ماضی میں پاکستانی ڈرامہ جتنا ہیرو کا ہوتا تھا اتنا ولن کا بھی تھا۔ عام طور پر بڑی مونچھوں والے دبنگ ولن جن سے ہم بے تحاشہ نفرت کرتے، لیکن ان کے بغیر ڈرامے کی دیگ ویسے ہی پھیکی لگتی جیسے مثالے کے بغیر بریانی۔
کوئی جاگیردار، ظالم سسر، حاسد رشتہ دار یا محلے کا ایسا کن ٹٹا بدمعاش جس کے سامنے پورا خاندان بے بس دکھائی دیتا۔ ہم اس کو بہت دھیان سے فالو کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات ہیرو سے بھی زیادہ، لیکن آج ایسا تگڑا ولن نظر نہیں آتا۔
آج کے ڈرامے میں ولن انتہائی گھناؤنا کردار ادا کرے بھی تو اس کا نقطہ نظر برابر ڈرامے کا حصہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی طرف سے جسٹفائی ہو رہا ہوتا ہے۔
بچپن کا کوئی صدمہ، باپ سے نظرانداز ہونے کا دکھ، اسے کسی نے دھوکہ دیا یا وہ محبت کے کسی جذباتی زخم کا شکار ہے۔ وہ برا ہو کر بھی ہمیں زیادہ برا نہیں لگتا، وہ ہمیں ساتھ ساتھ بتاتا جاتا ہے کہ وہ جیسا ہے ویسا کیوں ہے؟
ماضی کا ولن بے پناہ برا ہوتا، انتہائی گھٹیا اور گھناؤنا۔ ہمارے پاس اس سے نفرت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ ہوتا۔
پی ٹی وی کے کلاسیکی دور میں منفی کرداروں کی ایک پوری روایت موجود تھی۔ ’وارث‘ میں محبوب عالم کا کردار، ’دھویں‘ میں نیر اعجاز کا منفی کردار، ڈرامے کا نام یاد نہیں آ رہا نہ گوگل مدد کر پا رہا ہے لیکن سہیل اصغر بھی ایک ڈرامے میں انتہائی ناپسند رہا ہے۔
یہ ایسے ولن تھے جن سے ڈراموں کی شناخت بنی۔ حسینہ معین کے ڈرامے البتہ بہت انوکھے تھے کہ ولن ہوتا نہیں تھا، اگر ہوتا بھی تو ہمیں محسوس نہیں ہوتا تھا۔
’ان کہی‘، ’تنہائیاں‘ اور ’دھوپ کنارے‘ جیسے ڈراموں میں اصل کشمکش کسی شیطانی ولن کے خلاف نہیں تھی۔
ان کہانیوں میں انسان اپنی الجھنوں، رشتوں، خواہشوں اور کمزوریوں سے لڑتا تھا۔ اسی لیے حسینہ معین کے کئی منفی کردار بھی روایتی معنوں میں ’برے‘ نہیں تھے۔
بہروز سبزواری کی پہنچان ’تنہائیاں‘ کا قباچہ ہے۔ یہ اپنے رنگ ڈھنگ کا انوکھا ولن تھا۔ وہ عجیب و غریب، خود پسند، بے تکا اور محبت میں گرفتار کردار ہے، مگر اس کا یہ بے تکا پن ہی اسے امر کر گیا۔
آج بھی قباچہ کا نام لیا جائے تو ناظر کے ذہن میں تین پیس سوٹ، چشمہ اور وہ مخصوص معصومیت آنکھوں کی سکرین میں چلنے لگتی ہے۔
شاید ڈرامے میں اب ولن کی ضرورت تبدیل ہو گئی ہے۔ پہلے کہانی گھومتی ہی کرداروں کے گرد تھی۔ عام طور پر مختصر کاسٹ اور کہانی ان ہی کے گرد چلے جا رہی ہے۔
اب کہانی زیادہ پیچیدہ، کئی جہتوں والی اور کرداروں کی منڈی لگی ہوتی ہے۔ بیچارہ ولن بلکہ چھوٹے بڑے کئی ولن ان ہی میں بے نشان پھرتے ہیں۔
پہلے ولن کہانی کو آگے بڑھاتا تھا، آج پلاٹ ولن کو کھینچتا ہے۔ پرانے ڈرامے میں ولن کا ایک واضح مقصد ہوتا تھا۔
اسے جائیداد چاہیے تھی، بدلہ لینا تھا، کسی کی شادی رکوانی تھی یا خاندان کی سربراہی اپنے ہاتھ میں رکھنا ہوتی تھی۔ وہ ہیرو کے راستے میں کھڑا ہوتا تھا تب ہی کہانی دلچسپ بنتی تھی۔
آج ٹی ڈرامہ ولن کی بجائے ’زہریلے کرداروں‘ سے بنتا بگڑتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ایسا کردار قتل کرے یا سازش کرے۔
وہ ایک جملہ بولتا ہے، کسی کے فون کا جواب نہیں دیتا، خاندان کے ایک فرد کو دوسرے کے خلاف کرتا ہے، بیٹے کو جذباتی طور پر بلیک میل کرتا ہے یا بہو کو مسلسل احساسِ جرم میں مبتلا رکھتا ہے۔
یہ کردار زیادہ حقیقی ہیں، لیکن زیادہ یادگار نہیں۔ مثلاً ’میرے پاس تم ہو‘ میں شہوار روایتی معنوں میں ایسا ولن نہیں جسے پہلے ہی منظر سے ’برائی‘ کا نشان لگا دیا جائے۔
وہ کامیاب، مہذب اور پرکشش آدمی ہے۔ اس کی برائی رفتہ رفتہ سامنے آتی ہے۔ یہ جدید ڈرامے کی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ برائی چہرے پر چھلکتی نہیں پھرتی، اندر سے نکلتی اور دھیرے دھیرے سکرین کو سیاہ کر دیتی ہے۔
لیکن اس سیاہی میں دوسرے کرداروں کے دھبے پھوار بن کر برابر سکرین میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ڈرامہ ختم ہونے تک ہم کسی واضح نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ کس نے کتنی کالک پھونکی ہے۔
یہ سفید یا سیاہ کرداروں کی بجائے ’گرے‘ کرداروں کا زمانہ ہے۔ آج کا ڈرامہ اخلاقی پیچیدگی بھی چاہتا ہے محض الجھن نہیں۔ بالکل آج کے معاشرے کی طرح۔
یہ ’گرے کردار‘ زیادہ پیچیدہ اور حقیقی ہیں، مگر یادگار نہیں۔
محبوب عالم جیسے اداکار جب طاقت، ظلم یا رعب والے کردار ادا کرتے تھے تو ان کرداروں کے پیچھے پوری نفسیاتی تھیوری بیان نہیں کی جاتی تھی۔
کردار اپنے عمل سے پہچانا جاتا تھا۔ ناظر کو اس کی ماں کے بچپن کے رویے یا سکول کے زمانے کے صدمے کی تفصیل معلوم نہیں ہوتی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ ظالم تھا، بس ظالم تھا۔ اس سے نفرت ہی کی جا سکتی ہے، بے تحاشا نفرت۔
ولن کے غائب ہونے کی بڑی وجہ محض معاشرے کی اخلاقی پیچیدگی نہیں بلکہ ڈرامے کی معیشت بھی ہے۔
نجی ٹی وی کئی کئی قسطوں پر محیط طویل ڈرامہ سیریلز چلاتے ہیں۔ نیا معاشی ماڈل کئی قسطوں کا محتاج ہے۔ ایسے ماڈل میں ایک واضح ولن جس کی سازش جلد سامنے آ جائے، زیادہ دیر تک دلچسپی قائم نہیں رکھ سکتا۔
ولن کو ’پیچیدہ‘ بنانا کہانی کو لمبا کرنے کی مجبوری بھی ہے۔
وہ ایک دم سے مکمل برا نہیں ہوتا، اس کی زندگی میں پچھتاوا آتا ہے، وہ دوبارہ غلطی کرتا ہے، پھر معافی مانگتا ہے، اس کے بعد اچانک سے نامعلوم راز سامنے آتا ہے۔ ہم ولن کا ایک چہرہ دیر تک اپنی میمری میں ہولڈ نہیں کر پاتے۔
ہم فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ اس کردار سے نفرت کرنی ہے یا ہمدردی۔
ایک اچھا ولن ضروری نہیں کہ شیطان ہو۔ وہ انسان ہو سکتا ہے مگر ایسا انسان جس کی موجودگی سے کہانی میں تناؤ پیدا ہو، جس کے فیصلے دوسروں کی زندگیاں بدل دیں اور جسے دیکھ کر ناظر اگلی قسط کا انتظار کرے۔
لیکن معاشرے کی اخلاقی پیچیدگی اور ڈرامے کا معاشی ڈھانچہ اب ایسے ولن کی گنجائش نہیں رکھتا۔
