ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے چھ نئی شرائط پیش کر دیں

ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے چھ نئی شرائط پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی رویہ ’درست‘ ہونے تک آبنائے نہیں کھولی جائے گی۔

ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی شرائط اس آبی گزرگاہ کے انتظام کے معاہدے پر جاری مذاکرات کا رخ بدل سکتی ہیں۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کا بیان نشر کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کو ایران کو دوبارہ کبھی دھمکی نہیں دینی چاہیے اور اسے ایران اور خطے میں اس کے مسلح اتحادیوں کے ساتھ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا چاہیے۔

’امریکہ کو چاہیے کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور خطے سے اپنی فوج واپس بلائے۔ اس کے علاوہ ایران کو جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ’مکمل ازالہ‘ ہونا چاہیے، پابندیاں ختم کرنی چاہئیں اور منجمد کیے گئے اثاثے ’بلاشرط‘ جاری کرنے چاہئیں۔‘

جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے مطابق پابندیاں ختم کرنے کا شیڈول اور معاوضے کا منصوبہ حتمی معاہدے کا حصہ ہوں گے، جب کہ مذاکرات میں منجمد اثاثوں کے معاملے پر بھی بات کی جائے گی۔

آبنائے ہرمز پر عمان سے مذاکرات حتمی مرحلے میں ہیں: عباس عراقچی

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات ’حتمی مراحل کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی علامت نہیں ہے۔‘

جون کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولنا دیگر شرائط اور امریکہ کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی تلافی سے مشروط ہے۔‘

ایران کے سکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر نے ہفتے کو آبنائے دوبارہ کھولنے کے لیے پیشگی شرائط کی طویل فہرست پیش کی، جن میں ’ایران اور لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ اور جارحیت‘ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا ’ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دشمن آبنائے کھولنے کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب عمان نے ہفتے کو کہا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کے بارے میں ایران کے ساتھ مذاکرات ’مثبت اور تعمیری رہے، تاہم اس نے جہاز رانی پر بار بار ہونے والے حملوں سے خبردار کیا کیوں کہ تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ کی اپنی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔

عمان کی وزارت خارجہ نے ایران کا نام لیے بغیر ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بار بار ہونے والے حملوں’ کی مذمت کی۔ اس نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات کے حوالے سے جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘ عمان نے اس پیش رفت کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام سے گریز کرنے پر زور دیا۔

ایران نے اماراتی آئل ٹینکر پر حملہ کیا: یو اے ای

متحدہ عرب امارات نے ہفتے کو ایران پر آبنائے ہرمز میں اپنی سرکاری تیل کمپنی کے ایک ٹینکر کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کی جسے اس نے ’دشمنی پر مبنی ایرانی حملہ قرار دیا جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران ادنوک (ابوظبی نیشنل آئل کمپنی) کے ایک ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *