برکس اجلاس: شی جن پنگ کا 7 سال بعد دورہ انڈیا، کیا تعلقات بہتر ہوں گے؟

چینی صدر شی جن پنگ کا سات سال بعد انڈیا کا پہلا دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے، تاہم کاروباری روابط اب بھی بداعتمادی اور مختلف رکاوٹوں کا شکار ہیں۔

شی جن پنگ ہفتے کو نئی دہلی میں ہونے والے سالانہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس موقع پر ان کی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے دوطرفہ ملاقات ہوگی یا نہیں، تاہم ایسی ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کی آئندہ سمت کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

چین اور انڈیا کے درمیان 1962 میں جنگ ہوئی تھی جبکہ 2020 میں سرحدی جھڑپ میں 20 انڈین اور چار چینی فوجی جان سے گئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کئی برس تک کشیدہ رہے۔

حالیہ عرصے میں تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے، خصوصاً گذشتہ سال نریندر مودی کے چین کے دورے کے بعد لیکن دونوں ممالک کو اس دوران سرحدی معاملات میں تناؤ کا بھی سامنا رہا۔

تاہم کاروباری سطح پر صورت حال اب بھی پیچیدہ ہے۔ دونوں ممالک کی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے ضوابط، ویزوں کے اجرا میں تاخیر اور صنعتی آلات کی درآمد پر پابندیوں سمیت مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔

شنگھائی کی فوڈان یونیورسٹی کے جنوبی ایشیا کے ماہر اور سابق سفارت کار لن من وانگ نے کہا کہ چین دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے، تاہم وہ یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ انڈیا اس حوالے سے کس حد تک آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔

نئی دہلی کے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہرش پنت کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی معاشی طاقت اسے انڈیا کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار بنا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک امریکی تجارتی پالیسیوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

چینی سرمایہ کاری کے لیے کچھ نرمی

انڈیا نے مارچ میں 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد چینی سرمایہ کاری پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی تھی۔ ان اقدامات کا مقصد الیکٹرانکس، صنعتی آلات اور سولر سیلز سمیت بعض شعبوں میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا تھا۔

نئی دہلی نے انڈین اور چینی کمپنیوں کے مشترکہ منصوبوں کی منظوری کا عمل تیز کرنے پر بھی غور کیا اور ڈکسن ٹیکنالوجیز اور ویوو موبائل کے درمیان مشترکہ منصوبے سمیت بعض اہم منصوبوں کی منظوری دی۔

تاہم انڈین حکومت کے ایک ذریعے کے مطابق یہ اقدامات بی وائی ڈی اور گریٹ وال موٹر جیسی چینی کمپنیوں کو انڈیا میں سرمایہ کاری کے منصوبے دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ دونوں کمپنیوں نے نئی دہلی کی جانب سے بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے بعد اپنے مجوزہ منصوبے روک دیے تھے۔

’شراکت دار، حریف نہیں‘

چین کی وزارت خارجہ نے روئٹرز کو بتایا کہ شی جن پنگ اور نریندر مودی کا مؤقف ہے کہ دونوں ممالک ’شراکت دار ہیں، حریف نہیں‘ اور ایک دوسرے کی ترقی کے لیے ’مواقع ہیں، خطرات نہیں۔‘

تاہم انڈیا اور چین کے درمیان بعض اہم شعبوں میں کشیدگی برقرار ہے۔

روئٹرز کے مطابق نئی دہلی نے چینی کمپنی اینٹ گروپ کے ادائیگیوں کے پلیٹ فارم ’الپے‘ کو انڈیا کے فوری ادائیگیوں کے نظام سے منسلک کرنے کی تجویز قومی سلامتی کے خدشات کے باعث مسترد کر دی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈین حکومت چینی موبائل فون کمپنی شاؤمی کے خلاف تحقیقات کی سفارش پر بھی غور کر رہی ہے۔ یہ سفارش سیریس فراڈ انویسٹی گیشن آفس نے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے کی ہے۔

شاؤمی کا کہنا ہے کہ وہ مقامی قوانین کی مکمل پابندی کرتی ہے اور اسے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔

ایک انڈین ذرائع کے مطابق چینی حکام نے اپنی کمپنیوں کو انڈیا کو بعض اہم ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق آلات فروخت نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جن میں بندرگاہوں کے آلات، سولر پینلز اور موبائل فون بنانے کا سامان شامل ہے۔

گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں بحال ہوئی تھیں جبکہ نئی دہلی نے چینی کاروباری افراد کے لیے ویزا طریقہ کار میں بھی نرمی کی تھی۔ اس کے باوجود چین میں کاروباری مفادات رکھنے والے بعض انڈین تاجروں کو حالیہ عرصے میں ویزے کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انڈیا کو شمسی توانائی، الیکٹرانکس اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے لیے درکار چین میں تیار کردہ بعض آلات اور پرزے بھی چینی کسٹمز پر روکے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ایک انڈین سرکاری ذرائع کے مطابق بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے درکار کچھ بڑی سرنگ کھودنے والی مشینیں ایک سال سے زیادہ عرصے سے روکی ہوئی ہیں۔

انڈیا کے سابق تجارتی مذاکرات کار اور گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے بانی اجے سری واستوا نے کہا کہ ویزوں اور آلات کو روکے جانے کی صورت حال محض انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ چین انڈیا کے تجارتی اور ٹیکنالوجی پر انحصار کو دباؤ کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

تاہم انڈیا کے سابق اعلیٰ تجارتی عہدیدار انوپ وادھاون کے مطابق مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات دونوں ممالک کے سیاسی اور معاشی مفادات کو بہتر انداز میں ہم آہنگ کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات بنیادی طور پر باہمی معاشی مفادات سے جڑے ہیں اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات ان مفادات کو عملی شکل دینے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *