کراچی کے ہسپتال میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ: عدالت کا تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے جمعرات کو کراچی کے ایک ہسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی منتقل ہونے سے متعلق درخواست پر سندھ کے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس جعفر رضا پر مشتمل آئینی بینچ نے جمعرات 13 اگست کو جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں حکم دیا کہ کمیٹی میں گریڈ 20 کے دو سینیئر افسران کو بھی شامل کیا جائے اور وہ دو ماہ کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مزید مناسب احکامات جاری کیے جائیں گے۔

تحقیقاتی کمیٹی متاثرہ بچوں کی اصل تعداد، ان میں ایچ آئی وی منتقل ہونے کی وجوہات، علاج کے دوران سرنجوں کے مبینہ دوبارہ استعمال اور دیگر متعلقہ معاملات کا جائزہ لے گی۔

درخواست گزار ایڈووکیٹ طارق منصور نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے ماتحت ہسپتال میں مبینہ غفلت کے باعث 200 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔

متاثرہ بچوں کا مفت علاج

عدالت نے متاثرہ بچوں کے علاج سے متعلق بھی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تمام طبی علاج سندھ حکومت اور سیسی کی جانب سے مفت فراہم کیا جائے۔

چیف سیکریٹری سندھ کو متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو مالی امداد اور معاوضے کی ادائیگی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور ان کی رازداری برقرار رکھی جائے۔

سماعت کے دوران عدالت میں بدتمیزی اور نعرے بازی کے معاملے پر درخواست گزار ایڈووکیٹ طارق منصور کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا۔

’2019 سے ہمارے بچے ہسپتالوں میں ایچ آئی وی سے متاثر ہو رہے ہیں‘

عدالت کے باہر متاثرہ خاندانوں کی حمایت میں آئے ذوالفقار علی بھٹو جونئیر نے کہا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو طویل عرصے سے انصاف کا انتظار ہے۔

ان کے مطابق ایچ آئی وی ایک سنگین بیماری ہے، تاہم بروقت علاج اور ادویات کی فراہمی سے متاثرہ افراد بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’لیکن مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ بچوں کو ضروری ادویات بھی مناسب طریقے سے دستیاب نہیں ہوتیں اور ان کے کیسز کو بھی وہ توجہ نہیں مل رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔‘

ذوالفقار علی بھٹو جونئیر نے دعویٰ کیا کہ ’2019 سے ہمارے بچے ہسپتالوں میں ایچ آئی وی سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ایسے واقعات صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ کراچی کے ولیکا ہسپتال سے بھی ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملتا ہے تو یہ فیصلہ مستقبل کے لیے مثال بن سکتا ہے اور ہسپتالوں کے لیے ایک سبق ہوگا۔

ان کے بقول: ’میں نہیں چاہتا کہ ہمارے ملک میں مزید بچے اس بیماری کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔‘

ذوالفقار علی بھٹو جونئیر نے مزید کہا کہ دنیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لیے مؤثر ادویات موجود ہیں اور پاکستان میں بھی متاثرہ بچوں کو یہ ادویات مفت اور باقاعدگی سے فراہم کی جانی چاہییں۔

’گھر کے لوگ بھی اس سے ڈرتے ہیں، ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے‘

متاثرہ بچے محمد جان کی والدہ کلثوم نے بتایا کہ ان کا بیٹا تقریباً چار ماہ کا تھا جب اسے نمونیا ہوا اور وہ اسے علاج کے لیے ولیکا ہسپتال لے کر آئیں۔

کلثوم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بچے کو آئی سی یو میں تقریباً 11 دن رکھا گیا۔ گھر واپس آنے کے بعد بھی بچہ مسلسل بیمار رہنے لگا اور ہم اسے مختلف اوقات میں علاج کے لیے ہسپتال لے جاتے رہے۔‘

ان کے مطابق رمضان سے قبل بچے کی طبیعت دوبارہ خراب ہوئی تو اسے ولیکا ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ تقریباً ایک ہفتے کے علاج کے بعد ڈاکٹروں نے مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

کلثوم نے بتایا کہ بچے کو اب بھی خارش ہوتی ہے اور جسم پر دانے نکل آتے ہیں۔

ان کے مطابق بچے کی بیماری کے باعث گھر کے بعض افراد بھی اس کے قریب آنے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔

’گھر کے لوگ بھی اس سے ڈرتے ہیں۔ ہم نہیں ڈرتے۔ وہ اسے کھلاتے بھی ہیں لیکن ڈرتے ہیں۔ مجھے اس بات کا بہت دکھ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بچہ علاج کے لیے ہسپتال گیا تھا اور وہ چاہتی ہیں کہ تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے کہ اسے ایچ آئی وی کیسے منتقل ہوا۔

’نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو سکون‘

ڈیڑھ سالہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچی کی والدہ نائلہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو شروع سے سینے کی تکلیف اور نمونیا رہتا تھا، جس کے باعث اسے کئی مرتبہ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

ان کے مطابق علاج کے دوران بچی کو انجیکشن بھی لگائے جاتے رہے اور بعد میں اس میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

نائلہ نے بتایا کہ تشخیص کے بعد بچی کی طبیعت مسلسل خراب رہتی ہے اور اسے بخار، الٹی اور سینے کی تکلیف سمیت مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

نائلہ نے کہا: ’نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو سکون ہوتا ہے۔ بچوں پر بھی دھیان نہیں رہتا۔‘

ان کے مطابق بچی کو ادویات دی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی طبیعت مکمل طور پر بہتر نہیں رہتی، جس کی وجہ سے پورا خاندان پریشانی کا شکار ہے۔

نائلہ نے کہا کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں کسی کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

’انہیں سزا ملنی چاہیے اور جب قانون انہیں پکڑے تو ہمیں دکھانا چاہیے کہ جس کے ساتھ یہ ہوا ہے، اس کے ذمہ دار کو سزا دی گئی ہے۔‘

’سیسی کسی کی سکن سیونگ نہیں کر رہی‘

دوسری جانب سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل بیرسٹر محسن شاہوانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ادارے نے اس معاملے میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث 37 افراد کو معطل کیا ہے۔

ان کے بقول: ’معطل کیے جانے والوں میں ایم ایس سے لے کر سینئر اور جونیئر سطح کے وہ ملازمین شامل ہیں جو تحقیقات کے مطابق کسی نہ کسی طرح اس معاملے سے منسلک تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ تمام افراد کو ای اینڈ ڈی رولز کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور محکمانہ کارروائی جاری ہے۔

بیرسٹر محسن شاہوانی نے کہا کہ ’سیسی متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتی ہے اور ادارہ کسی کو بچانے یا سکن سیونگ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔‘

’ہماری پوری ہمدردیاں ان بچوں اور متاثرہ مریضوں کے ساتھ ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق سیسی نے متاثرہ بچوں کے علاج اور بحالی کے لیے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کے مراکز قائم کیے ہیں، جن کی نگرانی آغا خان کے ڈاکٹرز کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ مریضوں کے لیے دو ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔

بیرسٹر محسن شاہوانی کے مطابق سیسی نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ تحقیقات کے بعد جس شخص کے خلاف ذمہ داری یا قصور ثابت ہوگا، اس کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے ادارہ تیار ہے۔

’اگر ایف آئی آر درج کرانی پڑی تو وہ بھی کریں گے۔‘

ان کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کی رپورٹ بھی عدالت کے ریکارڈ پر آ چکی ہے، جبکہ سیسی اور محکمہ صحت کی جانب سے بھی رپورٹس اور کمنٹس جمع کرائے گئے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی معاونت

بیرسٹر محسن شاہوانی نے بتایا کہ متاثرہ مریضوں کی مالی معاونت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان کے بقول: ’سیسی کمشنر سے ہونے والی بات چیت میں بتایا گیا کہ ایک متاثرہ مریض کو ماہانہ 40 ہزار روپے، جبکہ دو متاثرہ بچوں والے خاندان کو ماہانہ 80 ہزار روپے تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔‘

اب سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کو دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس کے بعد متاثرہ بچوں میں ایچ آئی وی منتقلی کی وجوہات، ذمہ داری اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے عدالت مزید کارروائی کرے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *