پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے منگل کو بتایا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق حکومتی عہدے داروں کی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کے الزام میں دائر توہین عدالت کی درخواست دوبارہ جمع کرا دی گئی۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اصل درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی تھی۔
18 اگست کو عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ 73 سالہ سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرے لیکن انہیں سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایسا کرنا ضروری تھا اور اس اقدام سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
عمران خان کے معاون زلفی بخاری نے منگل کو ایک بیان میں کہا ’پی ٹی آئی کسی طریقہ کار سے متعلق اعتراض کو سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کے لیے ڈھال نہیں بننے دے گی۔‘
انہوں نے کہا ’اعتراض دور کردیا گیا، توہینِ عدالت کی درخواست دوبارہ دائر کردی گئی اور سوال اب بھی سادہ ہے: کس نے انتظامیہ کو سپریم کورٹ کے پابند حکم کو نظر انداز یا اس کی نوعیت تبدیل کرنے کا اختیار دیا؟‘
پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراضات اٹھانے کے بعد اسے واپس کیا تھا، تاہم توہینِ عدالت کے مقدمے کو میرٹ پر مسترد نہیں کیا گیا۔
پارٹی کے مطابق اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ جمع کرا دی گئی ہے۔
اصل درخواست ہفتے کو عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام کے خلاف دائر کی تھی۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ہسپتال منتقل کرنے کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
توہین عدالت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کا عدالتی حکم کے مطابق مکمل طبی معائنہ نہیں کیا گیا اور صرف معمول کا آنکھوں کا معائنہ، آنکھ میں انجیکشن اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا۔
حکومت نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پمز میں شفا ہسپتال کے ماہر امراضِ چشم نے عمران خان کا معائنہ کیا اور ان کی بہن کو بھی وہاں موجود رہنے کی اجازت دی گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ہفتے کو ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ’سپریم کورٹ کے حکم کی تمام شرائط، تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔‘
تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کے شفا ہسپتال کے باہر جمع ہونے کے بعد مقام تبدیل کیا گیا کیونکہ حکومت کے خیال میں اس سے سکیورٹی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔
انہوں نے عمران خان کی جماعت اور اہل خانہ پر الزام عائد کیا کہ وہ عدالت کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے طبی علاج کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔
حکومت نے الگ سے سپریم کورٹ کے اس حکم پر نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی ہے جس میں شفا ہسپتال کو خاص طور پر عمران خان کے علاج کے لیے مقرر کیا گیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی سزا یافتہ قیدی کو کسی مخصوص نجی ہسپتال میں علاج کی اجازت دینے سے دیگر قیدیوں کو بھی اسی نوعیت کی درخواستیں دائر کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے یہ درخواست بھی دائر کرنے میں خامیوں کے باعث پہلے ہی واپس کردی تھی۔
عمران خان 2018 سے اپریل 2022 تک وزیراعظم رہے، جب انہیں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔
وہ اگست 2023 سے قید ہیں اور اقتدار سے علیحدگی کے بعد انہیں 100 سے زائد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بدعنوانی کے الزامات سے لے کر مئی 2023 میں ان کی مختصر گرفتاری کے بعد حامیوں کی جانب سے ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں۔
القادر ٹرسٹ اراضی بدعنوانی کیس میں سنائی گئی 14 سالہ سزا کے علاوہ عمران خان کی تمام سزائیں معطل یا کالعدم ہوچکی ہیں جبکہ ان کے خلاف اپیلیں زیرِ التوا ہیں۔ عمران خان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
