انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کے سامنے پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار بھی تنکوں ڈھیر ثابت ہوئی جب جمعے کو پوری مہمان ٹیم دو سیشنز میں 110 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
دوسرے روز انگلینڈ کے بولرز نے پاکستان کے خلاف مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ اگرچہ دوسرے روز بیٹنگ کے لیے حالات قدرے سازگار تھے، تاہم درست لائن اور لینتھ پر بولنگ کرنے والے بولرز کو اب بھی مدد مل رہی تھی، جس کا انگلینڈ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
پاکستان کو اوپنر امام الحق کی پنڈلی کی انجری کے باعث عدم دستیابی کا نقصان بھی اٹھانا پڑا، تاہم انگلینڈ کی مجموعی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کی غیر موجودگی ممکنہ طور پر میچ کے نتیجے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوئی۔
اولی رابن سن اور جوفرا آرچر کی قیادت میں جوش ٹنگ اور گس ایٹکنسن نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان کی جانب سے اذان اویس 46 رنز کے ساتھ نمایاں رہے اور ان کے علاوہ کوئی بھی بیٹر 20 رنز کا ہندسہ عبور نہ کرسکا۔
اولی رابن سن نے شاندار کم بیک کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 11 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ جوفرا آرچر نے تیز رفتار بولنگ کرتے ہوئے 26 رنز کے عوض تین پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ تین اننگز میں پاکستان کا سب سے بڑا سکور صرف 171 رنز رہا ہے اور ٹیم کسی بھی اننگز میں 50 اوورز کے برابر وقت تک بیٹنگ نہیں کرسکی۔
میچ کے دوسرے دن کے آغاز پر انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز 290 رنز پر مکمل کی یوں اسے پاکستان کے خلاف 180 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔
دوسری اننگز میں انگلینڈ کی شروعات بھی اچھی نہ رہی اور اس کے 13 رنز پر دو کھلاڑی آؤٹ ہوگئے، تاہم ایمیلیو اور جو روٹ نے 47 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا۔
جو روٹ 24 رنز بنا کر محمد علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
جو روٹ کے نعد ہیری بروک کو پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا تاہم ریویو کے بعد ایمپائر کا فیصلہ تبدیل ہوا۔
دوسرے دن کے اختتام پر انگلینڈ نے دوسری اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 81 رنز بنا لیے تھے اور اسے مجموعی طور پر 261 رنز کی برتری حاصل ہوگئی تھی۔
