وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہفتے کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان کے صوبے کو دہشت گردی کا خطرہ ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ہمسایہ صوبوں سے زیادہ ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس حب کی ای-لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب ایک محفوظ صوبہ ہے، تاہم صوبے کے تمام بین الصوبائی سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے سکیورٹی کے نظام کو جدید بنانے اور چیک پوسٹوں کو مضبوط کرنے پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔
مریم نواز کے مطابق جب انہوں نے وزارت اعلیٰ سنبھالی تو سرحدی علاقوں کی بعض چیک پوسٹوں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے پاس دہشت گردوں کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔
’دہشت گردوں کے پاس نائٹ ویژن کیمرے اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے جدید سہولیات موجود تھیں، تاہم اب پنجاب کے سکیورٹی نظام میں بھی جدید ٹیکنالوجی شامل کردی گئی ہے۔‘
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چیک پوسٹوں کو بلٹ پروف بنایا گیا ہے جبکہ وہاں تھرمل کیمرے اور ڈرونز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ماضی میں چیک پوسٹوں پر دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں کبھی پانچ اور کبھی 10 اہلکار جان سے جاتے تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور حفاظتی انتظامات کے باعث اب جانی نقصان میں نمایاں کمی آئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کچے کے علاقے میں جرائم اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو ریاست کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
’ماضی میں یہ علاقہ جرائم کا مرکز بنا ہوا تھا جہاں لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا تھا۔
’تاہم فوج کی معاونت اور پنجاب و سندھ حکومتوں کے مشترکہ اقدامات سے صورتحال میں بہتری آئی ہے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ جہاں ریاست کی عمل داری کو چیلنج کیا جائے یا ریاستی اختیار کمزور ہو وہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے حکومت کی کوشش ہے کہ ریاستی رٹ کو مضبوط کیا جائے۔
