پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے جمعرات کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو خبردار کیا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات کے دوران ہائی وے پولیس کے اغوا کیے گئے آٹھ اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کرے اور ان اہلکاروں کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے کی صورت میں ریاست ’کوئی رعایت نہیں برتے گی۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں پر حالیہ دنوں میں تین مرحلوں میں انتخابات ہوئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوئی۔
دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کے انتخابی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہوئی۔
جبکہ تیسرے مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے ضلع باغ کے تین اور حویلی کے ایک حلقے میں پولنگ ہوئی جبکہ ضلع پونچھ کے پانچ اور سدھنوتی کے دو حلقوں میں انتخابات مؤخر کر دیے گئے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان انتخابات کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی رپورٹس سامنے آئیں، خصوصاً پونچھ ڈویژن کا شہر راولاکوٹ احتجاج اور کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں مظاہرین جان سے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بھی اموات ہوئیں۔ تاہم سرکاری طور پر اب تک ان اموات کی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔
جمعرات کو نیوز بریفنگ کرتے ہوئے پولیس ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابات کے لیے تعینات ہائی وے پولیس کے آٹھ اہلکاروں کو اغوا کرلیا اور ان کے اہلخانہ کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔
خاور علی شوکت نے کہا: ’ان انتخابات کے پر امن انعقاد کے لیے تعینات سکیورٹی فورسز پر نہ صرف کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے حملے کیے بلکہ انتخابی ڈیوٹی پر مامور ہائی وے پولیس کے آٹھ اہلکاروں کو اغوا بھی کر لیا گیا۔۔۔اور تاحال وہ ان کے قبضے میں ہیں۔‘
ایس ایس پی کے مطابق ان ’شر پسند عناصر‘ نے مغوی اہلکاروں کے اہلخانہ کو تنبیہ کی کہ ’اگر ان کے مطالبات نہ تسلیم نہ کیے گئے تو اغوا کیے گئے تمام اہلکاروں کو شہید کر دیا جائے گا۔‘
ترجمان پولیس نے کشمیر میں جاری کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر بھر میں بالخصوص راولاکوٹ میں جس طرح کی پرتشدد اور انسانیت سوز کارروائیاں کی گئی ہیں اور لوگوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ جس میں نہ صرف سڑکیں بند کی گئی ہیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ سکیورٹی فورسز پر بھی حملے کیے گئے ہیں، جو یہاں امن قائم کرنے کے لیے آئی ہیں۔ یہ ساری چیزیں دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ہو رہی ہیں۔
’یہ تمام چیزیں، یہ تمام پرتشدد کارروائیاں، اس چیز کو یہ واضح کرتی ہیں کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نہ صرف ریاست بلکہ ریاستی نظام کو سنگین نقصان پہنچانے کے در پر ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ عام عوام کی زندگیاں بھی اجیرن بنائی گئیں۔‘
انہوں نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر ’بچوں اور خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال‘ کرنے اور ’لوگوں کو گمراہ کرکے ریاست کے خلاف اکسانے‘ کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی ایسے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد ریاستی اداروں کو مفلوج کرنا اور ریاستی امن کو خراب کرنا ہے۔‘
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس کی تحریک بنیادی عوامی حقوق اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ہے، جبکہ کمیٹی حکومت سے اپنے مطالبات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے تشدد کی راہ اختیار کی اور مطالبات کی آڑ میں امن و امان کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔
ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کہا: ’ہم یہاں یہ چیز واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ریاست جس تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جہاں جہاں پر ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جائے گا، وہاں پر ریاست قانون اور آئین کے مطابق کارروائی کرے گی۔‘
ایس ایس پی خاور علی شوکت نے مزید کہا کہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مقصد ریاستی امن کو تباہ کرنا، ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے تاکہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ میں یہاں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ ریاست نہ پہلے کمزور تھی اور نہ اب کمزور ہے۔ ریاست نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
’عوامی حقوق کی آڑ میں کی جانے والی کوئی بھی پرتشدد کارروائی، ریاستی اداروں پر حملے، کسی بھی صورت قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ریاست ایسا ہونے دے گی۔‘
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ’ان شر پسند عناصر کی کارروائیوں سے مکمل طور پر لاتعلق رہیں اور ایسے پرتشدد واقعات کا حصہ نہ بنیں جس سے ریاستی ادارے، ریاستی نظام اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘
آخر میں ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو خبردار کیا کہ وہ ہائی وے پولیس کے تمام اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کریں۔
ان کا کہنا تھا: ’ریاست ان اہلکاروں کی سلامتی کے معاملے میں کسی بھی قسم کا دباؤ تسلیم نہیں کرے گی۔ اگر ان اہلکاروں کو کسی بھی طرح نقصان پہنچایا گیا یا ان کے خاندانوں کو دھمکانے کا سلسلہ جاری رہا تو ریاست کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتے گی۔‘
