پاکستان کے سرکاری ادارے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے چار ملازمین کو صوبہ بلوچستان میں ایران کی سرحد کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جبکہ حملہ آوروں نے بعد میں ان کی گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔
ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو ہفتے کو یہ بات بتائی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن پاکستان کا سرکاری ادارہ ہے جو ملک بھر میں لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔
حملہ جمعے کی سہ پہر گوادر ضلع میں پاکستان-ایران سرحد کے قریب بارڈر پوسٹ بی پی-250 کے نزدیک ہوا، جو ساحلی شہر جیوانی سے تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع ہے۔ مسلح افراد نے ملازمین کو لے جانے والی ایک پک اپ گاڑی کو نشانہ بنایا۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ پاکستان-ایران سرحد کے قریب سڑک سے ہٹ کر ایک پک اپ گاڑی اور موٹر سائیکل ملی ہے۔
انہوں نے کہا، ’جب پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا تو مختلف مقامات پر چار لاشیں ملیں، جن کی شناخت نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے ملازمین کے طور پر ہوئی۔‘ ان کے مطابق، انہیں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا، جنہوں نے بعد میں ان کی گاڑی کو آگ لگا دی۔
فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بلوچستان کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی شورش کا مرکز رہا ہے، جو سکیورٹی فورسز، سرکاری اہلکاروں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، عام شہریوں اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان نے بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عسکریت پسندوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
گذشتہ ہفتے پاکستان فوج نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے چار اضلاع میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں کے دوران 48 عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اس معاملے پر سول و عسکری قیادت مکمل طور پر متفق اور یکسو ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے ہفتے کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز، سینئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔‘
