امریکہ نے خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا اعتراف کر لیا، جس سے اس بارے میں طویل عرصے سے ظاہر کیے جانے والے شکوک کی تصدیق ہو گئی۔
امریکی سپیس فورس کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے پاس ’مدار میں موجود خلائی کنٹرول کے ہتھیار‘ ہیں، جنہیں ملک اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ نے کہا ہے کہ اسے خلا میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا ہے۔
امریکی سپیس فورس کے مطابق چین ’فوجی جدید کاری کی حکمت عملی کے تحت خلائی اور خلائی جوابی کارروائی کی صلاحیتیں تیار اور استعمال کر رہا ہے‘ جبکہ روس ’خلا کو جنگ کے میدان کے طور پر دیکھتا اور سمجھتا ہے کہ مستقبل کے تنازعات میں خلائی برتری فیصلہ کن عنصر ہو گی۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
امریکی سپیس فورس کے سربراہِ آپریشنز جنرل چانس سالٹزمین نے جولائی میں کہا تھا کہ چین ’تیزی سے‘ ایسی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے، جن میں اہداف کو تلاش کرنے اور تباہ کرنے کے لیے خلائی بنیادوں پر موجود ہتھیار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے اسے ’ایک بڑا‘ خطرہ قرار دیا تھا۔ فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے پیر کو ’ایئر، سپیس، سائبر‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’آج ہم اس بات کو یقینی بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں کہ جہاں کہیں بھی ارتقا پذیر خطرات موجود ہوں، ہم ان سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔‘
انہوں نے کہا امریکہ کی جانب سے پہلی بار اپنے خلائی ہتھیاروں کا اعتراف کرنا دانستہ اقدام تھا۔ مینک نے کہا ’یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم نہ صرف فضا بلکہ خلا میں بھی اپنی برتری برقرار رکھیں۔‘
انہوں نے کہا ’اسی لیے ہمیں یہ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنا پڑے ہیں کہ جب ہمیں خطرہ لاحق ہو تو ہم اس سے نمٹ سکیں۔
’یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے پاس اب مدار میں خلائی کنٹرول کے ہتھیار موجود ہیں، جو دشمنوں کی کارروائیوں کے خلاف مشترکہ فوجی قوت کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیکریٹری نے بالخصوص دو ہتھیاروں کے نظام کو نمایاں کیا جنہیں امریکہ نے خلا میں تعینات کیا ہے: ’سپیس بیسڈ انٹرسیپٹر پروگرام‘ اور ’سپیس بیسڈ ایئر موونگ ٹارگٹ انڈیکیشن‘ سیٹلائٹس کا مجموعہ۔
پہلا نظام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’گولڈن ڈوم‘ میزائل دفاعی پروگرام کا حصہ ہے۔ مینک نے کہا یہ پروگرام ’ابتدائی معاہدے سے پرواز کے لیے تیار ہارڈویئر‘ کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے، تاہم انہوں نے اس نظام کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے کہا ’ہم اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں گے کہ ہم کیا کر رہے ہیں، آیا ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے، نہیں کیا یا کچھ اور۔
’میں صرف یہ کہوں گا کہ خلائی ماحول فوجی اور اقتصادی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ وہاں آزادانہ طور پر کارروائی کر سکے۔‘
زمین کا مدار سیٹلائٹس اور ان کے ملبے سے تیزی سے گنجان ہوتا جا رہا ہے اور خلا کو ہتھیاروں سے مسلح کرنے سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔
صرف سپیس ایکس ہی تقریباً 11 ہزار ’سٹارلنک‘ سیٹلائٹس چلا رہا ہے اور آنے والے برسوں میں مزید سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
