وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے بدھ کو کہا کہ سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کے دوران پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کو افغانستان سے غیر قانونی اسلحہ فراہم کرنے والا منظم نیٹ ورک پکڑ لیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ نیٹ ورک پہلے افغانستان سے اسلحہ پشاور کے علاقے باڑہ پہنچاتا تھا، جہاں سے ایک سرکاری ملازم اکبر اسے کوٹلی تک منتقل کرتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اکبر بطور کیریئر استعمال ہوتا رہا جبکہ ضیا نامی مبینہ اسلحہ سپلائر بھی ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
طلال چوہدری کے مطابق آپریشن کے دوران سامنے آنے والی آڈیوز اور بیانات سے مبینہ نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی۔
ان کے بقول اکبر کو مختلف اسلحہ کنسائنمنٹس کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے ضیا کے مبینہ بیان کے مطابق وہ آٹھ سال سے غیر قانونی اسلحے کی خرید و فروخت اور سپلائی میں ملوث تھا، جبکہ گذشتہ دو سال سے ایکشن کمیٹی کے ساتھ اور اس کی اعلیٰ قیادت کے بعض افراد سے رابطے میں ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
ضیا کے مبینہ بیان کے مطابق انہوں نے افغانستان میں موجود اپنے رابطے زرشاد سے اسلحہ حاصل کرنے کے لیے بات کی۔
بیان میں ایک کھیپ کے طور پر پانچ کلاشنکوف، ایک ایم فور رائفل اور چار ہزار گولیاں منگوانے کا ذکر کیا گیا۔
بیان کے مطابق اس کھیپ کی ادائیگی کے لیے آٹھ لاکھ روپے ہنڈی کے ذریعے افغانستان بھیجے گئے، جس کے بعد اسلحہ افغانستان سے پشاور کے علاقے باڑہ پہنچایا گیا۔
ضیا کے مبینہ بیان کے مطابق باڑہ سے اسلحہ اکبر نے کوٹلی پہنچانا تھا۔
اکبر کی جانب سے اسلحہ وصول کرنے کے لیے بلائے جانے پر ضیا کوٹلی پہنچا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے اسلحے سمیت گرفتار کرلیا۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ضیا گذشتہ دو برس سے ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت کے بعض افراد سے رابطے میں تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے مبینہ بیان میں ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض افراد کے نام بھی لیے گئے۔
وزیرِ مملکت نے مزید دعویٰ کیا کہ ایکشن کمیٹی کے بعض دھرنوں کے دوران مسلح افراد موجود تھے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح کارروائیوں میں بعض افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
طلال چوہدری نے دہشت گردی، سمگلنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے مبینہ روابط کو توڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نیٹ ورکس کی مالی اور لاجسٹک معاونت ختم کرنا ضروری ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر آزاد کشمیر میں سستی بجلی (منگلا ڈیم کی پیداواری لاگت کے مطابق)، آٹے پر سبسڈی اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے جیسے 38 نکاتی عوامی مطالبات کے گرد تاجروں اور سول سوسائٹی کے اتحاد کی شکل میں ابھری تھی۔
ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ان 12 نشستوں کو ختم کیا جائے جو ان مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو کئی دہائیاں قبل انڈین زیرِ انتظام کشمیر سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ مخصوص نشستیں علاقے سے باہر رہنے والے افراد کو غیر متناسب سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہیں۔
تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب جون کے آغاز میں کشمیر کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ حاصل ہیں اور انہیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نشستیں ان افراد کی نمائندگی کے لیے قائم کی گئی تھیں جو کشمیر کے دیرینہ تنازع کے باعث انڈین زیر انتظام کشمیر سے بے گھر ہوئے تھے۔
تاہم، بعد میں احتجاجی تحریک کے دوران پرتشدد جھڑپوں اور مبینہ ریاست مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت نے اسے شیڈول فرسٹ میں شامل کرکے اس کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
کشمیر کی حکومت نے پانچ جون، 2025 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
