مکہ دفاعی معاہدہ امریکہ سے متعلق نقطہ نظر تبدیل ہونے کی علامت ہے: ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ خطے کے ممالک کے امریکہ کے بارے میں نقطہ نظر میں تبدیلی کی علامت ہے۔

ایرانی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا: ’خطے کے ممالک یہ سمجھ چکے ہیں کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو جھوٹے بروکرز سے خریدی جا سکے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’خطے کے ممالک اب ماضی کی طرح امریکہ کی فراہم کردہ سکیورٹی کے دعووں پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اس بات پر تشویش نہیں کہ یہ معاہدہ تہران کے خلاف ہو سکتا ہے کیوں کہ ان کے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے ساتھ گہرے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا: ’اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ اس معاہدے کو ایران کے خلاف سمجھا جائے۔‘

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعے کو اس وقت معاہدے پر دستخط کیے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ ماہ سے جاری جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پھیل چکے ہیں اور علاقائی تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کی وزارت خارجہ نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا مقصد ’اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا‘ ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں: اسحاق ڈار

دوسری کانب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دیرینہ تزویراتی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے اور اس کا مقصد خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ ’اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا اور رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے حق کے مطابق ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے، جبکہ یہ معاہدہ تصادم نہیں بلکہ طاقت، اتحاد اور باہمی احترام کے ذریعے امن کے قیام کا اظہار ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *