پاکستان نے جمعے کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور بجلی کی پیداوار میں کمی آئی، جس کے باعث حکام کو بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
پاکستان اپنے کئی بڑے بجلی گھروں کو چلانے کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے، جبکہ اس کی بڑی مقدار قطر سے آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحری نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔
تازہ ترین خلل ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹ رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے اثرات جنوبی ایشیائی ملک پاکستان کی توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ رہے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے بعد ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا، ’خطے کی حالیہ صورت حال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور نقل و حمل میں مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔‘ آر ایل این جی سے مراد دوبارہ گیس میں تبدیل کی گئی مائع قدرتی گیس ہے، یعنی وہ شکل جس میں درآمد شدہ ایل این جی کو پاکستان پہنچنے کے بعد دوبارہ گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا، ’نتیجتاً بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ ضروری ہو گئی ہے۔‘ حکومت بجلی کی مقررہ بندش کے لیے ’لوڈ مینجمنٹ‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔
شہباز شریف نے حکام کو آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور اس سلسلے میں خطے کی صورت حال اور پاکستان کی مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھنے کا کہا۔
انہوں نے بجلی کے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ ملک کے کسی بھی حصے میں بجلی کی بندش دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔
پاکستان کے پاس درآمدی گیس پر انحصار کرنے والی بجلی پیدا کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے۔ ملک کے قطر کے ساتھ حکومت سے حکومت کی سطح پر ایل این جی کی فراہمی کے دو طویل مدتی معاہدے ہیں اور تاریخی طور پر قطر اس ایندھن کا پاکستان کا سب سے بڑا سپلائر رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس خلل کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان خطے میں ہونے والی بدامنی سے خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے گزرنے والی تیل اور گیس کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں راستوں پر نقل و حمل متاثر ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے جمعے کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ بجلی کی فراہمی اور دیگر مسائل سے متعلق صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک ہفتے کے اندر عوامی نمائندگی پر مشتمل شکایات کے ازالے کی کمیٹیاں قائم کریں۔
حکومت نے کہا ہے کہ صارفین بجلی کی 118 ہیلپ لائن کے ذریعے بھی اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔
