ایس سی او اجلاس: پاکستان، انڈیا سمیت رکن ممالک کے سربراہان کرغزستان پہنچنا شروع

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہو رہا ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

پیر کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر کرغستان کے دارالحکومت بشکیک روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ  ایس سی او سربراہ  اجلاس سے خطاب کریں گے اور مختلف  علاقائی و عالمی امور  پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

شہباز شریف ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم، ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی بھی شریک ہوں گے۔

بیان کے مطابق: ’دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق  چین، روس اور انڈیا کے رہنما ان سربراہان مملکت میں شامل ہیں جو ایس سی او کے سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

ایس سی او کو امریکی عالمی اثر و رسوخ کے توڑ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

وسطی ایشیائی ملک کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والی ان تقریبات میں چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادی میر پوتن اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت متوقع ہے۔

اجلاس کے موقع پر کئی ون آن ون ملاقاتیں طے ہیں، جن میں پیر کو پوتن اور شی کے درمیان ایک ملاقات، اور منگل کو، جو شنگھائی تعاون تنظیم کے باضابطہ اجلاسوں کا دن ہے، روسی رہنما اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی شامل ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روس، جس کے یوکرین پر مکمل حملے کو ساڑھے چار سال ہو چکے ہیں، اور ایران، جس کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کو چھ ماہ ہو چکے ہیں، اس سربراہی اجلاس کو غیر مغربی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ایس سی او کو 2001 میں چین، روس اور چار وسطی ایشیائی ریاستوں نے ایک سکیورٹی فورم کے طور پر قائم کیا تھا۔ گذشتہ چوتھائی صدی کے دوران، اس کے حجم اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، اگرچہ اس کے اہداف اور پروگرام غیر واضح ہیں اور اس کی پہچان کم ہے۔

اب اس میں 10 ممالک شامل ہیں۔ روس، چین، انڈیا، ایران، پاکستان، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان۔ کئی دیگر ممالک کو ’ڈائیلاگ پارٹنرز‘ کا درجہ حاصل ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *