا یہ لقب برقرار رہا اور اسے کنبے سمیت آزاد کر دیا گیا۔ کوہستان نمک میں بڑالی نامی جگہ پر اس نے اپنی ایک جاگیر بنا لی۔ ’ایک روایت ہے کہ ادھی راج کی نسبت سے لفظ آدڑہ بنا جو گوجر خان کے چوہان راج پوتوں کا ایک گاؤں ہے۔‘

تاہم سنسکرت کی ڈکشنری میں لفظ آدڑہ کے قریب ترین لفظ آردرہ ہے، جس کے معنی پانی والی زمین ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ اسی سے یہ لفظ آدڑہ وجود میں آیا ہے۔

تاریخِ راولپنڈی و تاریخِ پاکستان کے مصنف راجہ عارف منہاس لکھتے ہیں کہ ’بھٹی راجپوتوں کا ایک سردار است پال جس کی حکومت غزنی تک تھی۔ اس کی اولاد میں ایک راجہ گج پت تھا جس نے موجودہ راولپنڈی کے مقام پر ایک چھوٹا سا شہر بنایا، جس کا نام اس نے اپنے نام کی نسبت سے گجنی پور رکھا۔ اس نے یہ علاقہ چوہان راجپوتوں سے چھینا تھا۔ سکندر جب ٹیکسلا سے راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوا تو یہاں چوہان راجپوتوں کی حکومت تھی جو کہ راجہ امبھی کے باج گزار تھے۔‘

چوہان راجپوتوں کے حوالے سے دو الگ الگ روایتیں ملتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ یہاں قبل از مسیح سے آباد ہیں اور دوسری یہ کہ ان کی نسل ادھی راج سے چلی ہے۔

چوہان راجپوتوں کا راولپنڈی میں ارتقا

چوہدری لال خان جو راولپنڈی کے آدڑہ محلے میں چوہانوں کے جدِ امجد تھے ان کی بارہویں پشت میں چوہدری ستار خان موجودہ وارث خان میں آباد ہوئے۔ جو وارث خان کے دادا تھے۔

ان کے پڑپوتے چوہدری انعام ظفر جو کہ عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی نائب صدر بھی ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمارے خاندان کی تمام پشتوں کی قبریں ہمارے آبائی قبرستان میں موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر کا سب سے قدیمی خاندان ہمارا ہے۔ ہم شہر میں اس وقت سے مسلم لیگ کے بھی وارث ہیں جب قائد اعظم یہاں آئے تھے اور میرے دادا چوہدری ظفرالحق 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔

’ان کے بعد ان کی سیاسی وراثت کو ان کے بیٹے نوازالحق نے آگے بڑھایا اور وہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پی پی ون سے پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ ان ہی انتخابات میں چوہدری ظفرالحق کی بھتیجی بیگم شمع طالب چوہدری بھی خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم پی اے بنی تھیں۔ اس سے پہلے نواز الحق اور ان کے بھائی چوہدری اکرام الحق میونسپل کارپوریشن میں بھی کئی بار ممبر منتخب ہوئے، نواز الحق میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر بھی رہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حافظ عبد الرشید جو راولپنڈی کے ایک بزرگ تھے وہ تقسیم سے پہلے کی سیاسی منظر کشی کرتے ہوئے چوہان راجپوتوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’راولپنڈی میونسپلٹی عرصہ دراز تک چند خاندانوں کی جاگیر بنی رہی۔ سکھوں میں ملک موہن سنگھ اس کے تاحیات صدر ہو کر رہ گئے۔ بڑے عرصے بعد بابو پرتھوی چند نے صدارت پر قبضہ کیا۔ ہندو، سکھ  ممبر عام طور پر ازلی و ابدی ہو کر رہ گئے۔ اسی طرح مسلمانوں میں چوہدریوں کا خاندان میونسپلٹی کا اجارہ دار تھا۔ چوہدری وارث خان، چوہدری شاہ داد خان اور چوہدری گلسراج تمام عمر ہی میونسپلٹی پر چھائے رہے۔

’چوہدری خاندان کے تعلقات شہر کے ہندو سکھوں کے ساتھ خاصے گہرے تھے اور اکثر ہندو خاندان ان سے دبتے بھی تھے۔ چوہدری مولاداد چوہان سابق صدر اسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔‘

 چوہدری وارث خان کے پوتے محمد عارف چوہدری جو کہ پولیس میں ڈی آئی جی کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں، ان کی عمر 84 سال ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیا، جس میں ان کی معاونت ان کے بیٹے عثمان عارف چوہان نے کی، جو تقسیم سے پہلے اپنے خاندان کی تاریخ سے بخوبی آگاہ ہیں۔

چوہدری عارف نے بتایا کہ ’راولپنڈی شہر میں سرکلر روڈ کے باہر ہمارے خاندان کی 100 مربع زمین تھی اور ہم راولپنڈی کے سب سے بڑے زمیندار تھے۔ ملکھا سنگھ تھئے پوریہ نے ہمارے بزرگ چوہدری مدد خان کو کوتوالِ شہر بنایا تھا، جن کا دربار کوتوالی میں لگا کرتا تھا۔ جب انگریز آئے تو چوہدری مدد خان نے انگریزوں کی مخالفت کی، اس لیے ہمارے خاندان کو کافی زمینوں سے محروم ہونا پڑا۔ مکھا سنگھ سٹیٹ والی زمین ہم نے چوہدری مکھا سنگھ کو بیچ دی جس نے اسے مکھا سنگھ سٹیٹ کا نام دیا۔

کلر بیدیاں والے کھیم سنگھ بیدی جن کا تعلق بابا گرو نانک کے خاندان سے تھا، شہر میں ان کے کافی مرید تھے جب وہ  شہر میں آتے تھے تو ان کے پاس یہاں رہنے کو جگہ نہیں تھی۔ انہیں ہم نے ناز سینیما کی جیولری مارکیٹ کے پیچھے والی جگہ بیچی تھی۔

میرے دادا چوہدری وارث خان نے انگریز دور میں راولپنڈی لپروسی ہسپتال کے لیے 100 کنال زمین عطیہ کی تھی، تب یہاں جلدی بیماریاں عام تھیں۔ انگریزوں کے ساتھ دینے میں سجھان سنگھ فیملی بازی لے گئی حالانکہ وہ ہمارے مزارعے تھے لیکن انگریزوں نے انہیں بہت نوازا اور وہ شہر کا سب سے امیر خاندان بن کر ابھرے۔

راولپنڈی کے پہلے میونسپل انتخابات میں بابو پرتھوی چند چڈھا چیئرمین بنائے گئے تھے جبکہ بعد میں چوہدری وارث خان پہلے مسلمان چیئرمین بنے۔ ان کے ساتھ چوہدری وارث خان کے چھوٹے بھائی چوہدری گل سراج پہلے ممبر اور بعد میں چیئرمین بنے۔ انہیں اعزازی مجسٹریٹ کا درجہ بھی ملا۔ چوہدری وارث خان کا انتقال 1924 میں ہوا۔ ان کے بعد ان کے بھائی چوہدری شاہ داد خان بھی میونسپل کمیٹی کے وائس چیئرمین رہے۔ تقسیم کے بعد چوہدری ظفر الحق ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہے۔

’پھر مارشل آیا تو بی ڈی الیکشن میں بھی چوہدری گل سراج نے اپنے بھتیجے چوہدری ظفرالحق کو سپورٹ کیا جو اس سے پہلے 1946 کے انتخابات میں یونینسٹ پارٹی کے یوسف خان گولڑہ کو شکست دے کر ایم پی بنے تھے۔‘

چوہدری ظفرالحق کے سب سے بڑے بیٹے کا نام چوہدری منظورالحق چوہان تھا۔ وہ ایس ایس پی پولیس رہے۔ ان کے تین بیٹے چوہدری وقار ظفر، میجر(ر) چوہدری وارث خان اور شہریار چوہان ہیں۔

چوہدری وارث خان اور ان کے بڑے بھائی چوہدری شاہ داد خان کی پیر مہر علی شاہ سے عقیدت تھی۔ سید ضمیر جعفری نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’وہ چوہدری وارث خان کی گود میں بیٹھ کر گولڑہ شریف میں قوالی سنا کرتے تھے۔ اس وقت کانگریس راولپنڈی کے رہنما لالہ دیو راج آنند تھے جن کے ہاں نہرو بھی آتے تھے وہ بھی ہمارے بزرگوں کے دوست تھے۔ یہ بھی ڈھائی گھڑیئے کھتری تھے جو سالٹ رینج سے آئے تھے۔ من موہن سنگھ بھی کوہلی تھے، سوری، چڈھا، ساہنی اور سیٹھی یہ سب کھتریوں کی بڑی ذاتیں ہیں جو سالٹ رینج سے پنڈی آئے کیونکہ یہاں پر انگریزوں کے آنے کے بعد کاروباری مواقع پیدا ہوئے تھے۔ کلکتہ دفتر بن گیا تھا جو ناردرن کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر تھا۔‘

تقسیم کے فسادات میں چوہانوں کا کردار

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ 4 مارچ 1947 کو پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر ماسٹر تارا سنگھ نے کرپان لہرا کر کہا تھا کہ ’جو مانگے گا پاکستان، اسے دیں گے قبرستان۔‘ اس نعرے نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا اور اسی شام پہلے لاہور، پھر راولپنڈی اور ملتان میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔

لیکن یہاں ایک اور مکالمہ تاریخ سے محو ہے جو اس وقت کے دو پنڈی والوں کے درمیان پنجاب اسمبلی کی ان ہی سیڑھیوں پر ہوا تھا۔ جب ماسٹر تارا سنگھ کرپان لہرا رہے تھے تو چوہدری ظفرالحق غصے سے ان کے سامنے آئے اور تارا سنگھ کو للکارتے ہوئے کہا تھا: ’اوے تاریا! توں مینوں جاندا اے ناں۔‘

 وارث خان میٹرو سٹاپ پر چوہدری وارث خان کے بھتیجے چوہدری مولاداد چوہان کی ایک بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ بیٹھک کی جگہ تو اب پلازوں نے لے لی ہے مگر وہ تختی آج بھی یہاں موجود ہے جس پر کنندہ ہے کہ ’یہ جگہ مولا داد چوہان کی بیٹھک تھی، تقسیم کے فسادات میں یہ جگہ ہندوؤں اور سکھوں کے لیے جائے پناہ تھی۔‘

اسی طرح کا ایک واقعہ ڈاکٹر منیرالدین احمد نے اپنے افسانے ’ملوک سنگھ کا پوتا‘ میں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر منیر ہمبرگ یونیورسٹی جرمنی سے وابستہ رہے۔ وہ 1934 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنے افسانے میں لکھتے ہیں: ’لٹھ برداروں کا ایک گروہ ہاتھ میں تیل کی بوتلیں اٹھائے بڑھ رہا تھا، وہ ایک ہندو کے مکان کو آگ لگانا چاہتے تھے کہ اسی اثنا میں چوہدری مولاداد چوہان بڑی گرج دار آواز کے ساتھ سامنے آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ ’جو کوئی میرے ہمسائے کے مکان کو آگ لگائے گا، اسے پہلے میری لاش پر سے گزرنا پڑے گا۔‘

چوہدری مولاداد چوہان، چوہدری وارث خان کے بھتیجے اور چوہدری شاہ داد خان کے بیٹے تھے وہ رئیس بلدیہ بھی رہے۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے چوہدری حق نواز میونسپل کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ چوہدری انعام ظفر نے بتایا کہ ’تقسیم کے وقت انہیں چاقو لگنے سے شہر میں فسادات شروع ہوئے، لیکن چوہدری مولا داد نے جلتی پر تیل نہیں بلکہ پانی ڈالا اور دونوں طرف کے فسادیوں کو خبر دار کیا۔‘

تقسیم کے فسادات کے وقت جب ہندو اور سکھوں کا انخلا ہو رہا تھا تو ان کی اسی بیٹھک پر ہندو اور سکھ جمع ہوتے تھے، جہاں ان کو تحفظ اور خوراک فراہم کی جاتی تھی اور یہاں سے باحفاظت ریلوے سٹیشن پہنچایا جاتا تھا۔ چوہدری مولا داد کے چھوٹے بیٹے علی نواز چوہان ہائی کورٹ اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس دی ہیگ میں بھی جج رہے۔ پھر انہیں وہاں سے گیمبیا کا چیف جسٹس بھی تعینات کیا گیا۔

مری روڈ سے ہوتے ہوئے جب آپ اسلام آباد داخل ہوں تو محلہ وارث خان میں ایک لمحے کو یہ ضرور سوچیں کہ یہاں آج بھی وہ قبیلہ بس رہا ہے، جس کی روایات دو ہزار سال سے زیادہ قدیم ہیں اور جو اس شہر کی تاریخ کا امین بھی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *