پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے سبب گڈز ٹرانسپورٹرز نے مال برداری کے کرایوں میں پانچ فیصد اضافہ کر دیا، جس کے بعد کاروباری حلقوں نے اشیائے ضروریہ سمیت مختلف مصنوعات کی ترسیل اور ڈسٹری بیوشن لاگت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
تاہم ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ بڑھتے اخراجات کے مقابلے میں یہ اضافہ بہت کم ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے سینیئر نائب صدر محمد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ ایسا شعبہ ہے جو معیشت کے تقریباً ہر دوسرے شعبے کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’زرعی اجناس، گوشت، برآمدی ٹرانسپورٹ یا درآمدی سامان، ہر شعبہ ٹرانسپورٹ سے منسلک ہے۔ ٹرانسپورٹ ہر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔‘
محمد رضا کے مطابق کرایوں میں پانچ فیصد اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شے کی قیمت بھی پانچ فیصد بڑھ جائے گی، تاہم ’ہر چیز کی ڈسٹری بیوشن کاسٹ ضرور بڑھے گی۔‘
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی فلور ملر کو پہلے سامان منتقل کرنے پر 100 روپے ٹرانسپورٹ لاگت آتی تھی اور اب یہی لاگت 107 روپے ہوجاتی ہے تو وہ اضافی خرچ اپنی مصنوعات کی قیمت میں شامل کرنے کی کوشش کرے گا۔
ان کے مطابق ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے کا اثر ان اشیا پر زیادہ پڑ سکتا ہے جن کی پہلے ہی سپلائی کم یا طلب زیادہ ہے، جبکہ وافر دستیابی والی مصنوعات پر اس کا اثر نسبتاً کم ہوگا۔
’پانچ فیصد اضافہ بہت کم ہے‘
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے رہنما ملک شہزاد اعوان نے کرایوں میں پانچ فیصد اضافے کو موجودہ اخراجات کے مقابلے میں بہت کم قرار دیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ گاڑیوں کے سپیئر پارٹس، آئل، گریس اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے دیگر اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرانسپورٹرز تو اس حق میں ہیں کہ کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہونا چاہیے، لیکن ابھی صرف پانچ فیصد اضافہ کیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ملک کے وسیع تر مفاد میں گاڑیاں چلا رہے ہیں اور بعض اوقات نقصان برداشت کر رہے ہیں۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے رہنما کے مطابق اگر حکومت اسی طرح قیمتوں میں اضافہ کرتی رہی تو ’ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھانا تو چھوڑیں، گاڑیاں چلانا بھی مشکل ہوجائے گا۔‘
ملک شہزاد اعوان کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کے ذریعے ملک بھر میں ادویات، کھانے پینے کی اشیا اور دیگر ضروری سامان پہنچایا جاتا ہے، اس لیے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا اثر بالآخر عوام پر پڑے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو ٹرانسپورٹرز بھی کرائے بڑھانے پر مجبور ہوں گے، جس سے ’مہنگائی کا طوفان‘ آسکتا ہے اور اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔
’پیٹرول کی قیمت کم نہ ہوئی تو دوبارہ ہڑتال کریں گے‘
دوسری جانب گڈز ٹرانسپورٹر غلام فرید نے بھی کرایوں میں پانچ فیصد اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غلام فرید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کرایوں میں پانچ فیصد اضافہ تو کچھ بھی نہیں ہے، پیٹرول کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور موجودہ صورت حال میں ٹرانسپورٹرز کے لیے کچھ بچت نہیں، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ان کے نقصانات میں اضافہ کرے گا۔
غلام فرید نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرول کی قیمت کم نہ کی تو ٹرانسپورٹرز دوبارہ ہڑتال پر مجبور ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت کم کی جائے، ورنہ ہم دوبارہ 40 دن کے لیے ہڑتال پر چلے جائیں گے۔‘
غلام فرید کے مطابق ٹرانسپورٹرز کرایوں میں اضافہ کرتے ہیں تو اس کا بوجھ بھی عوام کو ہی برداشت کرنا پڑے گا، کیونکہ سامان مہنگا پہنچے گا اور اس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑے گا۔
ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے کیا بدلے گا؟
کراچی چیمبر آف کامرس کے سینیئر نائب صدر محمد رضا کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا اثر تمام اشیا کی قیمتوں پر یکساں نہیں ہوگا، کیونکہ قیمتوں کا انحصار طلب، رسد اور مارکیٹ میں کسی شے کی دستیابی سمیت مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق جن مصنوعات کی سپلائی پہلے ہی محدود اور طلب زیادہ ہے، ان کی قیمتوں پر اضافی ٹرانسپورٹ لاگت کا اثر زیادہ آنے کا امکان ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق پیداواری مقام سے منڈی اور پھر صارف تک سامان پہنچانے کی لاگت بڑھنے سے خوراک، زرعی اجناس، گوشت، صنعتی خام مال، درآمدی سامان اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں پر بالواسطہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یوں ٹرانسپورٹرز کے لیے پانچ فیصد اضافہ اگرچہ ان کے بقول بڑھتے اخراجات کے مقابلے میں معمولی ہے، لیکن کاروباری حلقوں کے مطابق اس اضافے کا اثر بالآخر سامان کی ترسیل کی لاگت اور بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں صارفین پر پڑ سکتا ہے۔
