’کشمیر انڈیا کا حصہ:‘ امریکی عہدے دار کے بیان پر پاکستان کی شدید مذمت

پاکستان نے بدھ کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفیر کے بیان پر اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

انڈیا میں امریکی سفیر سرجیو گور نے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، جموں و کشمیر اور لداخ کے دو روزہ دورے کے دوران عبداللہ فاروق سے ملاقات کی۔

انہوں نے آج انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں کہا ’یہ انڈیا کا ایک اہم حصہ ہے، اسی لیے میں یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔

’یہ ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے اور یہاں آکر اور اس جگہ کو دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے۔

’ہماری ملاقات بہت اچھی رہی اور کچھ معاملات پر مزید پیش رفت ہوگی جنہیں ہم واشنگٹن اور نئی دہلی لے کر جائیں گے۔

’تاہم یہ بہت پُرجوش اور خوشگوار ملاقات تھی اور ہم اس تعلق کو مزید آگے بڑھانے کے منتظر ہیں۔‘

گور نے کہا واشنگٹن جموں و کشمیر کے لیے اپنی سفری ہدایات کا جائزہ لے گا، جس کی وجہ انہوں نے سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری اور مرکزی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو قرار دیا۔

گور گذشتہ سال مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان مختصر جنگ کے بعد کشمیر کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی سفارت کار ہیں۔

ان کی جانب سے کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دیے جانے کے بعد دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور گور کے ’غیر قانونی طور پر انڈیا کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق حقائق کے منافی بیان پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔‘

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے جموں و کشمیر کو ’انڈیا کا حصہ‘ قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے واضح طور پر مسترد کر دیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کی حتمی حیثیت کا تعین متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔‘

’اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ امریکی سفیر کا غیر ذمہ دارانہ بیان جموں و کشمیر کے تنازعے پر امریکہ کے دیرینہ اور دستاویزی مؤقف کی نفی کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی بالادستی سے متعلق امریکہ کے عزم کے بھی منافی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مارکۂ حق کے بعد جموں و کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش کو سراہتے ہوئے امریکی فریق پر زور دیا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت سے ہم آہنگ ہوں۔‘

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے متنازع خطے کے لیے گور کے سفری منصوبوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

یہ خطہ 1947 سے پاکستان اور کشمیر کے درمیان مسلسل کشیدگی کا باعث ہے اور مئی 2025 میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان چار روزہ لڑائی کے بعد صدر ٹرمپ نے وہاں جنگ بندی کے لیے ثالثی کی تھی۔

یہ 2019 کے بعد خطے کا کسی اعلیٰ سطح کے امریکی سفیر کا پہلا دورہ ہے، جب انڈیا نے خطے کو اپنے ساتھ ضم کرتے ہوئے انڈین آئین میں اس کی خصوصی حیثیت ختم کردی، محدود خودمختاری واپس لے لی اور اسے دو وفاق کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کردیا تھا۔

کشمیر میں اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام آباد نے اسے خطے کی شناخت اور خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا تھا، جس کا مقصد خطے میں آبادیاتی تبدیلیاں لانا اور آبادکار نوآبادیات کا آغاز کرنا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *