پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور جارحیت کو روکنے کے لیے ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بات العربیہ انگلش کو دیے ایک انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور نئے معاہدے نے ان تعلقات کو باضابطہ شکل دی ہے۔
ان کے مطابق معاہدے میں کوئی جارحانہ یا مداخلت پسند عنصر نہیں بلکہ یہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ’اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہو گا؟‘
اس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’دفاعی وعدوں سے متعلق آپریشنل تفصیلات کبھی عوامی سطح پر نہیں بتائی جاتیں۔
’بہت سے ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے ہوتے ہیں لیکن کوئی ریاست ان کے نفاذ کی عملی تفصیلات ظاہر نہیں کرتی۔ یہ معاملات آپریشنل سکیورٹی اور خفیہ معلومات کے دائرے میں آتے ہیں۔‘
Pakistan Armed Forces Spokesperson Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry argues the Mecca Joint Defense Agreement is defensive and does not compete with other alliances. pic.twitter.com/dWxq18hTUZ
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) September 16, 2026
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ یہ معاہدہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا متبادل یا حریف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ پاکستان کے چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کی تکمیل کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسی معاہدے کے حوالے سے مزید کہا کہ ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی معاہدہ ’مسلم اتحاد‘ نہیں ہے۔
ان کے مطابق معاہدے کا مقصد علاقائی استحکام، سلامتی اور عدم جارحیت ہے۔
ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں کسی نئے ملک کی شمولیت کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سات اگست کو ایک دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جسے ’مکہ معاہدے‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس معاہدے کے بارے میں تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی حملہ تینوں پر تصور ہو گا۔
اسلام آباد کی ثالثی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایران کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے ذریعے ’خطے میں امن لانے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’پاکستان کا اس تنازعے میں کوئی ذاتی مقصد یا نجی مفاد نہیں ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا واحد مقصد تنازعے کے بگڑنے اور افقی یا عمودی طور پر پھیلنے سے روکنا ہے۔ اسے فضائی، زمینی یا سمندری میدانوں میں حل کرنے کے بجائے متنازعہ امور اور تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت سے حل کرنا ہے۔‘
انڈیا سے تنازع
پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2025 میں ہونے والی مختصر جنگ کے حوالے سے بھی میزبان نے سوال کیا اور پوچھا کہ ’پاکستانی فوج نے اس تنازع سے کیا سیکھا؟‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس پر کہا کہ ’میرے خیال میں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس تنازع کے دوران پاکستانی فوج یا پاکستان نے کیا سبق سکھایا۔
’پاکستان نے جو سبق سکھایا وہ یہ تھا کہ دو جوہری ممالک، بالخصوص دو ہمسایہ جوہری ممالک کے درمیان فوجی تنازع ناقابلِ قبول ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک انتہائی غیر دانشمندانہ خیال ہے۔ یہ ایک سٹریٹجک حماقت تھی جو انڈیا نے کی اور یہ وہ سبق تھا جو ہم نے ہر شعبے میں دیا، چاہے وہ فضائی، زمینی، سائبر، بحری، اطلاعاتی یا سفارتی شعبہ ہو۔‘
