کرکٹ کی جنم بھومی انگلستان ہمیشہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کا پسندیدہ مقام رہا ہے۔ انگلینڈ بین سٹوکس اور برینڈن میکلم کی رخصتی کے بعد اب اپنا پہلا ٹیسٹ پاکستان کے خلاف بدھ سے ہیڈنگلے میں کھیلنے جا رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلستان کے خلاف ماضی میں ہمیشہ مساوی کارکردگی پیش کی ہے اور ٹیسٹ سیریز میں کئی بار شکستوں کے باوجود اپنی مضبوط کارکردگی سے کرکٹ ماہرین کو حیران کیا ہے۔
تاہم پاکستان کو انگلینڈ میں آخری کامیاب ٹیسٹ مہم گزارے 30 سال ہو چکے ہیں۔ پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں اور انگلینڈ پانچویں نمبر پر ہے۔
پاکستان کی ٹیم تین روزہ وارم اپ میچ میں سات وکٹوں کی فتح کے بعد ہیڈنگلے پہنچی ہے، جس میں انگلینڈ کے اوپنر ایمیلیو گے دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔
البتہ پاکستانی کپتان بابر اعظم کی فٹنس پر سوالات برقرار ہیں کیونکہ وہ انگلی کی انجری سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ دو دہائیوں سے پاکستان ٹیم مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور بولنگ بیٹنگ میں معمولی کارکردگی دکھا رہی ہے، لیکن انگلینڈ کے آخری دورے کو نکال دیا جائے تو پاکستان نے ہر دورے پر کچھ ایسی فتوحات حاصل کی جس نے کرکٹ کی ریکارڈ بکس میں اپنا اندراج کرا دیا ہے۔
پاکستان ٹیم نے 2018 کے دورے میں لارڈز کے تاریخی میدان میں سرفراز احمد کی قیادت میں انگلینڈ کو شکست دی تھی۔
تاہم اسی سیریز میں لیڈز ٹیسٹ میں یکطرفہ شکست نے کامیابی کو وقتی بنا دیا تھا۔
پاکستان کا آخری دورہ 2020 میں اس وقت ہوا جب کرونا کے باعث دنیا بھر میں تباہی پھیل رہی تھی۔ اس لیے اس سیریز کو کھلاڑیوں تک محدود کر دیا گیا تھا اور تماشائی ٹی وی پر ہی دیکھ سکے تھے۔
پاکستان وہ سیریز بھی ہار گیا تھا۔ اظہر علی کی قیادت میں ٹیم مشکلات کا شکار رہی۔ بیٹنگ میں شان مسعود کی ایک سینچری کے علاوہ کوئی قابل دید اننگز دیکھنے کو نہیں ملی جبکہ بولنگ بھی واجبی رہی۔
سابق کپتان سرفراز احمد اس وقت بھی ٹیم کے ہمراہ تھے اور اب موجودہ دورے پر ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ہیں۔ اب چھ سال بعد وہ کوچ بن کر کیا کارنامہ انجام دیتے ہیں یہ دیکھنا ہوگا۔
موجودہ دورہ اور توقعات
موجودہ دورے پر بابر اعظم ایک بار پھر قیادت کر رہے ہیں۔ بیٹنگ میں شان دار کارکردگی کے باوجود بابر اعظم اب تک ٹیم کی لیے مرد بحران نہیں بن سکے۔
گذشتہ دو سال سے ان کی خراب فارم کا دورانیہ ویسٹ انڈیز کے دورے سے ختم ہو چکا ہے۔
طویل عرصے کے بعد ان کی سینچری نے ان تمام ناقدین کو خاموش کر دیا ہے جو بابر کے کیریئر کے خاتمے کی بات کر رہے تھے۔
دو سال سے مسلسل تنقید کا نشانہ اگرچہ بابر اعظم رہے ہیں لیکن ٹیم کے کسی بھی اور کھلاڑی نے کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی۔
سپن وکٹ بنا کر جیت کا فارمولا تو دریافت کر لیا گیا لیکن ٹیم کی کارکردگی میں کوئی استحکام نہ آسکا۔ بیٹنگ جو پہلے ہی زبوں حالی کا شکار تھی اب اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
بنگلہ دیش سے جس طرح شکست کھائی اس کے بعد اس ٹیم سے ویسٹ انڈیز کے دورے پر کوئی توقع نہیں تھی لیکن ویسٹ انڈیز کھلاڑیوں کی روایتی غیر ذمہ داری اور لاابالی پن کا فائدہ پاکستان کرکٹ کی گرتی ہوئی دیوار کو ہوا۔
پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کی غلط حکمت عملی ٹیم سیلیکشن نے پاکستان کو جیت کا موقع فراہم کر دیا۔ اچھے سپنرز نہ ہونے کے باوجود ایک سپن وکٹ بنانا تو آبیل مجھے مار کے مترادف تھا۔
اب دورہ انگلینڈ میں پاکستان ٹیم کو موسم کا فائدہ ملے گا کیونکہ اس وقت انگلینڈ میں سخت گرمی ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب بہت کم ہے۔
اس کے باعث فاسٹ بولرز کے لیے مشکلات ہوں گی جبکہ انگلینڈ کے پاس کوئی مستند سپنر موجود نہیں۔
شعیب بشیر ایک کلب کی سطح کے سپنر ہیں، راشد ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ چکے ہیں اس لیے سپن بولنگ کا شعبہ انگلینڈ کا کمزور ہے۔
پہلا ٹیسٹ ہیڈنگلے لیڈز میں ہوگا جو پاکستانی فاسٹ بولرز کا پسندیدہ میدان ہے۔ عمران خان اور وسیم، وقار اس میدان میں متعدد بار طوفانی بولنگ کرچکے ہیں۔
یارکشائر کاؤنٹی میں پاکستانی بولرز کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت پاکستان ٹیم فاسٹ بولنگ سے محروم ہے۔
محمد عباس سمیت تمام بولرز صرف تیز سپن بولنگ کرتے ہیں۔ اگر انگلینڈ فاسٹ پچ بناتا ہے تو بلے بازوں کے لیے سخت مشکلات ہوں گی۔
تاہم پاکستانی سکواڈ میں کئی ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو انگلش حالات سے اچھی طرح واقف ہیں، جن میں 36 سالہ فاسٹ بولر محمد عباس نمایاں ہیں۔
عباس ان قسم کے باؤلرز میں شمار ہوتے ہیں جو تقریباً 77 میل فی گھنٹہ (124 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے گیند کرتے ہیں اور جن کی افادیت پر انگلینڈ کی سابق انتظامیہ اکثر سوال اٹھاتی رہی تھی۔
عباس نے اب تک 118 ٹیسٹ وکٹیں 22.38 کی اوسط سے حاصل کر رکھی ہیں، جو پاکستان کے عظیم فاسٹ باؤلرز عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس کی ٹیسٹ اوسط سے بھی بہتر ہے۔
وہ انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں بھی کئی کامیاب سیزن گزار چکے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق عباس نے پیر کو کہا ’جب ہم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری میچ جیتا تھا، ہم نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی اور اب ہم اس سیریز کو جیتنے کی کوشش کریں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’میں گذشتہ 10 برسوں سے انگلینڈ میں کھیلتا آ رہا ہوں، اس لیے مجھے گرم موسم، سرد موسم اور مختلف حالات میں کھیلنے کا تجربہ ہے۔
’میں اپنے ملک کے لیے کچھ خاص کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔‘
ٹیم کیا ہوگی؟
اوپنر اذان اویس نو آموز ہیں اس لیے ان کا بڑا امتحان ہوگا لیکن تجربہ کار امام الحق سے کسی قسم کی امید نہیں۔
ٹاپ آرڈر میں شان مسعود فٹ ہوچکے ہیں اور یقینی طور پر کھیلیں گے۔ وہ ویسٹ انڈیز میں اچھی فارم میں تھے۔ ایک سینچری نے ان کا اعتماد بہت بڑھا دیا ہے۔
لیکن اصل مسائل مڈل آرڈر کے ہیں جہاں سلمان علی آغا اور محمد رضوان ویسٹ انڈیز میں یکسر ناکام رہے ہیں۔ ان سے بہت کم امید ہے۔
سعود شکیل کی بھی واپسی ہوگی جو قابل اعتماد کھلاڑی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب مینیجمنٹ کو زیادہ اعتبار نہیں۔
تاہم تجربے کی بنیاد پر وہی کھیلیں گے فاسٹ بولنگ میں محمد عباس، خرم شہزاد اور محمد علی پہلی چوائس ہوں گے لیکن اگر پچ پر گھاس ہوئی تو شاید پاکستان عبید شاہ کو بھی کھلائے۔
انگلینڈ کی ٹیم جو روٹ کی قیادت میں اس سیریز میں جارح حریف کی صورت میں نمودار ہوگی۔
اگرچہ ٹیم کے ہیڈ کوچ برینڈن میکولم تبدیل ہوچکے ہیں اور نیوزی لینڈ کے سب سے کامیاب کپتان سٹیفن فلیمنگ نئے کوچ ہیں شاید اب انگلینڈ بیزبال کرکٹ چھوڑ کے روایتی کرکٹ کھیلے، لیکن دونوں صورتوں میں ہیری بروک اولی پوپ بین ڈکٹ سے کسی رحم کی امید نہ رکھی جائے جبکہ ایٹنکسن، آرچر اور رابنسن کا بولنگ اٹیک انتہائی خطرناک ہے۔
کپتان بین سٹوکس نے جون میں ٹرینٹ برج میں نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے دوران اچانک بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
آل راؤنڈر سٹوکس یہ اعلان اس وقت کر رہے تھے جب انگلینڈ کو 160 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
میکلم کو انگلینڈ کے ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا کیونکہ ٹیم اپنے گذشتہ نو سرخ گیند کے میچوں میں سے سات ہار چکی تھی، تاہم وہ اب بھی محدود اوورز کی ٹیموں کے انچارج ہیں۔
میکلم اور سٹوکس کے دور میں انگلینڈ کی انتہائی جارحانہ حکمت عملی سے کئی سنسنی خیز فتوحات ضرور حاصل ہوئیں، لیکن ٹیم انڈیا اور آسٹریلیا جیسی طاقتور حریفوں کے خلاف کوئی سیریز جیتنے میں ناکام رہی۔
اس حکمت عملی پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ انگلینڈ نے نتائج کی بجائے انداز کو ترجیح دی۔
جو روٹ نے، جو دوسری مرتبہ مستقل کپتان کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں اور اس سے قبل سٹوکس کے پیش رو رہ چکے ہیں، کہا کہ وہ حکمت عملی کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کریں گے بلکہ اس میں کچھ تبدیلیاں لائیں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
روٹ کو اس وقت دوبارہ کپتان مقرر کیا گیا جب انگلینڈ نے محدود اوورز کے کپتان ہیری بروک کو تینوں بین الاقوامی فارمیٹس کی قیادت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔
نئے ٹیسٹ کوچ سٹیفن فلیمنگ، جو میکلم کی طرح نیوزی لینڈ کے سابق کپتان ہیں، اس سال کے آخر میں جنوبی افریقہ کے دورے تک ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں گے۔
لیڈز ٹیسٹ پچ
لیڈز کا ہیڈنگلے گراؤنڈ ایک مثبت اور واضح کرکٹ کے لیے مشہور ہے۔ پچ پر پہلے دو دن گھاس رہتی ہے لیکن اگلے تین دن پچ آسان ہو جاتی ہے۔
لیڈز کے تماشائی مہذب اور اچھی کرکٹ پر دل کھول کر داد دینے والوں کی طرح مشہور ہیں۔
توقع ہے پہلے ٹیسٹ کی پچ پہلے دو دن فاسٹ بولرز کے لیے مددگار ہوگی اس لیے ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے بولنگ کرنا پسند کرے گی۔
لیڈز گراؤنڈ جسے ’عمران خان کا گراؤنڈ‘ کہا جاتا ہے۔ مقامی کرکٹرز جیوف بائیکاٹ کہتے ہیں کہ عمران کے بغیر لیڈز نامکمل ہے کیونکہ انہوں نے یہاں ہمیشہ شان دار بولنگ کی۔
دیکھنا ہے کہ کیا عظیم عمران خان کی جھلک کوئی اور بولر دکھا سکے گا؟


