ہمارے ہاں گائیکی مختلف اصناف میں تو بٹی ہے کہ وہ گانے کی ہیئت طے کرنے کے لیے ضروری تھا، لیکن اس سے آگے بڑھ کر وہ مختلف علاقوں میں بھی بٹ گئی۔ لاہور والوں کا طوطی بولنے لگا اور گرد و نواح والوں کے لیے مواقع محدود ہوتے گئے۔ پھر جو محدود مواقع میں بھی اپنا نام بنا لے اور صف اول کا گلوکار کہلائے اور دو چار روز نہ کہلائے بلکہ کئی دہائیاں اس کے فن کی پختگی کی علامت بنتی جائیں وہ کیا ہی عمدہ فنکار ہو گا۔ ایسی ہی عمدہ فنکار ہیں ہماری ثریا ملتانیکر۔
پچھلے دنوں ہماری ثریا بی بی سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس کا فائدہ اٹھا کر ہم اس تحریر میں جائزہ لے رہے ہیں کہ کون ہے ثریا ملتانیکر؟
ثریا وہ گیارہ سال کی بچی ہے جو دعا کرتی تھی کہ اس کا استاد تانگے تلے آ جائے اور ریاض کرنا چھوٹ ہی جائے یا وہ جو اسی عمر میں شوق پیدا ہو جانے پہ اتنا ریاض کرتی تھی کہ گھر والوں کو پھیپھڑے پھٹ جانے کا اندیشہ ہونے لگتا تھا۔
کون ہے ثریا ملتانیکر؟ وہ جو ایک بزرگ سازندے کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے گانے میں خلل آنے پر برملا اس کا اظہار کر کے اساتذہ کی ناگواری سہتی ہے، یا وہ جو محفل میں روشن آرا بیگم کی موجودگی میں ادب کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے گانے سے انکاری ہو جاتی ہے اور پھر ملکہ موسیقی کے اصرار پہ ہی اس محفل میں نغمہ سرا ہوتی ہے۔
کون ہے ثریا ملتانیکر؟ وہ جو کلاسیکل گاتی تھی تو اساتذہ دنگ رہ جاتے تھے، کافی گانے پہ آئی تو سالوں خواجہ فرید ایوارڈ اپنے نام کراتی رہی، فلمی غزل پہ طبع آزمائی کی تو ریڈیو پاکستان ملتان فرمائشی چٹھیوں کی بوریوں سے بھر گیا۔ گانے کا انگ نیم کلاسیکی ہوا اور شاعری کلاسیکی ہوئی تو لگا کہ میر تقی میر اور میر درد تو سوا صدی پہلے اسی خاتون کے گانے کے واسطے غزلیں لکھا کیے تھے۔
ایک ملاقات نو سال پہلے کی یاد کے کواڑوں سے یوں جھانک رہی ہے جیسے بہار کی اولین صبح کی دھوپ کھڑکی پہ پڑے پردوں سے چھن کے آ رہی ہو۔ 2017 میں لاہور کے الحمرا ہال نمبر تین میں سیمی راحیل کی میزبانی میں ثریا ملتانیکر اور ان کی بیٹی نے سٹیج پہ سماں باندھ دیا تھا۔ اپنی باتوں سے، اپنے فن سے، اپنی میراث سے اور سب سے بڑھ کر اپنی شفقت سے۔
سیشن کے بعد باہر نکل کر اس شفقت اور محبت سے تصویر بنوائی کہ گائیکی اور مامتا گڈ مڈ ہونے لگے۔ یہ فیصلہ کرنا دوبھر ہوگیا کہ اس وجود میں موسیقی زیادہ ہے کہ شفقت یا پھر عاجزی یا کہ قدرت نے ان تینوں کو گوندھ کر ثریا ملتانیکر کے وجود کی بنیاد رکھی ہوئی ہے۔
تقسیم سے سات برس قبل اولیا کی سرزمین پہ آنکھ کھولنے والی لڑکی کو معلوم نہ تھا کہ وہ بڑی ہو کر برصغیر کی نامور گلوکارہ بنے گی۔ کتنا روایتی جملہ ٹائپ ہوا ہے۔ دل تو اس کو حذف کرنے کا کرتا ہے۔ پر بر صغیر کی تقسیم اور اس خطے پہ اس کا اثر تو حذف ہو نہیں سکتے ہیں۔ اولیا کو ہم حذف بھی کرنا بھی چاہیں تو مذہب سے زیادہ وہ روایت کا حصہ ہیں اور بےبی ثریا ملتانیکر تو اپنی گائیکی اور شہرت کا سہرا بھی ان کے سر ہی باندھتی نظر آتی ہیں۔
پھر یہ تو لکھنے سے رہے کہ ثریا جی کی پیدائش کی سرزمین وہ ہے جس کو فتح کر کے محمد بن قاسم نے برصغیر پہ سکہ جمایا تھا۔ بات واپس دھان پان سی ثریا پہ لاتے ہیں جو پہلے فلمی گیتوں کو سن کر سیکھتی رہی اور پھر استاد غلام نبی خان عرف فوجی خان کی سخت ٹریننگ اس کے سروں کو نکھارنے لگی۔
ٹین ایج تک آتے آتے اس دبلی پتلی سانولی لڑکی کو لوگ اس کے فن کی وجہ سے جاننے لگے تھے۔ موسیقی کی محفلیں اور ریڈیو پندرہ سال کی عمر میں اس لڑکی کی زندگی میں در آئے تھے۔ یہ ہی دونوں میڈیم اس کی گائیکی کو سنوار بھی رہے تھے اور اس کی شہرت کا سبب بھی بن رہے تھے۔
بڑے غلام علی خان، سلامت علی خان اور روشن آرا بیگم کے ساتھ گانے کا نہ بھی کہیں تو ان کے سامنے گانے کا موقع بھی ملا اور داد بھی پائی۔ ابتدا کے بعد بھی کچھ سال صرف کلاسیکل ہی ان کا میدان ٹھہرا رہا۔ سونے کو کندن جو ہونا تھا۔
2017 کے فیض میلے میں عظمتوں اور شفقتوں کے اس مینار سے مل کر میں تو گویا گنگا نہا لیا تھا۔ یہ گمان بھی نہ تھا کہ آٹھ سال کے عرصے اور دو براعظموں کے تین ملکوں میں زندگی کے مدوجزر نپٹانے کے بعد واپس آؤں گا تو قسمت کی دیوی کو شوق کا دیوتا منا ہی لے گا اور اک سلسلہ اور چلے گا موسیقیت بھری ملاقاتوں کا۔
ثریا ملتانیکر سے ملاقات کا لپکا تو تھا، مگر ان تک پہنچا کیسے جائے؟ آخر ایک دوست نے دست گیری کی، اور تھرڈ پارٹی ریفرنس سے راحت بانو دختر نیک اختر ثریا ملتانیکر کو میسج کیا۔ ماں کے ساتھ ساتھ بیٹی بھی اک حلیم طبیعت انسان ہیں۔ پر مثبت جواب پانے پر بھی غم روزگار کچھ ایسے رہے کہ ملتان جانا لنکا ڈھانے سے بھی مشکل ہو گیا۔ یہاں شوق کا دیوتا پھر سے قسمت کی دیوی کو رام کر پایا اور لیہ میں ملنے کا سامان ہو گیا۔
47 کی تقسیم کے بعد سب کچھ تقسیم کرنا ارباب اعلیٰ کو مقصود تھا۔ پھر چاہے بھونڈے طریقے سے ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ہاں اور کسی شے پہ چھری چلے نہ چلے، فن اور فنکار آسان ٹارگٹ ٹھہرتے ہیں۔ مقامی پاکستانی فن اور فنکار کون ہوں گے؟ کلاسیکل، گیت اور غزل تو سب ایک سانجھے ماخذ سے پھوٹتے ہیں تو پھر خالص پاکستانی فن کیا ہو گا؟
شاید وہ کافی ہو سکتی ہے۔ پر وہ تو انتہائی مقامی واردات ہے۔ لیکن بابا فرید تو عالمی شہرت یافتہ ہیں اور مقامیت سے آفاقیت کا سفر طے کیے ہوئے ہیں۔ ان کو اپنے فن موسیقی میں سمو کر پاکستان کی پہچان بن گئیں ہماری ثریا ملتانیکر۔
جام شوکت صاحب کی گاڑی سے اتریں تو یوں لگا کہ لیہ کے میرانی ہاؤس میں موسیقی اور شفقت ہاتھ میں ہاتھ ڈالے پدھارے ہیں۔ نیلے رنگ کا کاٹن کا سوٹ پہنے اس خاتون کے چہرے اور آواز سے 87 سال ہرگز نہ چھلکتے تھے پر گھٹنے طبعی عمر کی چغلی کھا رہے تھے۔ کیسی سعادت ہمارے حصے میں آئی تھی کہ سروں کے سراپے کا ہاتھ پکڑ کے کمرے تک لے آنا تھا۔
وہ بچی جو اتنا ریاض کرتی تھی کہ پھیپھڑے پھٹنے کا گمان ہوتا تھا، آہستہ آہستہ ریاض کو اعتدال کے دائرے میں لانے لگی اور استاد اس کا ایکسپوژر دیگر اساتذہ سے بھی کرانے لگے۔
استاد بڑے غلام علی خان، استاد عاشق علی خان، روشن آرا بیگم اور اس دور کے دیگر اساتذہ نے ثریا ملتانیکر کو سن کر سند بخشی۔ وہی سند کہ بچی بڑا ہو کر اپنا نام کرے گی۔
نجانے کتنی بچیوں کو اساتذہ یہ سند دیتے ہیں پر وہ زمانے اور زندگی کے تھپیڑوں کی تاب نہیں لا سکتیں اور وقت کے بھنور میں ایسی گمتی ہیں کہ ابھرتی ہی نہیں ہیں۔ ثریا ملتانیکر نے صرف موسیقی ہی نہیں سیکھی بلکہ وقت اور زندگی کا مقابلہ کیا اور اساتذہ کے کہے کو محنت اور خلوص سے سچ کر دکھایا۔
کمرے میں لا کر بٹھایا تو اک گھریلو عورت اور اک عظیم مغنیہ ایک ہی وجود میں سے ایسے پینترے بدل بدل کر باہر آتی رہیں کہ عقل دنگ ہو جاتی تھی۔ باتوں کا اک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
ملتان نہیں چھوڑنا تھا اور نام بھی پیدا کرنا تھا۔ پر لاہور کراچی جائے بغیر کوئی بڑا آدمی کیسے بن سکتا ہے؟ ثریا جی کہتی ہیں کہ ’ملتان تو میرے اندر بستا ہے۔‘ یہاں کے اولیا اور گدی نشینوں کی عقیدت بھی شاید انہیں یہاں سے ہلنے نہیں دیتی ہے۔ راولپنڈی آتی ہیں، کراچی جاتی ہیں، لاہور بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ بنگلہ دیش جب تک مشرقی پاکستان تھا؛ بہت فرمائش سے انہیں بلاتے تھے۔ انگلینڈ بھی بیٹے کی محبت اور مداحوں کی عقیدت لے جاتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بہت سے ملکوں میں پرفارم بھی کیا ہے پر بنیاد ملتان ہی رکھی ہے۔ اس درویش صفت بی بی نے گھر کا درجہ دیس یا بدیس میں کسی اور جگہ کو نہیں دیا ہے۔ پھر ملتان کی تو مٹی ہی لوگوں کو خوبصورت کرنے کے واسطے مشہور ہے۔ جو اس کو سیراب نہیں بھی کرتا ہے، اس سے لگاؤ نہیں بھی رکھتا ہے وہ بھی اس کی کرامتوں کا فیض اٹھاتا ہے۔ یہاں تو ملتان کی عاشق موجود تھی۔ اک بار اقبال بانو نے اک محفل میں ثریا جی سے پہلے گایا اور جاتے جاتے سازندے بھی ساتھ لے گئیں۔ ملتان کی مٹی اور فن کی ریاضت کبھی بھی سچے فنکار کو تنہا نہیں چھوڑتے ہیں سو ثریا جی نے اسی محفل میں محدود سپورٹ کے ساتھ گایا اور خوب داد سمیٹی۔
جب نام بن گیا تو پھر کام تو ملنا تھا پر فنکار کی قدر ہر معاشرے کے نصیب میں کہاں ہوتی ہے۔ مداحوں کی انفرادی محبتیں بہت اہم ہوتی ہیں پر وہ نظام زندگی چلانے کے لیے پوری نہیں پڑتی ہیں۔ کیسے آرٹس کونسلیں اور سرکاری ادارے فنکار کا استحصال کرتے ہیں اور اس کے چیک بھی کرپشن کی زد میں کٹ پھٹ جاتے ہیں۔ بڑی اندوہناک کہانی سناتی رہیں ثریا جی۔
پھر فنکار ہی جیسے فنکار کا دشمن ہوجاتا ہے۔ پھر اس نظام میں ملتان کی اک گلوکارہ جس کا شوہر سات بچوں کے ساتھ اسے تنہا چھوڑ کر راہی عدم ہو گیا ہے، اس کو لاہور بلا کر پیمنٹ میں آناکانی کرنا تو بڑی پریڈیکٹیبل بات ہے۔ کیسے چاؤ سے شادی کی تھی ان کے شوہر نے اس سروں کی شہزادی سے۔ پہروں گھر کے باہر ہوتا تھا۔ گانے پہ پابندی لگانا تو دور کی بات، بڑا مداح تھا ان کا۔
گیارہ سال کی مثالی رفاقت کے بعد سات بچوں کا ساتھ تھا اور زندگی تھی کہ سب نگلنے کو تیار تھی۔ اک سہارا اور بھی آیا پر کم مدت میں ہی دھندھلا گیا تو ثریا بی بی کو سمجھ آگئی کہ سہارا اپنا گلہ ہی بنے گا۔ مذہبی اور روحانی ڈیفنسز بھی کام آئے اور خدا، پیر اور موسیقی اس خاتون سے سات بچے بھی پلوانے لگے اور فن کی آبیاری بھی ہوتی رہی۔
ایک عظیم فنکارہ جب مذہب اور روحانیت کو مقامی کلچر میں گوندھتی ہے تو وہ ماحول وجود میں آتا ہے جو ثریا ملتانیکر چھ دہائیوں سے لے کر چل رہی ہیں اور ہم دو روز کی اک جھلک سے ہی دھنے ہو گئے تھے۔ ’ہم سنی ہیں پر محرم میں نوحہ اور سوزخوانی کی روایت کی پاسداری ضرور کرتے ہیں، آپ کو بھی مرثیہ سنائیں گے اور امام حسین کی تعریف کریں گے۔‘
خدا پہ یقین کی بات ہو یا آل محمد کا ذکر، اپنے پیروں کی کرامات ہوں یا استاد کی سختی، ایوب خان کے سامنے گانے کا واقعہ ہو یا عوامی میلوں میں لوگوں کی پسندیدگی کا ذکر؛ کمرے کے اے سی کا پانی اندر کی طرف سیپ رہا تھا پر وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔
دیبو بھٹا چاریا کی دھن ’بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے‘ لوگوں کے دلوں میں یوں گھر کر گئی کہ گانے والی آن کی آن میں سپر سٹار بن گئی۔ پر بنیاد کلاسیکل سے اک خاص حد سے زیادہ ہٹنا گوارا نہ تھا اور میڈم نور جہاں کی موجودگی میں فلم انڈسٹری میں جگہ بنانا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا سو نیم کلاسیکل، غزل اور سب سے بڑھ کر کافی ہی آپ کا میدان ٹھہر گئی۔ کئی سال تک بابا فرید ایوارڈ اپنے نام کرایا۔
دیبو بھٹا چاریا کی دھن پہ یہ الزام بھی لگا کہ بیگم اختر کے دادرے کی کاپی ہے پر میرے ساتھ انٹرویو میں ثریا جی نے اس کی تردید کی۔ ریڈیو ملتان اور پی ٹی وی کام کو محفوظ کرنے کا ذریعہ بھی بنتے رہے اور کسی حد تک ان کا گھر چلانے کا بھی۔ بچے بڑے ہورہے تھے، اپنی عمر ڈھل رہی تھی پر تارڑ صاحب کے الفاظ میں وہ ہر گز پڑے پڑے سینیئر نہیں ہو رہی تھیں بلکہ گزرتے ہوئے ماہ و سال ان کے ٹیلنٹ اور شخصیت دونوں کو جلا بخش رہے تھے۔ وہ لوگ بھی کمال ہوتے جو صرف بڑے فنکار ہوتے پر جو ساتھ میں بڑے آدمی بھی ہوتے ان کے تو کیا ہی کہنے۔
دو جگہ پہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ایکسپوز ہو جاتا ہے۔ اک سفر میں اور اک ساتھی فنکاروں کے ذکر پہ۔ اقبال بانو کے سازندے لے جانے والے واقعے کے باوجود ان کے فن کی تعریف کی۔ میڈم نور جہاں کی فنی عظمت کو سلام کیا اور ان کے پروڈیوسروں اور آرگنائزرز سے دو ٹوک رویے کو سراہنے کے ساتھ ساتھ ان کے گرد پھیلے دوسروں کے لیے خوف کا بھی ذکر کیا۔
آف کیمرہ مقابلے بازی کی فضا کے کچھ منفی پہلو بھی گفتگو کا حصہ بنے۔ ملکہ پکھراج کے انداز کی بھی داد دی پر ان کے دبنگ انداز سے کچھ خائف لگیں۔ شاید یہ لاہور نہ آئیں اور مقابلے بازی کی فضا کا براہ راست حصہ نہ تھیں سو سب سے تعلقات ٹھیک ہی رہے یا پھر شاید اولیا کی سرزمین کی اس مغنیہ کا خمیر ہی عاجزی اور محبت سے گندھا تھا۔
ہاں لوک گیت رات دھمی دھمی جائے کے بارے میں جو واقعہ سنایا اس سے عینی بی بی کا ناول گردش رنگ چمن یاد آ گیا۔ مسرت نذیر نے بھی یہ گیت گایا تھا اور کلیم کیا کہ یہ ان کے والد نے لکھا ہے۔ ثریا بی بی نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ اس کی جڑیں نیپیر روڈ کی ایک پرانی گائیکہ سے جا ملتی ہیں جس کو پی ٹی وی کے پروڈیوسر اور انہوں نے مل کر کھوجا تھا۔
اپنے مشہور گیت لنگ آجا پتن چناں دا یار کا کریڈٹ بھی خود نہ لیا کہ ’یہ تو عرصہ دراز سے گایا جا رہا ہے سو میں نے بھی گا دیا‘۔ میرے نو سال کے بیٹے نے بھی ان کے سامنے اس کو پرفارم کیا تو بہت خوش ہوئیں اور انعام سے بھی نوازا۔ جگر صاحب نے زہرا آپا کو دس روپے دیے تھے، ثریا جی نے میرے فرزند کو پانچ ہزار دیے۔ کتنا وقت زمانے کے پلوں کے تلے بہہ گیا ہے۔ شاید اس خطے کی سفید ڈولفن کی طرح یہ موسیقی اور روایات بھی معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ خیال لرزا دینے کو کافی ہے کہ گر ہم کچھ سال اور جی گئے تو شاید ان کو نہ دیکھ پائیں گے۔
جب ساحرہ ثریا ملتانیکر قصے سنانے پہ آمادہ ہوں تو وقت اور سر دونوں ہاتھ باندھے لفظوں کی مالا یادوں کے دھاگے میں پروئے چلے جاتے ہیں۔ 1960-61 کا مظفرآباد ریڈیو سٹیشن کا قیام اور ملتان سے ثریا جی کا آنا بنگال جانے جتنا مشکل کام تھا کہ کہاں ملتان اور کہاں مظفرآباد۔ اس تقریب میں مہدی حسن اور کئی دوسرے فنکاروں کی موجودگی کا بھی بتلایا۔
بزرگ خاتون کے ہاتھ میں وقت اور جگہ کی باگ ڈور ہو اور پرانے وقتوں کی عظمت اور روایات کے فوائد کا ذکر نہ آئے، یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ یہاں ہم نے مرعوب ہوئے بغیر جوابی فائر داغا کہ آپ نے کتنے شاگرد تیار کیے ہیں اور ہم موسیقی میں استادوں کا غلغلہ ہی سنتے ہیں، استانیاں کیوں ناپید ہیں۔
مسکرائیں، ’میرا بچہ یہ بہت مشکل کام ہے، سکول اور پڑھائی کے ساتھ ممکن نہیں ہو پاتا ہے۔ ملتان کے ایک ادارے نے کوشش کی تھی پر وہ سلسلہ زیادہ عرصہ چل نہ پایا تھا۔‘
وہ لیہ کے اس دورے میں کمرے سے باہر بھی آئیں۔ ایوارڈ وصول کیا، میرے بیٹے کو اپنا گیت گاتے ہوئے سنا، سب کو انعام دیے اور پھر سٹیج پہ نغمہ سرا ہوئیں۔ سروں کی پختگی 87 سال کی تھی پر آواز کی اٹھان سنہ 61 کی ثریا سے زیادہ مختلف نہ تھی۔ کیسی خوش نصیب تھیں لیہ کی فضائیں جنہوں نے ان سروں کو سمو لیا۔ ہم تو جیسے ٹرانس میں تھے۔ پیلو پکھیاں گائیں تو سرائیکی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے بھی جھومتے رہے۔ جی چاہتا تھا کہ صبح ہی نہ ہو اور ان سروں میں بھیگتے ہی رہیں۔
ہم بہت خودپسند لوگ ہیں اور پھر لیجنڈ کے فن سے تعلق کو ذاتی بھی کر لیتے ہیں۔ مجھے بھی یہ لگتا ہے کہ یہ آواز صرف میرے کانوں کو بھلی لگتی ہے اور کائنات میں ایک میں ہی سننے والا رہ جاؤں تو بھی یہ آواز آتی رہے گی۔ سو میری خواہش ہے کہ جب تک میرا سانس چل رہا ہے یہ آواز اس دنیا میں موجود رہے۔ کیسے احمد فراز کی یہ غزل ثریا جی کی آواز میں ہمہ وقت ذہن کی غلام گردشوں میں چکر کھاتی رہتی ہے بلکہ حرم کے طوافوں کے زمانے کے دور میں ان چکروں میں بھی لبوں پہ رہتی تھی۔
تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
اب ہو چلا یقین کہ برے ہم ہیں دوستو
اپنے سوا ہمارے نہ ہونے کا غم کسے
اپنی تلاش میں تو ہم ہی ہم ہیں دوستو
آپ میری فرمائش پہ میرے سامنے بیٹھ کر سنا دیں گی تو مجھے لگا کہ جیسے میری ہر خواہش پوری ہو گئی ہے۔ ’ضرور سناؤں گی میرے بچے، کیوں نہیں سناؤں گی۔ اتنی باتیں کی ہیں آپ سے تو یہ کیوں نہیں سناؤں گی۔‘
اور پھر پورا کمرہ گویا سروں کا پنڈال بن گیا، بلکہ پورا لیہ ہی کہیے۔ ایک لمحے کو تو یوں لگا کہ ان لمحات میں پوری کائنات ہی اپنی تلاش میں گم ہے۔ آنکھیں بند کیے، گردن کو ذرا آگے جھکا کر پھر واپس لے جاتیں؛ یوں جیسے سروں اور لفظوں کو دھیان سے ایک مالا میں پرو رہی ہوں۔۔۔
اپنی تلاش میں تو ہم ہی ہم ہیں دوستو
اپنی تلاش میں تو ہم ہی ہم ہیں دوستو
