افغان طالبان کی حمایت سے پاکستان میں خونریز حملے بڑھے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مقرر کردہ نگران گروپ نے رواں ہفتے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کی حمایت کے باعث گذشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان میں زیادہ جان لیوا حملے ہوئے۔

گروپ نے مزید کہا کہ افغانستان سے پیدا ہونے والا شدت پسندی کا خطرہ ’بڑی حد تک بدستور برقرار‘ ہے۔

ٹی ٹی پی، جو 2007 سے اب تک پاکستان میں بعض انتہائی جان لیوا حملے کر چکی ہے، نے حالیہ برسوں میں ملک میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

ان حملوں میں درجنوں سکیورٹی اہلکار اور شہری جان سے گئے، جن میں زیادہ تر واقعات افغانستان سے متصل پاکستان کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں پیش آئے۔

پاکستان نے اکثر افغان طالبان کی حکومت پر ٹی ٹی پی کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کشیدہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں رواں سال فروری سے دونوں ملکوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا کہ افغانستان میں متعدد شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت ہمسایہ ملکوں اور وسطی ایشیا کے خطے کے لیے ’مسلسل خطرہ‘ بنی ہوئی ہے۔

10 اگست کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’جنوبی ایشیا میں علاقائی کشیدگی بدستور عروج پر رہی، کیوں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملے جاری رہے۔ 

’افغانستان میں عملاً حکمران طالبان حکومت نے تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھی، جس نے پاکستان کے خلاف حملے بڑھا دیے اور اس کے نتیجے میں فوجی جھڑپیں ہوئیں۔ طالبان عوامی سطح پر مسلسل اس بات کی تردید کرتے رہے کہ انہوں نے کسی دہشت گرد گروہ کو پناہ دے رکھی ہے۔‘

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی جب گذشتہ ماہ پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں اور سکیورٹی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق جولائی میں کم از کم 401 شدت پسند مارے گئے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں کسی ایک ماہ کے دوران سب سے بڑی تعداد ہے۔ اسی ماہ 112 سکیورٹی اہلکار بھی جان سے گئے اور یہ 2023 کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کے لیے سب سے جان لیوا مہینہ رہا۔

پی آئی سی ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران شدت پسندانہ تشدد اور اس کے خلاف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار 786 افراد جان سے گئے۔ ان میں ایک ہزار 857 شدت پسند، 463 شہری، 434 سکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹیوں کے 32 ارکان شامل تھے۔

اقوام متحدہ کے نگران گروپ نے داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف طالبان کی کوششوں کو بھی تسلیم کیا، تاہم اس کا کہنا تھا کہ افغان حکام ’دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے‘ میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان کے عملا حکمران حکام نے ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کے تحت اس کے تقریبا 2 ہزار جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستانی سرحد سے افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا۔

’اطلاعات کے مطابق طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے پس پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی کی قیادت کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے حملے روک دے، ورنہ اسے طالبان کی حمایت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اقوام متحدہ کے گروپ نے کہا کہ ٹی ٹی پی نے پاکستان پر حملوں میں مسلسل اضافہ کیا اور مارچ کے آغاز میں کئی زبانوں میں اپنی موسم بہار کی مہم ’آپریشن خیبر‘ کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے اندر اور اس کے خلاف حملے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کے نگران گروپ کے مطابق انتہائی جان لیوا حملوں میں سے ایک 16 فروری کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ہوا، جہاں بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیے گئے حملے میں 11 سکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ جان سے گئے جب کہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی افغانستان سے کی گئی۔

اقوام متحدہ کے نگران گروپ نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ کی حیثیت اور طاقت بھی ’بدستور برقرار‘ رہی۔ 28 اپریل کو القاعدہ کے سرکاری میڈیا ادارے السحاب میڈیا فاؤنڈیشن نے ایک بیان شائع کیا، جس میں طالبان اور پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت کی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا: ’اگرچہ القاعدہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی شورش میں اسے نظریاتی رہنمائی، تربیت اور مدد فراہم کرتی رہی ہے، لیکن یہ عوامی بیان پہلے سے زیادہ واضح اور براہ راست تھا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *