ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کرنا ’وقت کا ضیاع‘ ہے، ٹرمپ نے ترکی کے شہر انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران کہا اور یوں امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کی موت کا اعلان کر دیا، حالانکہ اس معاہدے کی 60 روزہ مدت ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھی۔
’میرا خیال ہے کہ یہ ختم ہو چکا ہے،‘ انہوں نے کہا، اور ایرانی قیادت کو ’گھٹیا لوگ‘ اور ’پاگل‘ قرار دیتے ہوئے ٹی وی پر براہِ راست نشریات کے دوران گذشتہ ماہ جنیوا کے جھیل کنارے واقع ایک ریزورٹ میں طے پانے والے معاہدے کو ختم کر دیا۔
براہِ راست ٹی وی پر سرزنش ہی وہ چیز تھی جس کا اتحادی ممالک کو اجلاس سے پہلے خدشہ تھا۔ تاہم ان کے لیے کسی حد تک اطمینان کی بات یہ رہی کہ اب تک ٹرمپ کے غصے کا بڑا نشانہ ایرانی دکھائی دیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اتحادی انقرہ سے بغیر کسی نقصان کے واپس جائیں گے، کیونکہ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر یورپی ممالک کی مبینہ بے وفائی اور وفاداری کے امتحان میں ناکامی پر بھی سخت تنقید کی۔
یہ اس شخص کے طرزِ عمل کا بار بار دہرایا جانے والا نمونہ ہے جس کا فطری رویہ اپنے حلیفوں اور دشمنوں دونوں کو الجھن میں ڈالنا ہے۔ بعض حوالوں سے دیکھا جائے تو ٹرمپ کا نقطہ یہ ہے کہ اب وہ خود بھی ان دونوں میں فرق نہیں کر سکتے۔
پریس کے سامنے جب امریکی صدر سپین، برطانیہ اور نیٹو کو ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ میں مدد نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹہ ان کے ساتھ خاموشی سے بیٹھے رہے۔ تاہم جب ایک صحافی کے پہلے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے اس جنگ بندی معاہدے کو پارہ پارہ کر دیا جس کی وہ مہینوں سے تشہیر کر رہے تھے تو روٹہ اپنی حیرت چھپاتے نظر آئے۔
ٹرمپ کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب ایران نے جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں 80 سے زیادہ امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تسلیم کیا کہ ایران کی ’بین الاقوامی بحری تجارت پر حملے جاری رکھنے کی صلاحیت کمزور کرنے‘ کے لیے 80 سے زیادہ ایرانی اہداف پر حملے کیے گئے۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کو روکنے کی غرض سے کیے گئے امریکی حملوں کے باوجود اس ہفتے قطر اور سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں سمیت تین بحری جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے ہوئے نشانہ بنے۔
ایرانی حکومت کے بارے میں ٹرمپ نے کہا: ’ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے۔‘ پھر مزید کہا: ’میں انہیں پسند نہیں کرتا۔‘
یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ نے واقعی اپنے ہی معاہدے کو ختم کر دیا ہے یا انہوں نے بس وہی کہہ دیا جو اس لمحے ان کے ذہن میں آیا۔ شاید خود انہیں بھی معلوم نہ ہو۔ لیکن اگر یہ ان کا آخری مؤقف ہے تو اس کی سیاسی قیمت ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے، اگر یہ اب بھی کوئی ایسی چیز ہے جس کی ٹرمپ کو فکر ہو۔
اس سے بھی بڑھ کر، یہ مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ کے روایتی اتحادیوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ البتہ ایرانیوں کے لیے تو یہ یقینی طور پر بری خبر ہے۔
کسی حد تک یہ معاملہ ٹرمپ کی سیاسی میراث سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر وہ خود کو امن کے صدر کے طور پر منوا نہیں سکتے تو وہ خوف اور طاقت کے ذریعے احترام حاصل کرنے پر اکتفا کریں گے۔ لیکن یہ طرزِ عمل بلاشبہ عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔
ایرانی رہنماؤں کے بارے میں ٹرمپ کے توہین آمیز بیانات ایران کے اس جذبے کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند روز قبل کچھ بحری کمپنیاں خطرات مول لے کر دوبارہ ان پانیوں سے گزرنے کی ہمت کر چکی تھیں۔
البتہ ٹرمپ کی دھمکی اسرائیل کے سکیورٹی حلقوں کے لیے خوش آئند خبر ہو گی۔ اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ اس معاہدے کا پابند نہیں اور اس نے زیادہ سخت شرائط کے لیے لابنگ بھی کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ ایران لبنان میں اس کی کارروائیوں پر کسی قسم کا ویٹو استعمال کرے۔ لیکن اسرائیل اس پورے انتظام پر بھی شکوک و شبہات رکھتا تھا جو کسی معتبر نگرانی کے نظام کے بجائے زیادہ ایک غیر رسمی مفاہمت معلوم ہوتا تھا۔
اسرائیل یہ چاہتا تھا کہ ایران کے زیرِ کنٹرول موجود تقریباً 400 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کو نکالنے اور دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے واضح اور سخت طریقہ کار وضع کیا جائے، بجائے اس کے کہ تہران کی اس یقین دہانی پر بھروسہ کیا جائے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کہہ چکے ہیں: ’تمام افزودہ مواد ایران سے باہر جانا چاہیے۔‘
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق وہ باریک اور تکنیکی تفصیلات، جن پر اس جنگ بندی معاہدے کے تحت بعد میں بات ہونا تھی، یورپی اتحادیوں کو بھی پریشان کر رہی ہیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس ایران کے جوہری پروگرام پر ’زیادہ گہرے مذاکرات‘ کی اہمیت پر زور دے چکی ہیں۔
یقیناً اتحادیوں کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ سربراہی اجلاس کی تمام توجہ ایران پر مرکوز ہو جائے گی۔ وہ نیٹو پر بات چیت کرنا چاہتے تھے اور امریکی دفاعی صنعت کے لیے اربوں ڈالر کے سودے پیش کر کے ٹرمپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔
لیکن اجلاس کا آغاز خوشگوار نہیں رہا۔
ٹرمپ اب بھی اس چیز پر ناراض ہیں جسے وہ ایران کے معاملے پر یورپی ممالک کی بے وفائی سمجھتے ہیں۔
’کوئی بھی مدد نہیں کرنا چاہتا تھا،‘ انہوں نے کہا، اور اس کے ساتھ ہی دھمکی دی کہ وہ یورپ سے 80 ہزار سے زیادہ امریکی فوجیوں کو واپس بلا سکتے ہیں اور سپین کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کر سکتے ہیں۔
فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت اہم یورپی ممالک نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی کھل کر حمایت کرنے یا براہِ راست عسکری کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے بعد میں خاموشی سے اپنی فوجی تنصیبات امریکہ کے لیے کھول دیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ قدم ٹرمپ کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہو گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
جب ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کی دھمکی دوبارہ دہرائی تو یورپی ممالک کے لیے اجلاس مزید مشکل ہوتا چلا گیا۔ روٹے، جنہیں اکثر ’ٹرمپ کے سرگوشی کرنے والے‘ سفارت کار کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، شاید اپنی آستین میں کوئی چال رکھتے ہوں۔
انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کو ’بالکل ضروری‘ قرار دیا اور کہا کہ انقرہ اجلاس میں ایران سب سے اہم موضوع ہو گا۔
کیا وہ ٹرمپ کی توجہ ایران کے حوالے سے یورپی حمایت کے سوال سے ہٹا کر ایران کی مبینہ خلاف ورزیوں کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اجلاس سے پہلے اعلیٰ سفارتی ذرائع نے مجھے بتایا تھا کہ اصل توجہ ’بوجھ کی منتقلی‘ پر ہو گی، جو دراصل اس بات کا سفارتی نام ہے کہ یورپی ممالک امریکی فوجی اثاثوں اور فوجیوں کے ایک بڑے حصے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لیں۔
یہ توجہ واضح طور پر ہٹا دی گئی ہے۔ مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا، اور اتحادیوں کو احتیاط سے قدم اٹھانا ہوگا کیونکہ ٹرمپ کا ایران غصہ نیٹو کو دوبارہ تباہ کر سکتا ہے۔
آنچل ووہرا برسلز میں مقیم تجزیہ کار اور تبصرہ نگار ہیں جو یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور انڈیا کے امور پر لکھتی ہیں۔ وہ جریدے فارن پالیسی میں کالم نگار بھی ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا صدروری نہیں۔
