خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں پولیس کے مطابق تقریباً پانچ سالہ بچی آیت نور کی بوری بند لاش 15 دن بعد قریبی علاقے میں ایک کنویں سے برآمد کر لی گئی ہے جس کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
آیت نور نامی بچی کی لاش برآمد ہونے کے بعد گذشتہ رات علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد ہسپتال میں جمع ہوئی اور بطور احتجاج جی ٹی روڈ ہری پور کو بھی ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔
بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد بھی علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے پولیس سے بچی کی برآمدگی کا مطالبہ کیا تھا۔
واقعہ کیسے پیش آیا تھا؟
تقریباً پانچ سالہ آیت نور 10 اگست کو گھر سے باہر نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد تین ملزمان کو گرفتار تو کر لیا گیا تھا مگر پولیس کو بچی کا سراغ لگانے میں دشواری ہو رہی تھی۔
پولیس کے مطابق 24 اگست کو آیت نور کی بوری بند لاش یونیورسٹی آف ہری پور کے قریب ایک غیر فعال کنویں سے ملی جبکہ گرفتار ملزمان نے جج کے سامنے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا۔
ہری پور کے ضلعی پولیس آفیسر شفیع اللہ گنڈاپور نے واقعے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولہ بچی ایک غریب دیہاڑی دار کی بیٹی ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ بچی جس شخص کے ساتھ مانوس ہوکر گھر سے نکلی تھی، اسے ٹریس کر لیا گیا ہے۔
پولیس بیان کے مطابق ’جس نے بچی کو اشارہ کیا اور بچی اس کے پیچھے گئی تھی، اسے بھی معلوم کر لیا گیا ہے جبکہ گھر سے نکلنے کے بعد بچی جس کے حوالے کی گئی تھی، اس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس واقعے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے جبکہ جس راستے سے بچی کو لے جایا گیا تھا، اس کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی گئی ہیں۔
صوبائی پولیس سربراہ (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بھی واقعے کا نوٹس لیا ہے اور آئی جی دفتر سے جاری بیان کے مطابق واقعے میں پانچ ملزمان کی نشاندہی ہوئی ہے جس میں سے تین ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں ایک کم عمر ہونے کی وجہ سے عدالت نے جووینائل جسٹس سسٹم کے ذریعے جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ ایک ملزم پولیس ریمانڈ میں ہے جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔
بچی کی لاش کنویں سے کیسے ملی؟
پولیس 15 دنوں سے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے باوجود بچی کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی تھی اور بالآخر اس کی بوری بند لاش مل گئی۔
ضلعی پولیس سربراہ شفیع اللہ گنڈاپور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقوعے کے قریب ایک صحافی کا گھر ہے جنہوں نے تفتیش میں مدد کر کے سی سی ٹی وی فوٹیجز فراہم کیں اور انہیں فوٹیجز کے ذریعے بچی کو ورغلانے والے کم عمر لڑکے کو ٹریس کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس مرکزی ملزم نے جج کے سامنے جنسی زیادتی کا اعتراف کیا اور دوران تفتیش اس نے کنویں کی نشاندہی کی۔‘
شفیع اللہ گنڈاپور کے مطابق یہ کنواں ایک غیر فعال اور گہرا کنواں ہے جہاں جھاڑیاں بھی موجود تھیں اور پولیس نے وہاں جا کر اسی کنویں سے بوری بند لاش برآمد کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش میں صحافی کے گھر کی جانب سے فراہم کردہ فوٹیج نے بہت مدد کی۔
شفیع اللہ گنڈاپور نے بتایا کہ ’ملزمان اسی علاقے سے ہیں جس میں ایک کم عمر لڑکے نے بچی کو گھر سے ورغلا کر دیگر ملزمان کے حوالے کیا تھا اور اب مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں جنہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘
