بیس بال کے دیوانے جاپان میں کرکٹ کا نیا دور، پاکستان، انڈیا سمیت بڑی ٹیمیں ایکشن میں

جاپان جیسا ملک جہاں بیس بال کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے اور کرکٹ کھیلوں کے منظرنامے میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اپنی تاریخ میں پہلی بار دو ہفتوں پر محیط غیر معمولی کرکٹ سرگرمیوں کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔

دنیائے کرکٹ کے بڑے نام، جن میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان شامل ہیں آئندہ ہفتے جاپان پہنچیں گے، جس سے یہ ملک، جو اب تک کبھی کبھار علاقائی کوالیفائرز کی میزبانی کے لیے جانا جاتا تھا، اعلیٰ سطح کی کرکٹ کا ایک غیر متوقع مرکز بن جائے گا۔

اعلیٰ سطح کی کرکٹ کے اس غیر معمولی سلسلے کے پیچھے سفارتی کوششیں، کارپوریٹ سپانسرشپ اور جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن کی کئی سالہ خاموش محنت شامل ہے، جو ملک میں کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔

جے سی اے  نے اس وقت ایک بڑی کامیابی حاصل کی جب اس نے مردوں کی ٹی20 عالمی چیمپیئن انڈیا کو 22 ستمبر کو سانو میں میزبان جاپان کے خلاف کھیلنے پر آمادہ کر لیا۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب آئی سی سی کا ایسوسی ایٹ رکن جاپان، آئی سی سی کے کسی مکمل رکن ملک کے خلاف کھیلے گا۔

اس کے بعد سابق عالمی چیمپیئن پاکستان اور سری لنکا کے علاوہ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک بنگلہ دیش اور افغانستان بھی نشین کے ایک تبدیل شدہ بیس بال سٹیڈیم میں ایکشن میں ہوں گے، جہاں ایشین گیمز کے کرکٹ مقابلوں کا آغاز ہوگا۔

یہ مقابلے صرف مردوں کی ٹیموں کے درمیان ہی نہیں بلکہ خواتین ٹیموں بھی آمنے سامنے آئیں گی اور اسی کے لیے پاکستان کی وومن کرکٹ ٹیم پہلے ہی جاپان پہنچ چکی ہے۔

ایشین گیمز میں مردوں کے میچز 24 ستمبر جبکہ خواتین کے مقابلے 17ب ستمبر سے شروع ہوں گے۔

’ایک نئے دور کا آغاز‘

جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ناؤکی الیکس میاجی اس موقع پر پرجوش ہیں، تاہم وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ صرف دو ہفتوں کی کرکٹ جاپان میں اس کھیل کے لیے فوری طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتی۔

جاپان میں کرکٹ کے صرف 7,300 رجسٹرڈ کھلاڑی اور 16 کرکٹ گراؤنڈز ہیں۔ خواتین کی ٹی20 ٹیم عالمی رینکنگ میں 39ویں نمبر پر ہے، جبکہ مردوں کی ٹیم اس سے دو درجے پیچھے ہے۔

میاجی نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ایک میچ یا ایک مقابلہ اپنے آپ میں کچھ نہیں بدل سکتا، اور ہم یقینی طور پر یہ نہیں سوچ رہے کہ اچانک جاپان میں کرکٹ بیس بال یا فٹبال جتنی مقبول ہوجائے گی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’لیکن انڈیا کے خلاف میچ ایک نئے دور کا پہلا صفحہ ہے۔‘

جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن نے ایشین گیمز کے کرکٹ مقابلوں کے لیے سانو انٹرنیشنل کرکٹ گراؤنڈ کو بطور وینیو پیش کیا تھا، تاہم مقامی منتظمین نے لاجسٹک مسائل سے بچنے کے لیے ناگویا کے مضافات میں واقع ایک بیس بال سٹیڈیم کو کرکٹ گراؤنڈ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے باوجود جے سی اے  سری لنکا کرکٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کی بدولت ایشین گیمز کے منتظمین کو اہم معاونت فراہم کر رہی ہے۔ یہ شراکت داری تقریباً تین سال قبل کھیلوں کے ذریعے سفارت کاری کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔

ایشین گیمز کے لیے نشین میں پچ کی تیاری کی نگرانی اس وقت سری لنکا سے تعلق رکھنے والا ایک کیوریٹر کر رہا ہے۔

پردے کے پیچھے کئی سال کی محنت کے بعد جے سی اے  کو امید ہے کہ اب اس کی کوششوں کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔

جیسا کہ میاجی نے کہا کہ ’اب پھلنے پھولنے کا وقت آگیا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *