حال ہی میں جب ’مرزا پور‘ کا ٹیزر آیا تو بیشتر کا خیال تھا کہ ممکن ہے کہ اس ویب سیریز کا چوتھا سیزن آ رہا ہو لیکن پھر ٹریلر کی رونمائی سے پہلے یہ معلوم ہوا ہے کہ اب اس ایکشن تھرلر سیریز کو بڑے پردے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اب 4 ستمبر کو فلم ’مرزا پور دی مووی‘ کو سینیما گھروں کی زینت بنایا جائے گا۔
علی فضل، منوج ترپاتھی، دیوندو شرما، شیوتا ترپاتھی سمیت کئی نامی گرامی ستاروں کی اس ویب سیریز پر فلم آنے کی خبر نے شائقین میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ پہلی بار ہوگا کہ بالی وڈ میں کسی ویب سیریز کی مقبولیت اور شہرت کا دائرہ اس قدر وسیع ہوا کہ اس پر فلم پیش کی جا رہی ہے۔ ’مرزا پور دی مووی‘ میں بھی اداکاروں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ویب سیریز کے ہر سیزن میں آتے گئے اور پھر ان کے کردار ختم بھی ہوئے۔
بہرحال فلم کو اور زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے اس میں بھوج پوری فلموں کے مشہور اداکار روی کشن کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ ایک اور ویب سیریز ’پنچایت‘ کے مرکزی کردار جتندر کمار بھی اس تخلیق کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہی نہیں فلم میں بالی وڈ کی دیگر فلموں کی طرح گانے بھی ہیں۔
ویب سیریز کا موضوع کیا ہے ؟
سال 2018 میں جب اس ویب سیریز کا پہلا سیزن آیا تو اس نے اپنی کہانی، ایکشن، چلبلے لیکن بولڈ مکالمات اور جان دار اداکاری کی بنا پر پرستاروں کے دلوں میں جگہ بنا لی۔ ویب سیریز کو اصل مقبولیت اس وقت ملی جب کرونا وبا پھیلی اور سینیما گھروں میں تالے لگے تو ایسے میں صرف ’مرزا پور‘ ہی نہیں دیگر ویب سیریز کا رحجان فروغ پانے لگا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ویب سیریز ’مرزا پور‘ کی کہانی گھوم رہی تھی دو پڑھے لکھے نوجوانوں کے گرد جنہیں حالات اور واقعات جرائم کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ شارٹ کٹ کے ذریعے دولت اور طاقت کا جنون پھر انہیں ان دیکھے راستوں کا بھی مسافر بناتا ہے، جس کے قدم قدم پر خون کی ہولی اور رشتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ کہانی جرائم پیشہ سرغنہ اور وزیروں کے گٹھ جوڑ کو دکھاتی ہے۔ منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ اور خرید و فروخت بھی فلم کا موضوع رہی لیکن اصل گھمسان کی جنگ تو علاقے پر حکمرانی کے لیے ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ویب سیریز کے ذریعے منا بھیا یعنی دیوندو شرما کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ بااثر قالین بھیا کے خود سر اور بےرحم بیٹے کے روپ میں وہ طاقت کے خمار میں ہر شخص کو روند ڈالتے ہیں جو ان سے اختلاف کرے۔ ان کے برجستہ مکالمات اور ان کی ادائیگی کا انداز تو جیسے دلوں میں گھر کرگیا۔ ان کے کردار کی پسندیدگی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ سیزن 3 میں ان کی غیر موجودگی سب نے محسوس کی اور یہ سیزن گذشتہ کے مقابلے میں زیادہ پذیرائی حاصل نہ کرسکا۔
پہلے سیزن کی زبردست کامیابی کے بعد سال 2020 میں دوسرا اور پھر 2024 میں اس ویب سیریز کا تیسرا سیزن آیا۔ یہاں یہ بھی بتا دیں کہ دسمبر 2021 میں الہ آباد ہائی کورٹ میں ویب سیریز کے تخلیق کاروں کے خلاف ایک شکایت بھی درج کرائی گئی جس میں الزام لگایا گیا کہ سیریز کے ذریعے مرزا پور شہر کو بدنام کیا گیا اور برہمن کمیونٹی جن کی نمائندگی ترپاتھی خاندان کرتا ہے، کو منفی انداز میں پیش کیا۔ یہ اور بات ہے کہ عدالت نے شکایت کو مسترد کر دیا۔ مرزا پور دراصل انڈین ریاست اترپردیش کا شہر ہے۔
اب فلم بنانے کا خیال کیوں؟
ویب سیریز کے ایک پروڈیوسر اداکار فرحان اختر بھی ہیں۔ ٹریلر کی رونمائی کے دوران ان سے جب معلوم کیا گیا کہ انہوں نے ویب سیریز پر فلم بنانے کا ارادہ کیوں کیا؟ تو ان کا دعویٰ یہی رہا کہ پرستاروں کا مطالبہ تھا۔ ویب سیریز کے مداح اس دنیا اور کرداروں کو مزید دیکھنا چاہتے تھے جس کے بعد اسے او ٹی ٹی سے نکال کر سینیما گھروں میں لانے کا فیصلہ کیا۔
کہا جا رہا ہے کہ فلم کی کہانی پہلے سیزن کے آس پاس ہی گھوم رہی ہے جبھی کئی کردار جن کا ویب سیریز میں خاتمہ ہوچکا تھا انہیں فلم میں شامل کیا گیا ہے۔ فلم کی کہانی اس بار صرف اترپردیش ہی نہیں راجستھان کے علاقوں میں بھی گھومے گی۔
منا ترپاتھی یعنی دیوندو شرما ویب سیریز کی جان تھے اور اسی لیے فلم میں ان کے کردار کو اور نمایاں کیا گیا ہے۔ دیوندو شرما فخریہ کہتے ہیں کہ وہ بالی وڈ فلم ہیرو ہیں اور اسی لیے فلم میں ان کے کردار کو رکھا گیا۔ ٹریلر سے بظاہر ایسا ہی لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر مرزا پور کی سلطنت پر قبضے کی جنگ ہوگی۔ ایک طرف قالین ترپاتھی اپنے اثر و رسوخ اور دولت کے بل بوتے پر ہوں گے تو دوسری جانب گڈو پنڈت یعنی علی فضل ان سے ٹکرانے کے لیے اپنی چالیں چلیں گے۔
ویب سیریز پر فلم بنانے کے اس عمل کے بعد اب ایک نئی بحث کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔ بیشتر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جو یہ سمجھتے تھے کہ فلموں کا دور ختم ہوچکا ہے۔ انہیں اب اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ پروڈیوسرز چاہے کتنی بھی بڑی ویب سیریز بنا لیں لیکن انہیں لوٹ کر پھر بھی سینیما گھروں کی طرف آنا ہوتا ہے۔ یعنی او ٹی ٹی کی مقبولیت بڑے پردے کی ہی محتاج ہے۔
نگاہیں تو سب کی اس بات پر جمی ہیں کہ ’مرزا پور دی مووی‘ کتنا کاروبار کرتی ہے؟ اگر فلم نے باکس آفس پر بہترین کمائی کر دی تو کوئی بعید نہیں کہ اس کے بعد دیگر مشہور ویب سیریز کو بھی سینیما گھروں میں بطور فلم پیش کیا جائے۔
یہاں ایک سوال یہ بھی جنم لے رہا ہے کہ او ٹی ٹی پر پیش کی جانے والی ویب سیریز سنسر کی قید سے آزاد ہوتی ہیں۔ اسی بنا پر اخلاق سوز اور ہوشربا مناظر، جابجا خون خرابہ اور گالم گلوچ ان میں تواتر کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔ بڑے پردے پر جب فلم پیش ہونے سے اس پر سینسر کی قینچی چلے گی تو اس کی اصل کہانی کہیں متاثر نہیں ہوگی؟
