بدخشاں میں طالبان مخالف بغاوت اور اس کے اثرات

پندرہ اگست کو افغانستان میں طالبان کی سخت گیر حکومت کے پانچ سال مکمل ہو گئے، جس نے چار دہائیوں سے زائد عرصے کی جنگ اور تنازعات کے بعد ملک میں امن و استحکام کی واپسی دیکھی، اگرچہ کئی دیگر چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔

اپنی دوسری حکومت کے دوران، طالبان نے پورے افغانستان میں اپنا علاقائی کنٹرول قائم کیا۔ اس کے مقابلے میں 1990 کی دہائی میں ملک کا شمالی حصہ سابق شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) کی مزاحمت کا گڑھ رہا تھا۔ حال ہی تک، داعش-خراسان ہی وہ واحد نظریاتی حریف تھی جس نے طالبان کے اعلیٰ عہدیداروں اور کمانڈروں کو ہدف بنایا (ہائی پروفائل قتل) اور ان کے نظریاتی جواز کو چیلنج کیا۔ تاہم، اس نے بھی کبھی افغانستان میں طالبان کے علاقائی کنٹرول کو خطرے میں نہیں ڈالا۔

تاہم، سٹریٹجک لحاظ سے اہم شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں حالیہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ طالبان کے خلاف ایک ابھرتی ہوئی شورش کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بدخشاں کی پیش رفت کو ایسے الگ تھلگ یا اکادکا واقعات کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو اس وقت ختم ہو جائیں گے جب طالبان باغی عناصر کو کچلنے اور اپنا کنٹرول دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اگرچہ طالبان نے اپنی سخت گیر مذہبی حکومت کے ذریعے افغانستان میں استحکام تو بحال کر دیا ہے، لیکن وہ افغان عوام—خصوصاً معاشرے کے غیر پختون طبقوں جیسے کہ ہزارہ، ازبک اور تاجک—کا اعتماد یا بھروسہ کبھی نہ جیت سکے۔ بدخشاں تاجک اکثریتی صوبہ ہے جہاں پختونوں کی زیرِ قیادت طالبان حکومت کے خلاف بے چینی اور غصہ پنپ رہا تھا۔

بدخشاں کی بے چینی پر بات کرتے ہوئے، اس کی سٹریٹجک، تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں افغانستان میں جو کچھ بھی ہوگا، اس کی سمت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ افغانستان کی نسلی اقلیتیں مرکزی حکومت اور اپنے مقامی وسائل پر قبضے کی کوششوں کی کس طرح مزاحمت کرتی ہیں۔

 بدخشاں ایک سٹریٹجک لحاظ سے اہم سرحدی صوبہ ہے جس کی سرحدیں چین، پاکستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں۔ 1990 کی دہائی کے دوران، بدخشاں شمالی اتحاد کی زیرِ قیادت طالبان مخالف مزاحمت کا مضبوط گڑھ تھا۔ یہ علاقہ جغرافیائی طور پر یہ دشوار گزار پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے جو سونے اور چاندی سمیت دیگر قیمتی معدنیات سے مالا مال ہیں۔ یہ تینوں عوامل جب کسی نسلی اقلیت کے وسائل سے جڑے تحفظات اور شکایتوں کے ساتھ ملتے ہیں، تو ایک بغاوت کے لیے سازگار ماحول پیدا کر دیتے ہیں—خاص طور پر جب مخالفین یہ محسوس کریں کہ ایک آمرانہ نظام میں مسلح مزاحمت ہی واحد عملی راستہ ہے۔

سیاق و سباق کے طور پر، بدخشاں میں حالیہ بے چینی کی جڑیں تین فوری یا قریبی عوامل میں پنہاں ہیں۔

پہلا، مقامی کمانڈروں—خاص طور پر جمعہ خان فتح اور ان کے جنگجوؤں—اور طالبان انتظامیہ کے درمیان اندرونی اختلاف۔ 14 اگست کو طالبان کے نائب انٹیلی جنس چیف تاجمیر جواد کی جانب سے جمعہ خان کو نہتا کرنے کی کوشش کے بعد بدخشاں کے ضلع نسی میں جھڑپیں چھڑ گئیں۔ یہ جھڑپیں چار دن تک جاری رہیں۔

جمعہ خان اور ان کے جنگجوؤں نے مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں فریقین کا جانی نقصان ہوا۔ اس کارروائی کے دوران، طالبان جنگجوؤں نے جمعہ خان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے لیے گھر گھر تلاشی لی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب سے طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں، مذہبی حکومت کے لیے فتح کو کنٹرول کرنا ایک مشکل کام رہا ہے۔ نسی ضلع کے ایک دکان دار سے شروعات کرنے والے فتح نے 2013 میں طالبان کی صفوں میں پیش رفت کی اور بدخشاں کی ایک بااثر شخصیت بن کر ابھرے۔ 2021 سے وہ اپنے ماتحت 10,000 مقامی جنگجوؤں کے ساتھ بدخشاں میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔

مارچ 2026 میں منشیات کی سرحد پار سمگلنگ میں ان کے ملوث ہونے کے حوالے سے تاجکستان کی شکایت کے بعد، فتح کو نائب گورنر کے طور پر زابل منتقل کر دیا گیا تھا۔ بدخشاں سے منتقل کیے جانے کے باوجود، فتح بااثر رہے اور اپنے ہوم ڈسٹرکٹ اور آبائی صوبے میں معاملات پر گرفت برقرار رکھی۔

دوسرا، اگرچہ این آر ایف (نیشنل ریزسٹنس فرنٹ) اور اے ایف ایف (افغانستان فریڈم فرنٹ) جیسے طالبان مخالف گروپس بدخشاں میں موجود رہے ہیں، لیکن وہ قیوم ملنگ کی زیرِ قیادت سپاہیانِ میہن کے ابھرنے تک طالبان کے کنٹرول کے لیے کبھی کوئی بڑا خطرہ نہیں بن سکے۔ جولائی میں اس گروپ کے ابھار کے بعد، بدخشاں میں طالبان کے خلاف زیادہ شدید لڑائی چھڑ گئی۔ جولائی کی جنگ کے دوران، سپاہیانِ میہن نے بدخشاں کے ضلع یافتلِ پائین پر کچھ دیر کے لیے قبضہ بھی کر لیا تھا، جس کے بعد یہ دوبارہ طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا۔

اہم بات یہ ہے کہ این آر ایف اور اے ایف ایف نے خود کو متحرک اور مضبوط ثابت کرنے کے لیے بدخشاں کی بے چینی کا فائدہ اٹھایا ہے۔ ضلع یافتلِ پائین کے عارضی زوال کے کچھ ہی ہفتوں بعد اے ایف ایف نے جلال آباد اور نورستان کے صوبوں میں دو الگ الگ واقعات میں چار طالبان اہلکاروں کو مارے کا دعویٰ کیا۔ اگست کے شروع میں اے ایف ایف نے قندوز ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کا دعویٰ کیا جس میں طالبان افواج اور ان کے ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، 28 جولائی کو داعش-خراسان نے بدخشاں کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ اور بااثر طالبان شخصیت ذبیح اللہ امیری کو قتل کر دیا۔

تیسرا، طالبان کی جانب سے غیر قانونی کان کنی پر پابندی نے بدخشاں کے تاجکوں میں شدید بے چینی اور غصہ پیدا کر دیا ہے۔ افغانستان کی ابتر معاشی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، طالبان مقامی آبادی کے مفادات کی پروا کیے بغیر اپنے معدنی وسائل کو آمدن کے بہترین ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

فتح کی بغاوت کے بعد، بڑی تعداد میں پہنچنے والی طالبان کی تازہ دم کمک پختون علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے ناراضگی اور تلخی مزید بڑھے گی، اگرچہ طالبان بالآخر اپنا کنٹرول بحال کرنے اور بغاوت کو کچلنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن یہ عمل تاجک برادری میں طویل المدتی نفرت کے بیج بو دے گا۔

اگرچہ بدخشاں میں ہونے والی پیش رفت سے طالبان کو کسی بڑے پیمانے پر چیلنج کیے جانے کا امکان نہیں ہے لیکن یہ ایک ایسے دور کی بنیاد ضرور رکھیں گی جہاں مذہبی حکومت کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے تصور پر حرف آ چکا ہے۔ فی الوقت، بدخشاں میں طالبان مخالف گروپس میں اتحاد کا فقدان ہے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر بھرتیوں، قابلِ اعتماد سپلائی لائنز، یا طالبان سے کسی علاقے کو چھین کر اس پر قبضہ برقرار رکھنے کی صلاحیت کے کوئی واضح آثار نہیں دکھائے ہیں۔ تاہم، بدخشاں میں جس انداز میں تشدد پھیلا ہے، وہ ایک ابھرتی ہوئی شورش کی تنظیم اور ڈسپلن کی علامات ابھی سے ظاہر کر رہا ہے۔

بدخشاں میں ہونے والی بے چینی طالبان حکومت کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ یہ طالبان کے لیے ان گروہ وں سے نمٹنے کا ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتی ہے جو علاقائی تسلط پر ان کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بدخشاں وہ مقام ہے جہاں پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول کا طالبان کا دعویٰ کمزور پڑ گیا ہے۔

آنے والے دنوں میں، یہ تنازع نسلی کشیدگی، وسائل کے کنٹرول پر کشمکش اور مقامی شکوک و شکایات سے مزید ہوا پائے گا۔

افغانستان میں عدم استحکام کے علاقائی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، القاعدہ اور داعش-خراسان جیسے گروہوں کے پھلنے پھولنے اور ان کے نظریاتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے سازگار زمین فراہم کرے گا۔

مصنف ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *