پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سعودی عرب میں مقدس شہر مکہ مکرمہ پر حوثیوں کی جانب سے ناکام ڈرون حملے پر کہا ہے کہ اس صورت حال میں مکہ معاہدہ لاگو ہو جاتا ہے۔
خواجہ آصف نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے جو نہ بھی ہو تو سعودی عرب ، خاص طور پر ہمارے مقدس مقامات پر حملہ ہو، تو ان کی حفاظت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔
انہوں نے کہا ’کسی معاہدے کو متحرک کرنے کی ضرورت نہیں ، یہ ہمارا دینی فریضہ ہے کہ ان مقامات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہو یا ترکی، کسی پر بھی حملہ ہوا تو معاہدے کے تحت اس کا دفاع کریں گے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
’اس میں کوئی شک نہیں جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ڈائمنشنز سے، اگر آپ اس کو دیکھیں تو وہاں پہ لاگو ہوتی ہیں اور اس کو ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں اور وہ انشاء اللہ تعالی ادا کریں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ گذشتہ آٹھ دنوں میں حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے بعد تینوں ملکوں نے آپس میں بات کی اور کوئی متفقہ ردعمل دینے کا فیصلہ کیا؟ تو خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس پر بات کرنے سے گریز کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حکمت عملی ہو یا فوجی سٹریٹجی، اس پر کھلے عام بات نہیں کی جا سکتی۔
ایران کی جانب سے حوثیوں کی حمایت اور تہران سے براہ راست بات چیت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’میرا نہیں خیال کہ ایران اس وقت کوئی اور محاذ کھولے گا جب پہلے ہی وہ ہمارے خطے میں ایک جنگ میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایرانیوں کو سعودی عرب کی تشویش سے آگاہ کیا ہے کہ حوثیوں کو پشت پناہی نہیں ہونی چاہیے اور ان لوگوں کو جارحیت کرنے والوں کی طرح ڈیل کرنا چاہیے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے آج مقدس شہر مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی اشتعال انگیز اقدام‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی عوام اس واقعے پر گہری تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔
سعودی عرب نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے منگل کی شام یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کے جنوب میں بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا۔
خطے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات کی سکیورٹی کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیا ہے جبکہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔
حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب پر حوثیوں نے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جبکہ یمن کے اندر اور اس کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی حکام کے مطابق پیر کو حوثیوں کے حملوں میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ گذشتہ ہفتے مملکت بھر میں ہونے والے حملوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کے اطراف بھی پیش قدمی کی ہے، جس سے تجارتی بحری جہازوں اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ خدشات پہلے ہی آبنائے ہرمز سے آمدورفت میں خلل کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے دوچار ہیں۔
ایک روز قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب پر حوثیوں کے وسیع تر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کو خبردار کیا تھا کہ یمن میں کشیدگی میں اضافے کے باعث تنازع ’انتہائی خطرناک موڑ‘ پر پہنچ گیا ہے۔
احمد نے کہا کہ ان حملوں سے ’علاقائی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے اور عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین نتائج‘ برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ’مکمل یکجہتی‘ کا اظہار کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی اثاثوں کے دفاع کے سعودی عرب کے حق کی حمایت کرتا ہے۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن کا تنازع نسبتاً محدود رہا تھا اور اس جنگ بندی نے لڑائی میں نمایاں کمی کر دی تھی۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔
احمد نے باب المندب کے اندر اور اس کے اطراف حوثیوں کے حملوں میں توسیع کو بھی ’سنگین کشیدگی‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس آبی گزرگاہ کو لاحق خطرات بین الاقوامی تجارت، تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت، عالمی سپلائی چینز اور توانائی کے تحفظ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
