پمز آتشزدگی: ایمرجنسی راستے بند، حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، سی ڈی اے رپورٹ

عرب نیوز کی جانب سے جائزہ لی گئی ایک سرکاری فائر رپورٹ میں اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہونے اور ہنگامی اخراج کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار پائے گئے ہیں، جہاں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود جان سے گئے۔ رپورٹ میں درج ریکارڈ سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آگ لگنے کے 16 منٹ بعد پہلی بار ایمرجنسی سروسز کو اطلاع کیوں دی گئی۔

ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں بدھ کی صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر آگ لگی۔

سی ڈی اے کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں پہلی ایمرجنسی کال کا وقت 6 بج کر 54 منٹ درج ہے، فائر بریگیڈ کے عملے کو 6 بج کر 55 منٹ پر روانہ کیا گیا جبکہ ابتدائی امدادی ٹیم 7 بج کر ایک منٹ پر ہسپتال پہنچی۔

رپورٹ میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ پمز کے مطابق آگ لگنے کے 16 منٹ بعد پہلی ایمرجنسی کال کیوں ریکارڈ کی گئی۔ اس وقت حکومت کی جانب سے متعدد تحقیقات جاری ہیں، جن میں آگ لگنے کی وجہ، فائر سیفٹی کے انتظامات، عملے کی تعداد اور ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے ایک میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’آگ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی اور غیر مؤثر تھے اور مقررہ معیارات کے مطابق نہیں تھے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ایمرجنسی صورت حال میں باہر نکلنے کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند یا رکاوٹوں کا شکار پائے گئے‘ جبکہ ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے ’فائر بریگیڈ کے عملے کی ابتدائی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔‘

سی ڈی اے کی رپورٹ کے یہ نتائج آگ لگنے کے بعد پمز کی جانب سے جاری کیے گئے مؤقف سے متصادم ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ تمام ہنگامی راستے ’مکمل طور پر کھلے اور قابلِ استعمال‘ تھے۔ ہسپتال کے مطابق نرسری میں ڈیوٹی پر موجود دو ڈاکٹروں اور دو نرسوں نے فوری طور پر کارروائی کی، سکیورٹی عملے کو اطلاع دی اور بچوں تک پہنچنے کی دو مرتبہ کوشش کی، تاہم صبح 6 بج کر 39 منٹ پر ایک زوردار دھماکا ہوا۔

پمز کے مطابق نرسری سے ایک بچے کو جبکہ ملحقہ کمرے سے چار بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم 14 بچے جان سے گئے۔ ہسپتال کا کہنا ہے کہ عملے نے ملحقہ گائنی وارڈ سے تین ماؤں اور 73 مریضوں کو بھی بحفاظت باہر نکالا۔

دوسری جانب سی ڈی اے کی رپورٹ میں سات بچوں کی موت اور سات کو زندہ نکالے جانے کا ذکر ہے، جبکہ 10 خواتین اور دو مردوں کو بھی ریسکیو کیے جانے کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ میں سی ڈی اے کی جانب سے درج سات اموات اور پمز و حکومت کی جانب سے تصدیق شدہ 14 نومولود بچوں کی اموات کے درمیان فرق کی وضاحت نہیں کی گئی، نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ آیا اس کے اعداد و شمار صرف سی ڈی اے کے ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے نمٹائے گئے جانی نقصانات تک محدود ہیں۔

رپورٹ میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ ’بجلی کا شارٹ سرکٹ یا پلگ پر اضافی لوڈ‘ قرار دی گئی ہے، تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی تحقیقات کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے چیئرمین نے آگ کو ایئر کنڈیشنر سے جوڑنے والے ابتدائی مؤقف پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایئر کنڈیشنر بند نظر آ رہا تھا۔

کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے جمعرات کی سہ پہر پمز کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’نرسری بچوں کے لیے موزوں نہیں تھی۔‘

جمعرات کی سہ پہر کمیٹی کے پمز کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ یونٹ ایک قدیم اور خستہ حال عمارت میں قائم تھا، جبکہ قریب ہی موجود نئی عمارت مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی تھی۔

ہسپتال کے آکسیجن نظام کے کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پمز کے ابتدائی مؤقف کے مطابق ایک چنگاری کے چند ہی سیکنڈ بعد شدید آگ بھڑک اٹھی، کیونکہ ہر انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن پوائنٹس نصب تھے۔

ہسپتال کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری کے اندر دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں، جبکہ عملے نے آگ پر قابو پانے کی کوشش میں 35 آگ بھجانے والے آلات استعمال کیے۔

ہنگامی ردِعمل کی ٹائم لائن

اموات کے بعد ہنگامی امدادی کارروائی کے وقت کا تعین ایک اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے۔

سی ڈی اے کی واقعے سے متعلق رپورٹ میں ایک مریض کے تیماردار، جو نرسری سے بحفاظت باہر نکل آئے تھے، کا نام صرف ’وہاب‘ درج ہے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کا دفتر بھی رپورٹ میں اطلاع دینے والوں میں شامل ہے۔

وہاب نے عرب نیوز کو بتایا کہ امدادی اہلکاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی مریضوں کے تیماردار اور ہسپتال کا عملہ گھنے سیاہ دھویں کے باعث نرسری تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

انہوں نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا: ’میں دو مرتبہ اندر گیا، لیکن حالات ناقابل برداشت تھے۔ دھواں اتنا شدید تھا کہ میرا گلا گھٹنے لگا۔ کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔‘

سی ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق موقعے پر پہنچنے والے پہلے فائر بریگیڈ عملے کو ’شدید‘ دھویں کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق صبح سات بج کر 6 منٹ سے 7 بج کر 25 منٹ کے درمیان مختلف فائر سٹیشنز سے مزید امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر چھ فائر ٹینڈرز، چھ ایمبولینسز، ایک ریسکیو وین اور ایک واٹر باؤزر موقع پر پہنچے۔

رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کی کارروائی کا سرکاری ردعمل کا وقت چھ منٹ تھا، جو صبح 6 بج کر 55 منٹ پر فائر عملے کی روانگی اور صبح 7 بج کر ایک منٹ پر ہسپتال پہنچنے کے وقت کے درمیان کا دورانیہ ہے۔

حکام کے مطابق فائر فائٹرز نے پچھلی گیلری سے سیڑھیوں کے ذریعے اندر داخل ہو کر امدادی کارروائیاں کیں۔

سی ڈی اے کی رپورٹ میں جائے وقوع پر’ناکافی ہجوم مینجمنٹ‘ کی بھی نشاندہی کی گئی۔

فائر سیفٹی کے ماہر محمد عامر چوہان، جنہوں نے آتشزدگی کے بعد پمز کا دورہ کیا، کہا کہ نومولود بچوں کے وارڈز جیسے انتہائی حساس مقامات پر خودکار آگ بجھانے کا نظام اور ایسا تربیت یافتہ عملہ موجود ہونا چاہیے جو ہنگامی صورت حال میں آکسیجن اور دیگر گیسوں کی فراہمی فوری طور پر منقطع کر سکے۔

چوہان نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’نومولود بچوں کے وارڈ جیسے تکنیکی اور انتہائی حساس مقامات پر خودکار فائر سَپریشن سسٹم ہونا ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ایک معمولی آگ صرف تین منٹ میں بڑی آگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔‘

عرب نیوز آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں کرسکا کہ چوہان کی جانب سے بیان کردہ مخصوص فائر سَپریشن سسٹمز پمز کی نرسری پر لاگو ضوابط کے تحت لازمی ہیں یا نہیں۔

خاندان جوابات کے منتظر

نوزائیدہ بچوں کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ آگ پھیلنے کے دوران ہسپتال انتظامیہ نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔

آگ میں اپنی نومولود بیٹی کو کھونے والے مدثر زہراب نے کہا: ’اگر میری بچی کسی بیماری سے انتقال کر جاتی تو شاید اتنا دکھ نہ ہوتا۔‘

زہراب کے مطابق انہوں نے اپنی بیٹی کو تلاش کرنے میں تقریباً 90 منٹ گزارے، جس کے بعد وہ اسے مردہ خانے میں ملی۔

والدین اور ہسپتال کے ایک ملازم نے عرب نیوز کو آگ میں جان سے گئے پانچ بچوں کی تصاویر فراہم کیں۔

عرب نیوز نے ان تصاویر کا جائزہ کراچی کی چیف پولیس سرجن اور فرانزک میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر سمیعہ سید طارق سے کروایا، جنہوں نے کہا کہ بچوں کے جسموں پر ’سطحی سے لے کر گہرے درجے تک جھلسنے کے نشانات‘ موجود تھے۔

پمز کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی۔ تاہم عرب نیوز آزادانہ طور پر ان کی موت کی طبی وجوہات کی تصدیق نہیں کرسکا، جبکہ اموات سے متعلق حالات کی تحقیقات جاری ہیں۔

یہ سانحہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند ماہ قبل اسلام آباد کے حکام نے دارالحکومت بھر میں فائر سیفٹی کے ضوابط پر عمل درآمد میں بڑے پیمانے پر خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

سی ڈی اے کے مطابق 2026 میں کیے گئے ایک سروے میں 6 ہزار 500 سرکاری و نجی عمارتوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں 300 سرکاری عمارتیں بھی شامل تھیں۔

سروے میں معلوم ہوا کہ بیشتر عمارتوں نے فائر سیفٹی منصوبوں کی منظوری حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی انہیں تکمیل اور فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں صحت کے شعبے کے ضوابط اور حفاظتی معیار پر جانچ پڑتال مزید سخت ہوگئی ہے۔ پارلیمانی اداروں، جن میں پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق ٹاسک فورس اور کاکس آن چائلڈ رائٹس شامل ہیں، نے حفاظتی پروٹوکول، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے معیار اور انخلا کے طریقہ کار کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

 کمیٹی نے جمعرات کو پمز کا دورہ کیا اور اسے 48 گھنٹوں میں ابتدائی سفارشات جبکہ پانچ روز میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شہباز شریف نے آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو بھی معطل کر دیا ہے۔

ان کے جانشین اور قائم مقام سیکریٹری وزارتِ صحت کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد محمود نے تحقیقات مکمل ہونے تک ممکنہ انتظامی غفلت سے متعلق مخصوص سوالات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

محمد محمود نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میرے خیال میں، میں اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے ایسا کرنا چاہیے، کیونکہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مخصوص کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو انتہائی معتبر اور باصلاحیت ہے۔ ‘

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی غفلت ثابت ہونے کی صورت میں حتمی تحقیقات میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے، ایمرجنسی راستوں سے متعلق پالیسی، عملے کی تعداد اور فائر سیفٹی کے تقاضوں پر عمل درآمد سے متعلق عرب نیوز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔

پمز کا کہنا ہے کہ واقعے کی ’شفاف‘ تحقیقات جاری ہیں اور مختلف تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹس کا انتظار ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *