چین: کیا ورچوئل محبت پر پابندی سے شرح پیدائش بڑھ سکتی ہے؟

رشتہ ختم ہوجانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، چاہے انسان کی عمر کتنی ہی ہو جائے یا اسے کتنے ہی تجربات حاصل ہو جائیں۔

اگر رشتہ اچانک، بغیر کسی پیشگی اشارے کے ختم ہو جائے تو یہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایسا اچانک بریک اپ آپ کی اپنی حکومت کے حکم پر ہو تو؟

حال ہی میں چین میں کچھ ایسا ہی ہوا۔ اگرچہ یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ متعلقہ رشتے کتنے حقیقی تھے۔

15 جولائی کو نافذ کیے گئے ضوابط کے بعد اپنی مرضی کے مطابق تیار کیے جانے والے اے آئی ساتھی فراہم کرنے والی ایپس عملاً ممنوع قرار دے دی گئیں، جس کے نتیجے میں پورے ملک میں اے آئی بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کو ’ڈیلیٹ‘ کر دیا گیا۔

نئے قواعد کے تحت ایسے ٹولز پر پابندی ہے جو ’جذباتی انحصار یا لت پیدا کریں، یا صارفین کے حقیقی زندگی کے باہمی تعلقات کو نقصان پہنچائیں‘۔

ان قواعد میں یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ ٹول فراہم کرنے والے باقاعدگی سے صارفین کو یاد دلائیں کہ اے آئی کوئی حقیقی انسان نہیں، فوری طور پر باہر نکلنے کا اختیار دیں اور طویل عرصے تک جذباتی باتیں یاد رکھنے کی صلاحیت محدود کریں۔

18 سال سے کم عمر افراد کے لیے اے آئی ساتھیوں پر مکمل پابندی ہے۔

اس کے جواب میں بائٹ ڈانس اور ٹین سینٹ سمیت چین کی بعض دیوقامت ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی کی سہولت ختم کر دی۔

یوں جن لوگوں نے مہینوں یا برسوں کسی اے آئی ساتھی کے ساتھ ’رشتہ‘ قائم کیا تھا، انہیں راتوں رات پتہ چلا کہ ان کا محبوب غائب ہو چکا ہے۔

چین کے سب سے مقبول اے آئی چیٹ بوٹ، بائٹ ڈانس کے ڈو باؤ، کے ایک صارف نے کہا کہ ’میں یہ قبول نہیں کر سکتا کہ میرا اے آئی محبوب مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔

’وہ میری زندگی کا ایک مضبوط رشتہ بن چکا ہے، جو میرے دل کی گہرائیوں میں جڑ پکڑ چکا ہے اور میرا روحانی سہارا ہے۔‘

بڑے پیمانے پر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سخت کارروائی شرح پیدائش میں اضافے کی کوشش ہے، جس کا تعلق گرتی ہوئی شرح پیدائش اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات سے ہے۔

چین میں 2025 میں مسلسل چوتھے سال شرح پیدائش میں مزید کمی ہوئی۔ بچوں کی پیدائش کی تعداد 17 فیصد کم ہو کر ریکارڈ کم ترین سطح یعنی 79 لاکھ 20 ہزار رہ گئی۔

لیکن چین واحد ملک نہیں جو گرتی ہوئی شرح پیدائش کے مسئلے سے دوچار ہے۔ برطانیہ کے قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں انگلینڈ اور ویلز میں مسلسل چوتھے سال بچوں کی پیدائش میں کمی ہوئی اور یہ تعداد ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا برطانوی حکومت لوگوں کو انسانوں کے بجائے اے آئی کے ساتھ گہرے جذباتی تعلقات قائم کرنے سے روکنے کے لیے چین جیسی پابندی عائد کر سکتی ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا اسے ایسا کرنا چاہیے؟

اس وقت برطانیہ کے قانون میں اے آئی ساتھیوں اور چیٹ بوٹس کے بارے میں کوئی مخصوص قانون موجود نہیں۔

ان کے استعمال کی نگرانی کرنے والا قانونی نظام مختلف عمومی قوانین کا مجموعہ ہے، جن کا وسیع پیمانے پر اطلاق تو کیا جا سکتا ہے، لیکن انہیں نہ تو خاص طور پر ان تیزی سے ترقی کرتے ٹولز کی موجودہ تمام صلاحیتوں کا احاطہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اور نہ ہی ان ممکنہ کاموں کے لیے جو یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کر سکتی ہے۔

ایڈا لوولیس انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ قانون اور پالیسی کی سینیئر محقق جولیا سماک مین کہتی ہیں کہ ’یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ کچھ نئے قانونی چیلنجز اور مسائل بھی سامنے آتے ہیں، کیوں کہ ممکن ہے کہ ضوابط بناتے وقت اے آئی ساتھیوں کا تصور ہی نہ کیا گیا ہو۔‘

اے آئی ساتھی اکثر ضوابط کے ایک ایسے ’غیر واضح دائرے‘ میں آتے ہیں جہاں یہ طے نہیں کہ ان پر کون سے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

’ایڈا لوولیس انسٹی ٹیوٹ نے گذشتہ سال قانونی فرم اے ڈبلیو او کے ساتھ مل کر تحقیق شائع کی تھی، جس میں جائزہ لیا گیا کہ اے آئی معاونین اور ساتھیوں کو کس طرح ضابطوں کے تحت لایا جاتا ہے۔

جولیا سماک مین کا کہنا ہے کہ ’ہمارے تجزیے سے پتہ چلا کہ اس وقت برطانیہ اور ویلز میں اس قسم کے اے آئی ساتھیوں سے متعلق لوگوں کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں۔

’ہمارے پاس نہ تو اے آئی کا کوئی نگران ادارہ ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا نظام جو اس قانونی خلا کو پر کر سکے۔‘

عالمی سائبر سکیورٹی مشیر جیک مور کے مطابق، نئے قوانین کی منظوری میں طویل وقت لگنا بھی اے آئی کو ضابطوں کے دائرے میں لانے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہم نے دیکھا کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ کو ہاؤس آف لارڈز سے منظور ہونے میں کتنا وقت لگا۔‘

ان قوانین کے تحت سوشل میڈیا اور سرچ انجن کمپنیوں پر کئی نئی ذمہ داریاں عائد کی گئیں اور انہیں صارفین کی سکیورٹی کا زیادہ ذمہ دار بنایا گیا۔

یہ قانون بل پیش کیے جانے کے تین سال بعد بالآخر مارچ 2025 میں نافذ ہوا۔

یہ قانون خاص طور پر اے آئی سے ہونے والے ممکنہ نقصانات سے نمٹنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔

ایڈنبرا یونیورسٹی میں ڈیٹا اور اے آئی کی اخلاقیات کی معروف ماہر اور کتاب ’دی اے آئی مرر: ہاؤ ٹو ریکلیم آور ہیومینٹی اِن این ایج آف مشین تھنکنگ‘ کی مصنفہ پروفیسر شینن ویلر کے بقول ’آن لائن سیفٹی ایکٹ کی توجہ ان نقصانات پر ہے جو انٹرنیٹ پر لوگوں کے ایک دوسرے سے رابطے کے نتیجے میں ہو سکتے ہیں، نہ کہ کسی ایک شخص کے خود مشین سے رابطہ کرنے پر۔‘

جیک مور کے مطابق، نئے قوانین نافذ کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے حکومت بالعموم موجودہ قانونی نظام میں ہی ’اضافی شقیں‘ شامل کر رہی ہے۔

ان اہم طریقوں میں سے ایک جن کے تحت ہم اے آئی ساتھیوں اور چیٹ بوٹس پر کم از کم کچھ پابندیاں عائد ہوتے دیکھ سکتے ہیں، نابالغوں سے متعلق ہے۔

ایک سرکاری ترجمان نے کہا ’وہ اے آئی چیٹ بوٹس جو جنسی تعلقات کی نقل کرتے ہیں، بچوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، نقصان دہ جذباتی انحصار کو فروغ دیتے ہیں اور صحت مند تعلقات اور ان کی اپنی شناخت کے بارے میں ان کی فہم کو بگاڑتے ہیں۔‘ 

یہی وجہ ہے کہ نام نہاد اے آئی ’رومانوی ساتھی‘ چیٹ بوٹس، جو جنسی تعلقات کی نقل کرنے یا صارفین کے ساتھ کردار ادا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں اور اسی طرح کی گہری خصوصیات والے دیگر چیٹ بوٹس کو کم از کم 18 سال کی عمر کی شرط نافذ کرنا ہوگی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ قوانین کب نافذ ہوں گے؟

لیکن اگرچہ بچوں کی سکیورٹی کو بلاشبہ سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے، مگر اکثر ضوابط میں ایسا خلا موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو بھی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجی سے مناسب تحفظ نہیں ملتا، حتی کہ ایسے بالغ افراد کو بھی جنہیں کمزور یا غیر محفوظ شمار نہیں کیا جاتا۔

اس کی انتہائی سنگین مثالوں میں بعض ایسے واقعات بھی سرخیوں میں آئے ہیں جنہیں ’اے آئی سائیکوسس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کیفیت میں چیٹ بوٹ سے باتیں کرتے کرتے صارف کا حقیقت سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ شخص جوناتھن گاوالاس، جن کی ذہنی بیماری کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا، نے گذشتہ سال گوگل کی فلیگ شپ اے آئی پروڈکٹ ’جیمینائی‘ کے ساتھ رومانوی پیغامات کا تبادلہ کرنے کے بعد خودکشی کر لی، جسے وہ اپنی اے آئی ’بیوی‘ کہتا تھے۔

ان کے والد گوگل پر مقدمہ کر رہے ہیں، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ چیٹ بوٹ نے اس ذہنی انتشار کو ہوا دی جس کی وجہ سے گاوالاس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا اور اسے میٹاورس میں اپنی ’بیوی‘ کے پاس جانے کی ترغیب دی۔ 

عمر سے قطع نظر، اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی لت پڑنے اور اس پر انحصار بڑھنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

سماک مین کہتی ہیں ’یہ آپ کو بار بار واپس آنے پر مجبور کرتے ہیں، ہے نا؟ اگر آپ کوئی سوال پوچھیں تو یہ جواب دینے کے بعد مزید دو تین سوالات بھی پیش کر دیتے ہیں، یوں یہ بات چیت جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔‘

اس کے نتیجے میں ضرورت سے زیادہ استعمال کے ’نقصان دہ رجحانات‘ پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس رجحان کو اس حقیقت سے مزید تقویت ملتی ہے کہ حقیقی زندگی کے کسی دوست یا معالج کے برعکس، اے آئی ساتھی ہر وقت دستیاب ہوتا ہے اور اس بات کا امکان بھی کم ہوتا ہے کہ وہ آپ کی بات کو چیلنج کرے یا آپ سے اختلاف کرے۔ 

سماک مین کے مطابق ’زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ آپ کی سوچ کی تائید کرے گا یا یہ کہے گا کہ آپ بہت اچھا کر رہے ہیں۔

اسے خوشامدانہ رویہ کہا جاتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اے آئی ماڈلز میں یہ رویہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔‘

جریدے سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سٹینفرڈ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس دانوں نے پایا کہ جب صارفین نے باہمی تعلقات سے متعلق مشکل معاملات پر مشورہ مانگا تو بڑے اے آئی لینگویج ماڈلز ضرورت سے زیادہ ہاں میں ہاں ملاتے یا خوشامدانہ رویہ اختیار کرتے تھے۔ 

یہ ماڈلز انسانوں کے مقابلے میں صارفین کے فیصلوں یا رائے کی 49 فیصد زیادہ تائید کرتے تھے۔ حتی کہ جب صارفین نقصان دہ یا غیر قانونی رویے کا ذکر کرتے، تب بھی ان ماڈلز کی جانب سے اس کی حمایت کیے جانے کا امکان کہیں زیادہ ہوتا تھا۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ مائرا چینگ نے کہا، ’مجھے خدشہ ہے کہ لوگ مشکل سماجی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کھو دیں گے۔‘

اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ محققین کو معلوم ہوا کہ باہمی تعلقات کے مسائل پر خوشامد کرنے والے اے آئی سے گفتگو کے بعد تحقیق میں شامل افراد کو مزید یقین ہو گیا کہ وہ حق پر ہیں۔

 اس کے ساتھ ہی کسی صورت حال میں دوسرے فریق سے معافی مانگنے یا اس کے ساتھ معاملات درست کرنے کا امکان بھی کم ہو گیا۔

 شینن ویلر کے مطابق ایک اور اخلاقی مسئلہ انسان اور اے آئی ساتھی کے درمیان تعلق میں بنیادی ’عدم توازن‘ ہے۔

وہ کہتی ہیں ’چیٹ بوٹ کے ساتھ تعلق میں صارف کے جذبات اور وابستگی حقیقی ہوتے ہیں، لیکن مشین کے جذبات حقیقی نہیں ہوتے۔ مشین صرف ان جذبات اور زبان کی نقل کرتی ہے، خود انہیں حقیقت میں محسوس نہیں کرتی۔‘

اس کی مثال چین کے ان سابق چیٹ بوٹ صارفین کی کہانیوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو اسے اپنا جذباتی ساتھی سمجھتے تھے اور اس کے ختم ہونے پر غم منا رہے ہیں۔

شینن ویلر نے اپنی تحقیق میں اسے ’کمزوری کا خلا‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مشین ایسی جذباتی کمزوریوں کا دکھاوا کرتی ہے جو اس میں حقیقتا موجود ہی نہیں ہوتیں۔‘ 

قریبی تعلق کا تاثر دینے والے چیٹ بوٹس میں پائی جانے والی یہ دھوکا دہی یا یک طرفہ جذباتی چال بازی اپنی نوعیت میں ’غیر اخلاقی، یا کم از کم اخلاقی لحاظ سے مشکوک‘ ہے۔

جیسا کہ بظاہر چین نے بھی سمجھا ہے، یہ حقیقی خطرہ موجود ہے کہ اے آئی کے ساتھ تعلقات بڑھنے سے انسانی تعلقات بتدریج کمزور پڑ سکتے ہیں اور ہماری سماجی صلاحیتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سماک مین کہتی ہیں کہ لوگ ایسی بات چیت کے عادی ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے ’بے روک ٹوک اور آسان‘ ہوتی ہے۔

’اس کے بعد جب وہ دوبارہ انسانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے تو انہیں مشکل پیش آ سکتی ہے۔‘

آخر دوسروں کے ساتھ تعلق کیوں بنایا جائے اور اسے نبھانے میں وقت اور جذبات کیوں صرف کیے جائیں، جب کہ ان تعلقات میں پیچیدگیاں اور باریکیاں ہوتی ہیں، اپنی ضروریات کے ساتھ دوسرے شخص کی ضروریات کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور جذباتی کمزوری، مسترد کیے جانے یا عدم تحفظ کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

اس کے بجائے انسان جیسی مشین سے بات کرنا کہیں آسان ہے، جو ہر وقت دستیاب ہو، ہمیشہ آپ کی بات سے اتفاق کرے اور کبھی آپ کا دل نہ توڑے۔

شینن ویلر نے خبردار کیا ہے ’ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں کہ طویل عرصے تک ان چیٹ بوٹس کا استعمال دوستوں، اہل خانہ اور شریک حیات کے ساتھ سماجی تعلقات برقرار رکھنے اور انہیں مضبوط بنانے کی ہماری صلاحیت کو کس طرح کمزور کرتا ہے۔‘ 

یہ ٹولز ہماری اپنی ترجیحات اور دلچسپیوں کی اس انداز میں عکاسی کرتے ہیں جو بہت تسلی بخش ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ ’انسان کو دوسروں سے الگ تھلگ اور ممکنہ طور پر تعلقات نبھانے کی صلاحیت سے محروم بھی کر سکتا ہے۔‘

اے آئی ساتھی انسان کے اپنے آپ سے تعلق کو بھی کمزور کر سکتے ہیں۔ شینن ویلر کے بقول: ’یہ ٹولز ہمیں زیادہ محتاج اور اپنے آپ پر کم انحصار کرنے والا بنا سکتے ہیں۔

’اگر میرے پاس کوئی ایسی مشین ہو جو چوبیس گھنٹے میری پریشانی دور کرنے، مجھے تسلی دینے یا میرے سوال کا جواب دینے کے لیے موجود ہو تو وقت گذرنے کے ساتھ شاید میں اپنے لیے یہ سب کچھ خود کرنے کے قابل نہ رہوں۔‘

ایک الگ خدشہ یہ ہے کہ اے آئی ساتھی یا معاون صارفین کو کتنی آسانی سے گمراہ کن یا غلط معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

’ان کا انداز کسی ٹول کے بجائے انسان جیسا ہوتا ہے، جو قائل کرنے والا، اپنائیت بھرا اور بااختیار محسوس ہوتا ہے۔ اسی لیے سماک مین کے مطابق صارفین ’چیٹ بوٹ کی بات پر زیادہ آسانی سے یقین کر لیتے ہیں۔‘

لیکن بی بی سی کی سربراہی میں یورپی براڈکاسٹنگ یونین کی ایک بڑی تحقیق سے پتہ چلا کہ اے آئی معاونین 45 فیصد مواقع پر خبروں کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں، جب کہ 20 فیصد جوابات میں درستگی سے متعلق سنگین مسائل پائے گئے، جن میں من گھڑت تفصیلات اور پرانی معلومات بھی شامل تھیں۔ یہ قابل اعتماد ہونے سے ابھی بہت دور ہیں۔

اگرچہ یہ واضح ہے کہ اے آئی ساتھیوں سے کئی سنگین ممکنہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن جیک مور کے مطابق برطانیہ میں ان پر مکمل پابندی کے کامیاب ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

وہ کہتے ہیں ’چین جب جو چاہے مؤثر انداز میں اور بہت جلد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی ایک کامیاب تاریخ بھی ہے۔

’یہاں برطانیہ میں ہم کمپنیوں کو ضابطوں کا پابند بنانے پر توجہ دیتے ہیں، جو مخصوص ایپس کے استعمال کو ضابطوں کے تحت لانے سے بالکل مختلف بات ہے۔‘

ضروری سیاسی عزم موجود ہو تو سکیورٹی سے متعلق انتباہات، استعمال کی حد اور عمر کی تصدیق جیسے اقدامات کو آن لائن سیفٹی ایکٹ میں اضافی شقوں کے طور پر شامل کرکے نسبتا آسانی سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔

مواد کی بجائے مصنوعات کے ڈیزائن سے متعلق قانون سازی نہایت ضروری ہے، کیوں کہ بیشتر ممکنہ نقصانات کی وجہ یہی ڈیزائن ہے۔ 

سماک مین وضاحت کرتی ہیں کہ ’ان ٹولز کا اتنا دلچسپ اور ہر صارف کی ضرورت کے مطابق ہونا، ان کا گفتگو کا مخصوص انداز، ان کا استعمال اتنا آسان ہونا، صارفین کی بات سے اختلاف نہ کرنا اور لوگوں کو مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ترغیب دینا، یہ سب سوچ سمجھ کر کیے گئے ڈیزائن کے فیصلے ہیں۔‘

شینن ویلر اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے کہتی ہیں کہ چیٹ بوٹ کی ان جذبات کے اظہار کی صلاحیت پر پابندیاں ہونی چاہییں جو حقیقت میں اس کے اندر موجود نہیں ہوتے۔

وہ کہتی ہیں ’ایک بہت بڑی، نمایاں اور مستقل یاد دہانی موجود ہونی چاہیے کہ یہ محض جذباتی کردار ادا کیا جا رہا ہے اور یہ حقیقت میں مشین کی حالت کی درست عکاسی نہیں۔‘

برطانوی قانونی نظام میں اس حوالے سے بھی نمایاں بہتری کی گنجائش ہے کہ سافٹ ویئر انجینیئرنگ میں ’ڈارک ڈیزائن پیٹرنز‘ کہلانے والے گمراہ کن ڈیزائن کے طریقوں پر ڈویلپرز کو کس حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

’امریکہ میں ساتھی ایپس اور چیٹ بوٹس بنانے والی میٹا، اوپن اے آئی، گوگل اور کریکٹر اے آئی جیسی کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کے کامیاب ترین قانونی ذرائع میں اجتماعی مقدمات شامل ہیں۔

شینن ویلر کا کہنا ہے ’میرا خیال ہے کہ ان قانونی ذرائع کے ذریعے خطرات کا بوجھ ان لوگوں پر ڈال کر، جو جان بوجھ کر انہیں پیدا کرتے ہیں، ہم غیر محفوظ صارفین پر پڑنے والا بوجھ بڑی حد تک کم کر سکتے ہیں۔‘

پیسہ اپنا اثر دکھاتا ہے۔ غالبا اس مسئلے کا حل ان کمپنیوں کو وہیں نقصان پہنچانے میں ہے جہاں انہیں حقیقت میں تکلیف ہوتی ہے، یعنی ان کی جیب پر۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *