افغان طالبان کے پانچ سال: ’پہلے بچوں کی بم دھماکوں میں موت کا خوف، اب تعلیم کی فکر ‘

افغان طالبان کے افغانستان میں نگران دور حکومت کے پانچ سال پورے ہو گئے ہیں اور ان برسوں میں اقوام متحدہ کے مطابق دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کے مسائل میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

افغان طالبان کے پانچ سال پورے ہونے پر اقوام متحدہ کے ادارے برائے خواتین نے مئی سے اپریل 2026 تک اور 2025 میں ایک سروے کے حوالے سے رپورٹ جاری کر کے موازنہ کیا ہے۔

اس سروے میں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد افراد سے مختلف سوالات اور فوکس گروپ ڈسکشن کی گئی ہے جس میں تین ہزار 200 سے زائد خواتین اور باقی مرد شامل تھے۔

یہ سروے اقوام متحدہ کے مطابق ننگرہار، کابل، ہلمند، ہرات، بامیان، اور فاریاب میں رہنے والوں پر مشتمل ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے تین بنیادی مسائل، جن کا احاطہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، پر بات کی ہے کہ افغانستان میں خواتین کن مشکلات کی شکار ہیں۔

تعلیم پر پابندی

اس رپورٹ میں سب سے بنیادی مسئلے، افغانستان میں چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حوالے سے بات کی گئی ہے جس میں زیادہ تر خواتین اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے گذشتہ پانچ برسوں سے خواتین کی چھٹی جماعت سے آگے تعلیم پر پابندی ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی کمیونٹی کی جانب سے طالبان حکومت کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 65 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ طالبان کے آنے کے بعد ان کی زندگی عذاب بن گئی اور اس میں 47 فیصد خواتین نے وجہ تعلیم پر پابندی بتائی ہے جس میں زیادہ تر کا کہنا تھا کہ تعلیم اور ملازمت پر پابندی سے ان کے معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی رپورٹ میں 14 فیصد ایسی خواتین بھی  تھیں جن کا کہنا تھا کہ پہلے سے اب ان کی زندگی بہتر ہے، تاہم ان خواتین نے بہتر زندگی کی جو وجوہات بتائیں، وہ مشکلات سے دوچار خواتین سے بالکل مختلف تھیں۔

سروے میں شامل کچھ خواتین کا کہنا تھا کہ اب سے پہلے اپنے بچوں کی سکیورٹی کے لیے فکر مند تھے کہ کہیں باہر جا کر بم دھماکوں میں نہ مارے جائیں لیکن اب تعلیم پر پابندی کے حوالے سے فکر مند ہیں کہ ان کی بچیوں کا مستقبل کیا ہوگا۔

خواتین کی نقل و حرکت محدود

تعلیم کے علاوہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ 2025 کے مقابلے 2026 میں خواتین کی نقل و حرکت مزید محدود ہو گئی ہے اور اس کی وجہ صرف طالبان کے سخت شرائط نہیں بلکہ ارد گرد کے لوگوں کے رویے بھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں 17 فیصد خواتین کو معاشرتی اقدار سے مسئلے تھے لیکن اب یہ شرح 39 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

خواتین کے مطابق اب پڑوسی اور آس پاس کے لوگ بھی خواتین کے لباس، نقل و حرکت وغیرہ پر نظر رکھتے ہیں اور خواتین کو خوف ہوتا ہے کہ کہیں وہ طالبان کو رپورٹ نہ کریں۔

رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی محرم (خانی رشتہ دار) کے بغیر گھر سے باہر جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ خواتین کے لیے ڈریس کوڈ کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

سروے میں شامل 90 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ گھر کے مرد کی اجازت کے بغیر وہ گھر سے نہیں نکل سکتیں جبکہ 75 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ محرم کے بغیر باہر جانا وہ محفوظ نہیں سمجھتیں۔

ذہنی مسائل کی شکار خواتین

مختلف مسائل کی وجہ سے رپورٹ کے مطابق خواتین میں ذہنی مسائل اور دباؤ کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں اور یہ شرح تعلیم یافتہ خواتین میں زیادہ پائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف پابندیوں کی وجہ سے سروے میں شامل 70 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال ذہنی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

تعلیم یافتہ خواتین میں رپورٹ کے مطابق 55 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ یہ دباؤ رہتا ہے کہ ان پابندیوں میں زندگی بسر کرنی ہے اور یہ خواتین ایسی تھیں جنہوں نے یونیورسٹی یا ووکیشنل تعلیم حاصل کی تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *