بنوں: فتح خیل پولیس چوکی کو بار بار حملوں کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں حکام کے مطابق فتح خیل چوکی پر نو مئی کی شب ہوئے حملے میں 1200 سے 1500 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں کی موت ہوئی۔

حملے میں جان سے جانے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ اتوار کو ادا کر دی گئی جبکہ تعزیت کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پیر کو بنوں پہنچے جہاں پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے ملاقاتیں بھی کیں۔

بنوں چوکی پر ہونے والے اس حملے سے متعلق پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فتح خیل نامی چوکی کے قریب ایک لوڈر رکشے سے دھماکہ کیا گیا اور بعد میں بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی۔

فتح خیل چوکی پر حملوں کی تاریخ

فتح خیل چوکی پر حملے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اس عمارت پر متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن ان حملوں میں چوکی کو اتنا نقصان نہیں پہنچا تھا، لیکن ہفتے کی شب ہوئے حملے میں چوکی منہدم ہو گئی ہے۔

فتح خیل چوکی بنوں کی انتہائی حساس تنصیبات میں شمار کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے ماضی میں عسکریت پسندوں کی جانب سے اس پر حملے کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں جن میں سے بعض حملوں کو پولیس کی جانب سے ناکام بنا دیا گیا تھا۔

بنوں کے ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے اتوار کو پولیس اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ چوکی پر پولیس اہلکاروں نے بہادری سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا اور آئندہ بھی کریں گے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ’بہادری کی یہ مثال ہے کہ چوکی کے 10 پولیس اہلکاروں نے سینکڑوں کی تعداد میں عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا اور بہادری سے لڑے۔‘

گذشتہ سال فروری میں اسی چوکی پر عسکریت پسندوں کے دو دنوں میں یکے بعد دیگرے دو حملوں میں دو پولیس اہلکار جان سے گئے تھے جبکہ رواں سال مارچ میں بھی اسی چوکی پر حملہ کیا گیا تھا اور پولیس کے مطابق اس حملے کو ناکام بنایا گیا تھا۔

گذشتہ سال مئی میں بھی اس چوکی پر حملے کی کوشش کی گئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا لیکن پولیس کے مطابق اس حملے کو ناکام بنایا گیا تھا۔

اسی طرح گذشتہ سال اگست میں بھی اسی چوکی پر حملہ کیا گیا تھا اور پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں تین عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

فتح خیل چوکی کی اہمیت

فتح خیل چوکی آبادی سے دور مضافاتی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے عسکریت پسندوں کے لیے آسان نشانہ ہے اور پولیس کے مطابق ہر ماہ اس چوکی پر کوئی نہ کوئی حملہ ہوتا ہے۔

بنوں پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عسکریت پسندوں کے لیے یہ چوکی اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ اس راستے سے وہ بنوں کے دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے لیے آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ماضی میں بھی اس چوکی پر حملے کیے گئے ہیں اور چونکہ یہ بنوں اور وزیرستان کے پہاڑی سرحدی راستے پر ہے تو عسکریت پسند اس چوکی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی موومنٹ میں آسانی ہو۔‘

تاہم اہلکار کے مطابق اس چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے ہمیشہ حملوں کا مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔

بنوں عمومی طور پر خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں اس چوکی کے علاوہ بھی بڑے حملے ہوئے ہیں جس میں عسکری تنصیبات بھی شامل ہے۔

بنوں کے کینٹ علاقے کے اندر واقع 2022 میں انسداد دہشت گردی کے مرکز میں قید عسکریت پسندوں نے پولیس کو تقریباً 48 گھنٹے یرغمال بنایا تھا جس کے بعد حکومت کے مطابق تمام عسکریت پسندوں کو اپریشن میں مارا گیا تھا۔

بنوں ریجن میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارمنٹ کے 2025 کے اعدادوشمار کے مطابق 391 عسکریت پسندی کے واقعات کے مقدمات درج ہوئے ہیں جس میں 127 فائرنگ، 25 دستی بم حملے، 57 مائن دھماکے، اور دیگر واقعات کے علاوہ 28 اغوا کے مقدمات بھی شامل ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *