پاکستان میں اطلاعات ہیں کہ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اب 32 صوبوں کی بات ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانے سے ملک کا معاشی نظام بہتر ہو جائے گا یا مالی مسائل مزید بڑھ جائیں گے؟
جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور کراچی جیسے علاقوں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتیں وقتاً فوقتاً نئے صوبوں کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کی قیمت کم نہیں ہے۔ ایک نئے صوبے کے قیام اور اسے چلانے کے انتظامی اخراجات 50 سے 150 ارب روپے تک ہو سکتے ہیں جبکہ سالانہ جاری اخراجات الگ ہیں۔
پاکستان ایک وفاقی اور چار صوبائی حکومتیں چلانے پر تقریباً ایک کھرب روپے سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اگر 32 نئے صوبے بنا دیے جائیں تو بجٹ میں کتنا اضافہ ہو گا اس حوالے سے عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نئے صوبے ایسا کیا کریں گے کہ وہ اپنے خرچے بھی نکال لیں اور منافع بھی کمائیں؟ بغیر کسی قابل عمل منصوبہ بندی کے صوبوں میں اضافہ صرف حکمرانوں میں اضافہ ہو گا اور کچھ نہیں۔
سندھ اسمبلی کا سالانہ بجٹ تقریباً 80 کروڑ روپے ہے۔ پنجاب میں گورنر اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے لیے مالی سال 2026-27 میں 2.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صرف پنجاب اسمبلی کی عمارتوں، ہاسٹل اور جدید سہولتوں کے لیے 7.4 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔
جنوبی پنجاب صوبے کی بحث کے دوران 2020 میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ صرف صوبائی سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے 3.5 ارب روپے اور 1,350 ملازمین درکار ہوں گے۔ تاہم یہ تخمینہ چھ سال پرانا ہے اور آج کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ لاگت متوقع ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ صوبہ صرف اسمبلی اور سیکرٹریٹ کا نام نہیں ہوتا۔ ایک نئے صوبے کے لیے، گورنر ہاوس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ یا اس کا بینچ، محکمہ خزانہ، محکمہ داخلہ، پولیس کمانڈ، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایکسائز، ریونیو اور ٹیکس جیسے محکمے درکار ہوتے ہیں۔
اگر ان اداروں کے لیے زمین، عمارتیں، گاڑیاں، آئی ٹی نظام اور ہزاروں ملازمین کی بھرتی شامل کر لی جائے تو ابتدائی لاگت آسانی سے 100 ارب روپے سے اوپر جا سکتی ہے۔
ایسے وقت میں جب پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ 85 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر سالانہ 8 ہزار ارب روپے سے زیادہ خرچ ہو رہے ہیں، جو کہ ملکی آمدن کا تقریباً 50فیصد بنتا ہے تو نئے انتظامی ڈھانچے پر اربوں روپے مزید خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے برعکس اگر یہ ہی وسائل اضلاع اور تحصیلوں کو منتقل کر دیے جائیں تو نتائج زیادہ تیزی سے سامنے آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے، لیکن اگر ہر ضلع کو مالی اور انتظامی اختیارات مل جائیں تو عوام کو صوبہ تقسیم کیے بغیر بھی بہتر خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں بھی مسائل سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بیماری پر اتفاق ہے لیکن طریقہ علاج پر اختلاف ہے۔
2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک میں 136 اضلاع، 591 تحصیلیں اور تقریباً 46 ہزار 700 دیہات موجود ہیں۔ اگر یہ نظام مسائل حل نہیں کر سکا تو نئے صوبے کیسے حل کریں گے؟
نئے صوبوں کے حامی اکثر انڈیا کی مثال دیتے ہیں جہاں 28 ریاستیں ہیں، لیکن وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ بھارت میں مقامی حکومتوں کو بھی مالی اور انتظامی اختیارات دیے گئے۔ پاکستان میں صورت حال مختلف ہے۔ یہاں اختیارات اکثر وفاق سے صوبوں اور پھر صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
نائجیریا نے آزادی کے وقت صرف تین بڑے علاقے رکھے تھے، جو بعد میں بڑھتے بڑھتے 36 ریاستیں بن گئے۔ بعض علاقوں کو نمائندگی ملی اور علیحدگی پسند رجحانات میں کمی آئی لیکن بدعنوانی، غربت اور معاشی مسائل ختم نہیں ہوسکے۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد پاکستان میں صوبوں کے مالی اور انتظامی اختیارات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ورلڈ بینک کی جولائی 2026 میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2010 کے بعد صوبائی آمدنیاں جی ڈی پی کے تقریباً 4 فیصد سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئیں ہیں۔ لیکن عوامی خدمات کی فراہمی میں اسی تناسب سے بہتری نہیں آ سکی۔صوبائی اخراجات کا بڑا حصہ انتظامی اور جاری اخراجات پر خرچ ہوتا رہا جبکہ مقامی حکومتوں کے حصے میں آنے والے وسائل کم ہوتے گئے۔ مقامی حکومتوں کے ذریعے ہونے والے سرکاری اخراجات کا حصہ تقریباً 10 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف لکیر کھینچنے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے سے ترقی خودبخود نہیں آجاتی۔ اصل فرق اس وقت پڑتا ہے جب وسائل عوام تک پہنچیں اور اس کے لیے حکمرانوں کی نیت کا درست ہونا ضروری ہے۔
پاکستان کا آئین بھی اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 140-A کے تحت ہر صوبہ مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند ہے۔ بدقسمتی سے اس آئینی تقاضے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اگر اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کر دیے جائیں تو عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
اگر نئے صوبہ بن بھی جائیں لیکن اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہوں تو عام آدمی کی زندگی میں زیادہ فرق نہیں آئے گا۔ صرف علاقے کا پرانا بڑا سیاسی گھرانہ صوبے میں حکومت بنا لے گا، پھر اس کی وزرات اعلی، کابینہ اور بیوروکریسی کے اخرجات بھی عوام ادا کریں گے۔ آمدن وہی رہے گی لیکن اخراجات بڑھ جائیں گے۔ صوبائی دارالحکومت کا شہر بدل جائے گا لیکن مسائل نہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ چند بااثر افراد اپنی ایک بوٹی کے لیے پورا بکرا ذبحہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
