کیلی فورنیا: ذہنی صحت کے لیے اے آئی کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش

کیلی فورنیا کے قانون ساز اس کوشش میں ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو مکمل طور پر بطور تھراپسٹ استعمال کرنے سے روکا جائے۔

حالیہ برسوں میں چیٹ بوٹس پر مبنی ذہنی صحت کی سہولیات کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سینیٹ بل 903 کے تحت کمپنیوں کو چیٹ بوٹس کو تھراپی کے طور پر تشہیر کرنے سے روک دیا جائے گا جبکہ اے آئی نظاموں کو کسی لائسنس یافتہ ماہر کی نگرانی اور جائزے کے بغیر علاج سے متعلق فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

بل میں یہ شرط بھی رکھی جائے گی کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو تھراپی کے سیشن ریکارڈ کرنے یا مریضوں کو علاج کے لیے ابتدائی طور پر مختلف شعبوں کی جانب بھیجنے کے لیے اے آئی استعمال کرنے سے پہلے مریض کی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

اس قانون سازی کے مصنف سان ڈیاگو سے تعلق رکھنے والے ریاستی سینیٹر سٹیو پیڈیلا نے رواں سال کے آغاز میں بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا ’اے آئی کے بہت سے فوائد ہیں اور اس میں ریاست بھر میں کیلی فورنیا کے شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اے آئی الگورتھمز انسانی تھراپسٹ کی جگہ لینے کے لیے موزوں نہیں۔ انسانی تھراپسٹ کے پاس ایسی مہارتیں اور تربیت ہوتی ہے جن کی اے آئی نقل کرنے سے قاصر ہے۔

’ہمیں اقدام کرتے ہوئے ایسی حفاظتی حدود مقرر کرنا ہوں گی جو اے آئی الگورتھمز کو ایسے انداز میں استعمال ہونے سے روکیں جس سے مریضوں کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچ سکتا ہو۔‘

بل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اے آئی کے جائز اور مفید استعمال محدود ہو جائیں گے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں کی یہ صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے کہ وہ اے آئی کے ذریعے مریضوں کو مناسب علاج تک پہنچانے میں رہنمائی کریں۔

صنعتی گروپ ٹیک نیٹ کے کیلی فورنیا میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رابرٹ بوئیکن نے اس ہفتے کیلی میٹرز کو بتایا ’ایسے وقت میں جب کیلی فورنیا کی ہر کاؤنٹی میں رویوں اور ذہنی صحت سے متعلق طبی کارکنوں کی کمی ہے، ایس بی 903 اب بھی ان ابتدائی جائزوں اور مریضوں کی سکریننگ کرنے والے ٹولز کے سامنے طبی ماہرین کی ایک رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے جو مریضوں کو زیادہ تیزی سے علاج تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔‘

بل کی حمایت کرنے والی نیشنل یونین آف ہیلتھ کیئر ورکرز نے کیلی فورنیا کے متعلقہ حکام کے پاس شکایت درج کرائی ہے۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ قیصر پرمینینٹے ہیلتھ سسٹم نے طبی ماہرین کی نگرانی کے بغیر ایک خودکار ’ای وزٹ‘ نظام استعمال کیا، جو ایسے مریضوں کے علاج سے متعلق سفارشات اور ابتدائی جائزے فراہم کرتا تھا جو ممکنہ طور پر اضطراب یا ڈپریشن کا شکار ہوسکتے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے ’وہ مریضوں کی تشخیص، طبی فیصلے کرنے یا طبی ضرورت کا تعین کرنے کے لیے اے آئی استعمال نہیں کرتی‘ اور اس کا مؤقف ہے کہ مذکورہ گروپ نے اس کے طریقہ کار کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تھراپی کے لیے اے آئی کے استعمال میں لوگوں کی غیر معمولی دلچسپی ہے۔

تاہم صحت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چیٹ بوٹس پر مبنی ذہنی صحت کی سہولیات ایسا شعبہ ہے جس پر مزید تحقیق اور ضابطہ سازی کی ضرورت ہے تاکہ اس کا حقیقی طبی علاج سے موازنہ کیا جاسکے۔

رینڈ، براؤن یونیورسٹی سکول آف پبلک ہیلتھ اور ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے 2025 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں پتا چلا کہ تقریباً ہر آٹھ میں سے ایک نوجوان اور کم عمر فرد ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے چیٹ بوٹس سے رجوع کر رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رینڈ کے سینیئر پالیسی محقق جوناتھن کینٹر نے تحقیق کے حوالے سے براؤن یونیورسٹی کی ویب سائٹ کو بتایا ’اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ذہنی صحت کے مشوروں کا جائزہ لینے کے لیے معیاری پیمانے بہت کم ہیں، جبکہ ان بڑے لسانی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا سیٹس کے بارے میں شفافیت بھی محدود ہے۔‘

دریں اثنا امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے رواں سال کی جانے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ 77 فیصد ماہرین نفسیات ایسے مریضوں سے بات کرچکے ہیں جنہوں نے مدد، جذباتی وابستگی یا دیگر مقاصد کے لیے اے آئی استعمال کی۔

اکتوبر میں چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا تھا کہ اندازاً ہر ہفتے 12 لاکھ پیغامات ایسے ہوتے ہیں جن میں خودکشی کی منصوبہ بندی یا ارادے کے واضح اشارے موجود ہوتے ہیں۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی طور پر ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کے باعث یہ رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔

کنگز کالج لندن میں نیورو سائیکائٹری کے کلینیکل فیلو ہیملٹن مورین نے جون میں ہارورڈ بزنس ریویو کو بتایا ’بہت سے ممالک میں طویل انتظار اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور تھراپی تک رسائی میں مشکلات کے پیش نظر یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنی جذباتی صحت و بہبود کے لیے جنریٹو اے آئی سے مدد لے رہی ہے۔‘

مقبول اے آئی ایپلی کیشنز بنانے والی کمپنیوں کو، جن کے نظام انسانوں کے ساتھ حیرت انگیز حد تک حقیقت سے قریب گفتگو کرسکتے ہیں اور مکمل شخصیت اور شعور رکھنے والے انسانوں جیسے دکھائی دیتے ہیں، ایسے مقدمات کا بھی سامنا ہے جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے چیٹ ٹولز نوجوانوں کی خودکشیوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *