آبنائے ہرمز کو بہت جلد امریکی علاقہ قرار دے دوں گا: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ وہ ایران کو شکست دینے کے بعد ’جلد‘ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے نیویارک میں پولیس اکیڈمی میں سیاسی جلسے سے خطاب کے دوران ہنستے ہوئے کہا ’ایران کو شکست دینے کا عمل مکمل ہونے کے بعد، جسے بہت بری طرح شکست ہو رہی ہے، میں بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دے دوں گا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ سچ ہے۔‘ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔

ان کے بتائے گئے مقاصد میں ایران کے متنازع جوہری پروگرام کا خاتمہ اور عوامی بغاوت کو ہوا دینا شامل تھا۔

تاہم ایران نے جواباً آبنائے ہرمز کے زیادہ تر حصے پر عملاً کنٹرول قائم کر لیا۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر میں توانائی اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار کی بحری نقل و حمل کے لیے نہایت اہم ہے۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان اب بھی تعطل برقرار ہے۔ ایران نے بیشتر غیر فوجی بحری جہازوں کی آمدورفت روک رکھی ہے، جب کہ امریکی بحریہ نے ایرانی معیشت کو مفلوج کرنے کی کوشش میں اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ٹرمپ نے حامیوں اور پولیس اہلکاروں کے نعرے لگاتے مجمعے سے کہا ’ناکہ بندی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہماری مرضی کے بغیر کوئی جہاز نہیں گزر سکتا۔‘

دوسری جانب ٹرمپ نے جمعے کو ایران کے خلاف تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر موجود فوجیوں کے حالات زندگی اور ذہنی صحت سے متعلق خدشات کو مسترد کر دیا۔

ساتھ ہی انہوں نے تصدیق کی کہ جہاز کو جلد وہاں سے ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا جہاز تعینات کیا جائے گا۔

صحافیوں نے جب پوچھا کہ کیا یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود اہلکاروں کے خاندان اس صورت حال سے پریشان ہیں تو ٹرمپ نے کہا ’نہیں، وہ پریشان نہیں۔‘

ٹرمپ نے یہ بات بھی مسترد کر دی کہ نو ماہ سے سمندر میں موجود اس بحری جہاز کو حد سے زیادہ عرصے تک تعینات رکھا گیا ہے۔ ’نہیں، نہیں، بالکل نہیں، ابھی تو یہ مدت کافی بھی نہیں۔‘

صدر نے ان خبروں کی تصدیق کی کہ اس جہاز کی جگہ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی میڈیا نے عملے کے کئی ارکان کے رشتے داروں کے حوالے سے بتایا کہ لنکن پر حالات زندگی خراب ہو گئے ہیں۔ خودکشی کی کئی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

قائم مقام امریکی وزیر بحریہ ہنگ کاؤ نے ایک بیان میں کہا ’ذہنی صحت کے چند مسائل کا علاج کیا گیا اور کسی کی جان نہیں گئی۔‘

انہوں نے میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ ’ہمارے فوجیوں کو بے بس مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ڈیموکریٹک قانون ساز اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جوہری توانائی سے چلنے والا یہ بہت بڑا بحری جہاز نومبر 2025 میں جنوبی بحیرہ چین میں ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے کیلی فورنیا سے روانہ ہوا تھا۔

بعد میں اسے مشرق وسطی بھیج دیا گیا۔ یہ تبدیلی ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں سے پہلے کی گئی تھی جو 28 فروری کو شروع ہوئے۔

آبنائے صرف ایران کے حکم پر کھولی اور بند کی جائے گی: کاظم غریب آبادی

روئٹرز کے مطابق ایران نے امریکہ سے شکست تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ٹرمپ نے ایران کو ’برا‘ قرار دیتے ہوئے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ وہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے لیے تیار رہیں۔

 ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ہفتے کی صبح ایکس پوسٹ میں کہا ’یہ آبنائے صرف ایران کے حکم پر کھولی اور بند کی جائے گی۔ جب تک آپ شکست کی حقیقت تسلیم نہیں کرتے اور خیالی دنیا میں رہنا نہیں چھوڑتے، ایران ناکہ بندی جاری رکھے گا۔‘ 

ان کے بیان سے جنگ سے پہلے کی تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے میں کسی جلدی کا اظہار نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز پر نہ کسی ٹویٹ یا طیارہ بردار بحری جہاز کے ذریعے قبضہ کیا جا سکتا ہے، نہ کوئی حکم جاری کر کے اور نہ ہی انتخابی تقریر کر کے۔‘

ٹرمپ نے جمعے کو امریکی عوام سے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع جاری رہنے کے دوران وہ پٹرول کی قدرے زیادہ قیمتیں قبول کریں۔

نیویارک کے گارڈن سٹی میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’پٹرول کے لیے معمولی سی اضافی رقم‘ ادا کرنا اس بات کو یقینی بنانے کی ایک مناسب قیمت ہے کہ ’ایک انتہائی برا ملک‘ جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘

صدر نے اسے جنگ شروع کرنے کی بیان کردہ وجوہات میں سے ایک قرار دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *