افریقی ملک کینیا میں ایک صدی سے زائد عرصے سے جاری انڈین کمپنی ٹاٹا کا سوڈا ایش کی کان کنی اور پیداوار کا منصوبہ شدید تنازعے کی زد میں آ گیا ہے، جہاں کینیا کے صدر ولیم روٹو نے اس کمپنی کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس پیش رفت نے ٹاٹا گروپ کے افریقہ میں سب سے پرانے کاروباروں میں سے ایک کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔
انڈین اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق یہ تنازع جولائی 2026 میں شروع ہوا تھا، تاہم گذشتہ ہفتے اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب صدر روٹو نے عوامی سطح پر کمپنی پر تنقید کرتے ہوئے اس کی جگہ نئے سرمایہ کار لانے کا اعلان کیا۔
3 ستمبر 2026 کو ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ولیم روٹو نے کہا کہ انہوں نے ٹاٹا کیمیکلز کو ’سامان باندھ کر چلے جانے‘ کا حکم دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت لیک ماگاڈی میں سوڈا ایش کان کنی کے لیے ایسے سرمایہ کاروں کا انتخاب کرے گی، جو مقامی معیشت اور آبادی کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں۔
صدر روٹو نے الزام لگایا کہ موجودہ آپریٹر ٹاٹا کیمیکلز نہ تو پلانٹ کو جدید بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، نہ مقامی نوجوانوں کے لیے خاطر خواہ روزگار پیدا کر سکی ہے اور نہ ہی کینیا کے عوام کو اس قدرتی وسائل سے مناسب معاشی فائدہ پہنچا سکی ہے۔
انہوں نے کہا: ’یہ ناانصافی ہے کہ ایک ہی کمپنی کئی دہائیوں تک ماگاڈی سوڈا کے آپریشنز اور ملکیت پر قابض رہے لیکن فیکٹری کو بہتر بنانے یا ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرے۔‘
ٹاٹا کیمیکلز کا اس منصوبے سے کیا تعلق ہے؟
ٹاٹا کیمیکلز لمیٹڈ دنیا میں سوڈا ایش پیدا کرنے والی تیسری بڑی کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 40 لاکھ ٹن ہے۔ کمپنی کا کاروبار انڈیا، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔
کینیا میں موجود سوڈا ایش کا یہ منصوبہ 2005 میں ٹاٹا گروپ کا حصہ بنا، جب ٹاٹا کیمیکلز نے برونر مونڈ یو کے لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنی ماگاڈی سوڈا کمپنی کو خرید لیا۔ بعد ازاں ان اداروں کو ٹاٹا کیمیکلز یورپ اور ٹاٹا کیمیکلز ماگاڈی کے نام سے دوبارہ منظم کیا گیا۔
ٹاٹا کیمیکلز ماگاڈی لمیٹڈ (ٹی سی ایم ایل) میں اس وقت 537 ملازمین کام کرتے ہیں، جن میں تقریباً 99.6 فیصد کینیا کے شہری ہیں۔
یہ منصوبہ ٹاٹا کے لیے کتنا اہم ہے؟
1911 میں قائم ہونے والی یہ تنصیب ایک صدی سے زیادہ عرصے سے لیک ماگاڈی میں سوڈا ایش پیدا کر رہی ہے۔ یہ مقام کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے تقریباً 120 کلومیٹر دور کجیادو کاؤنٹی میں واقع ہے۔
کمپنی کے پاس لیک ماگاڈی اور اس کے اطراف تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار 991 ایکڑ زمین کی لیز ہے۔ اس علاقے میں ٹرونا نامی قدرتی معدنی وسیلہ موجود ہے جسے پراسیس کر کے سوڈا ایش میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
سوڈا ایش شیشے، ڈٹرجنٹس اور مختلف صنعتی کیمیکلز کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی پیداوار کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ جنوب مشرقی ایشیا، برصغیر، افریقہ اور مغربی ایشیا کی منڈیوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔
کینیا کے علاوہ کمپنی انڈیا کے گجرات میں واقع میتھاپور اور امریکہ کی ریاست وائیومنگ میں بھی سوڈا ایش تیار کرتی ہے۔ گجرات میں اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 10 لاکھ 91 ہزار ٹن جبکہ امریکہ میں 25 لاکھ 40 ہزار ٹن ہے۔
دنیا بھر میں کمپنی کے 17 پیداواری پلانٹس ہیں جو بنیادی کیمیکل اور خصوصی کیمیکل مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ ٹاٹا کیمیکلز انڈیا اور برطانیہ میں نمک کی سب سے بڑی پیدا کنندہ ہے، جبکہ حجم کے لحاظ سے چین کو چھوڑ کر دنیا کی تیسری بڑی سوڈا ایش کمپنی اور پانچویں بڑی سوڈیم بائی کاربونیٹ کمپنی شمار ہوتی ہے۔
مالی کارکردگی
مالی سال 2026 کے دوران افریقہ سے کمپنی کی آمدن 649 کروڑ انڈین روپے رہی، جبکہ یورپ سے 1461 کروڑ، امریکہ سے 4936 کروڑ اور ایشیا سے 7789 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔
ٹاٹا کیمیکلز ماگاڈی کی آمدن مالی سال 2026 میں 586 کروڑ روپے رہی جو گذشتہ سال کے 612 کروڑ روپے کے مقابلے میں چار فیصد کم ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی عرصے میں کمپنی کا EBITDA منافع 142 کروڑ روپے سے کم ہو کر 101 کروڑ انڈین روپے رہ گیا جبکہ خالص منافع 118 کروڑ روپے سے گھٹ کر 48 کروڑ روپے ہو گیا۔ کمپنی کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ قیمتوں پر دباؤ تھا۔
مقامی آبادی کے لیے کمپنی کے دعوے
ٹاٹا کیمیکلز کا کہنا ہے کہ تقریباً 40 ہزار افراد پر مشتمل مقامی آبادی کی معاشی زندگی بڑی حد تک اسی منصوبے پر منحصر ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ علاقے میں پانی کی فراہمی، طبی سہولیات، تعلیم، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ماگاڈی ڈویژن کی تقریباً 64 فیصد آبادی کو پانی اس کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مقامی طلبہ کے لیے مختلف تعلیمی وظائف اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
حکومت کے الزامات کیا ہیں؟
تنازع اس وقت شروع ہوا جب جولائی کے آخر میں کینیا کی وزارت کان کنی، بلیو اکانومی اور میری ٹائم افیئرز نے کمپنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کان کنی کی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔
کمپنی کو سوڈا ایش کی برآمدات روکنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
حکومت کے مطابق کمپنی کے خلاف رائلٹی کی ادائیگی، برآمدی رپورٹنگ، معدنی پراسیسنگ، کمیونٹی ڈویلپمنٹ معاہدے، مقامی ملازمتوں، ماحولیاتی ضوابط اور دیگر قانونی تقاضوں سے متعلق خامیوں کے شواہد موجود تھے۔
مزید یہ کہ حکومت نے الزام لگایا کہ کمپنی ریگولیٹری شرائط، ویلیو ایڈیشن کی ضروریات، لائسنسنگ قواعد اور ماحولیاتی ضوابط کی مکمل پاسداری نہیں کر رہی تھی۔ کجیادو کاؤنٹی حکومت کے ساتھ زمین کے محصولات کے تنازعے کو بھی ایک مسئلہ قرار دیا گیا۔
ٹاٹا کیمیکلز کا جواب
یہ پہلا موقع ہے کہ ٹاٹا کمپنی کو کسی غیر ملکی ملک میں اس نوعیت کے الزامات اور ملک چھوڑنے کے مطالبے کا سامنا ہے۔
کمپنی نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط پر مکمل عمل کر رہی ہے اور اعلیٰ ترین معیار کی تعمیل برقرار رکھنے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم کمپنی نے حکومتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
30 جولائی 2026 کو کمپنی نے کینیا کی ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ معطلی کا حکم غیر قانونی تھا کیونکہ اسے الزامات کا جواب دینے یا ممکنہ خامیوں کو دور کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ مقدمہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
4 ستمبر کو صدر روٹو کے بیان کے بعد ٹاٹا کیمیکلز نے انڈیا کی سٹاک ایکسچینجز کو بتایا کہ 11 اگست 2026 کو اس نے وزارت کی جانب سے مانگی گئی تمام رپورٹس، معلومات اور دستاویزات جمع کروا دی تھیں۔
کمپنی نے کہا کہ وہ کینیا کی حکومت کے اختیار کا احترام کرتی ہے اور قانونی و ریگولیٹری ذرائع سے معاملہ حل کرنے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رکھنا چاہتی ہے۔
کینیا میں سیاسی ردعمل
یہ تنازع اب سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکا ہے۔ 3 ستمبر کو ڈی سی پی پارٹی سے وابستہ ارکان پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومتی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹاٹا کیمیکلز کی بندش ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
ان کے مطابق پلانٹ کی بندش سے 500 سے زیادہ براہ راست ملازمین اور ہزاروں معاون کارکنوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس اقدام سے مقامی آبادی بنیادی طبی سہولیات، صاف پانی اور دیگر بنیادی خدمات سے محروم ہو سکتی ہے۔
تاہم صدر روٹو نے 5 ستمبر کو ایکس پر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کینیا نے ماگاڈی کے ’استحصالی‘ معاہدے کو ختم کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک صدی تک کجیادو کے عوام کو اپنی زمین سے نکالی جانے والی معدنیات کا جائز حصہ نہیں ملا۔ اب نئے معاہدے کے ذریعے زیادہ شراکت داری کی راہ کھولی جائے گی اور خام معدنیات کی برآمد کی بجائے مقامی سطح پر پراسیسنگ اور مینوفیکچرنگ کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ دولت اور روزگار کینیا ہی میں پیدا ہو۔
اب کیا ہوگا؟
فی الحال لیک ماگاڈی میں تمام سرگرمیاں معطل ہیں، عدالت کا فیصلہ آنا باقی ہے اور حکومت کمپنی کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم صدر روٹو کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس کنسیشن کے لیے ایک مختلف مستقبل کا تصور رکھتی ہے۔
ٹاٹا کیمیکلز کے لیے یہ اپنی ایک صدی پرانی سرمایہ کاری اور کاروبار کے تحفظ کی جنگ ہے، جبکہ کینیا کے لیے یہ اس سوال کا امتحان بن چکا ہے کہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی تک کس حد تک پہنچنے چاہییں۔
ساتھ ہی افریقہ میں سرگرم انڈین کمپنیوں کے لیے بھی یہ تنازع ایک اہم مثال بن سکتا ہے کہ مقامی حکومتیں غیر ملکی سرمایہ کاری کا جائزہ کن پیمانوں پر لیتی ہیں۔

