وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں نجی املاک مسلسل سکیورٹی فورسز اور پولیس کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہورہی ہیں، اس لیے مالکان کو اپنی املاک میں مسلح جتھوں اور دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق حکومت کو اطلاع دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے نجی املاک کے مالکان سے دہشت گردوں کو روکنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ صرف ان کی موجودگی کی اطلاع دینے کو کہا ہے، جو ان کے بقول قبائلی، اسلامی اور اخلاقی فرض ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ہفتے کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رکن اور اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دے رہے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
’باغات کی آڑ میں حملے ہوں تو حکومت کیا کرے؟‘
یونس عزیز زہری نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں مستونگ سے لوگوں کو بے دخل کرنے اور سیب و انگور کے باغات کی کٹائی کا ذکر کیا گیا تھا، لہٰذا وزیراعلیٰ اس کی وضاحت کریں۔
جواب میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر مسلح جتھے نجی املاک میں آکر مورچہ بندی کریں اور باغات کی آڑ لے کر حملے کریں تو حکومت کے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا راستہ رہ جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ملکیت میں مسلح جتھا آکر مورچہ بند ہوتا ہے تو یہ ماننا مشکل ہے کہ مالک کو اس کا علم نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مالک دہشت گردوں کے ساتھ شریک جرم نہیں تو اسے چاہیے کہ فوراً حکومت اور سکیورٹی اداروں کو اطلاع دے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کے باغ سے بھی حملہ کیا گیا، ایسے میں یہ بات کیسے مانیں کہ باغ کے مالک کو دن دہاڑے ہونے والی اس سرگرمی کا علم نہیں تھا۔
’فوری طور پر باغات کاٹنے کا فیصلہ نہیں کیا‘
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت نے یہ نہیں کہا کہ وہ فوری طور پر باغات کاٹنے جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نجی املاک مسلسل سکیورٹی فورسز اور پولیس کے خلاف استعمال ہوتی رہیں تو حکومت کے پاس کارروائی کے سوا دوسرا کیا آپشن ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ قانون واضح ہے اور اگر کوئی شخص دہشت گردوں کا سہولت کار ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال سکیورٹی فورسز ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہیں، تاہم نجی املاک کو کسی کو بھی ریاست اور سکیورٹی اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
’آبادی کو ڈھال بناکر حملے کیے جاتے ہیں‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد آبادی کو ڈھال بنا کر حملے کرتے ہیں، اس لیے نجی املاک کے مالکان کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مستونگ سمیت ایسے علاقوں میں جہاں سکیورٹی فورسز کو نجی املاک سے حملوں کا سامنا ہے، حکومت اب اس معاملے پر ایکشن لے گی۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران مالاکنڈ، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں سے آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی اور بڑی تعداد میں لوگ عارضی طور پر بے گھر ہوئے۔
ان کے بقول اس کے برعکس بلوچستان میں آج تک ایک بھی گاؤں خالی نہیں کرایا گیا، جبکہ موجودہ صورت حال میں پورے مستونگ سے آبادی کی نقل مکانی نہیں کرائی جارہی۔
’شودپارود میں 1970 سے فراری کیمپ ختم نہیں ہوئے‘
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شودپارود ایک پہاڑی سلسلہ ہے جہاں 1970 سے لے کر آج تک فراری کیمپ ختم نہیں ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے میں تقریباً ایک ہزار افراد آباد ہیں، جنہیں نوٹسز دیے گئے ہیں۔ حکومت انہیں عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل کرے گی اور ان کی دیکھ بھال بھی کی جائے گی تاکہ علاقے میں سکیورٹی آپریشن کیا جاسکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعلیٰ بلوچستان نے گذ شتہ روز کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستونگ سمیت صوبے کے جن علاقوں میں انگور اور سیب کے باغات سے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے جائیں گے، وہاں باغات کے مالکان کو دہشت گردوں کا سہولت کار تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایسے علاقوں سے آبادی کا انخلا کیا جائے گا اور باغات کے درخت بھی کاٹے جاسکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے اس بیان پر قبائلی عمائدین، سیاسی رہنماؤں اور علاقے کے عوام کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ باغات کے درخت کاٹنے سے دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
