پاکستان نقشہ بدلتا رہتا ہے، عمارت مکمل نہیں ہوتی

ون یونٹ صوبائی رقابتوں کا خاتمہ کرے گا، بیسک ڈیموکریسیز حکومت کو عوام کے قریب لے آئیں گی، صدارتی نظام استحکام فراہم کرے گا، پارلیمانی نظام جمہوریت بحال کرے گا، فوجی حکومتیں بدعنوانی ختم کر دیں گی، سویلین حکومتیں آئین پسندی کو مضبوط کریں گی، مقامی حکومتیں صوبائی اشرافیہ کو بائی پاس کریں گی، پھر ختم کر دی جائیں گی، اور بعد میں آنے والی حکومت انہیں ایسے دوبارہ دریافت کرے گی جیسے وہ کبھی وجود ہی نہ رکھتی ہوں۔

پاکستان نے اپنی بیشتر تاریخ اس طرح خود کو ازسرِنو ترتیب دینے میں گزار دی ہے۔

ہمارے ہاں ایک عجیب عادت پائی جاتی ہے۔ جب بھی ریاست ہمیں مایوس کرتی ہے تو ہم کسی دوسری ریاست کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ کسی دوسری حکومت یا سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ ایک بالکل نئے بندوبست کی۔ ایک نئے نقشے کی۔ ایک نئے آئینی فارمولے کی۔ ایک نئے انتظامی ڈھانچے کی۔ ہماری سب سے بڑی سیاسی امید کبھی اچھی حکمرانی میں نہیں رہی بلکہ اس یقین میں رہی ہے کہ اگلا نظام بالآخر وہ کامیابی حاصل کر لے گا جس میں پچھلا نظام ناکام رہا تھا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کے گذشتہ ہفتے کے بیانات اسی طویل روایت کا حصہ ہیں۔ موجودہ نظام کو ’ناکام‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے سوال پر فیصلہ کریں۔ کوئی ان سے اتفاق کرے یا نہ کرے، یہ اصل نکتہ نہیں۔ جمہوریتوں میں صوبائی حدود پر بحث ہونی چاہیے، جیسے انتخابی اصلاحات یا آئینی ترامیم پر ہوتی ہے۔

تشویش کی بات کچھ اور ہے۔

وہ یہ کہ ملک کے طاقتور ترین وزرا میں سے ایک ایسے انداز میں ریاست کی تشخیص کر رہا ہے جیسے وہ خود اس کا حصہ نہ ہو۔

پاکستان میں ایک پرانی خواہش یہ رہی ہے کہ اصلاح اور ازسرِنو تشکیل کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جائے۔ ہم نقشہ اس لیے دوبارہ بناتے ہیں کیونکہ عمارت کی مرمت زیادہ مشکل کام ہے۔ ہم دیواریں اس لیے منتقل کرتے ہیں کیونکہ پلمبنگ کی خرابی دور کرنا سست، تکنیکی اور غیر نمایاں عمل ہے۔ ساختی تبدیلی تاریخ بنانے کا وعدہ کرتی ہے جبکہ انتظامی صلاحیت صرف فعال اداروں کا۔

ان میں سے کوئی بھی نئی تشکیل منطق سے خالی نہیں تھی۔ بہت سے لوگوں نے خلوصِ نیت سے ان کی حمایت کی۔ بعض میں شاید مفید اصلاحات کے بیج بھی موجود تھے۔ لیکن تاریخ ہمارے سامنے ایک غیر آرام دہ سوال چھوڑ گئی ہے: کیا ہماری ناکامیاں واقعی آئینی تھیں یا انتظامی؟

ملک اس لیے کامیاب نہیں ہوتے کہ انہیں اچانک کوئی کامل آئینی بندوبست مل جاتا ہے۔ وہ اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ اداروں کو پختہ ہونے کا وقت دیا جاتا ہے، پالیسیاں حکومتوں سے زیادہ دیر تک قائم رہتی ہیں اور ریاست کا روزمرہ نظام اتنی مہارت سے کام کرتا ہے کہ شہریوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ پاسپورٹ جاری ہو جاتا ہے۔ زمین کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ پولیس شکایت درج کر لیتی ہے۔ بجٹ نافذ ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ شاید پرکشش نہ ہو مگر یہ ہی ریاستی فنِ حکمرانی ہے۔

اسی لیے موجودہ بحث میں ایک واضح ستم ظریفی موجود ہے۔

محسن نقوی کوئی ایسے ماہرِ تعلیم نہیں جو کنارے پر بیٹھ کر تجزیہ کر رہے ہوں اور نہ ہی وہ کسی ایسی حکومت کے مخالف سیاست دان ہیں جس پر ان کا اختیار نہ ہو۔ وہ پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں۔ اگر نظام واقعی ناکام ہو چکا ہے تو وہ خود ان اہم مناصب میں سے ایک پر فائز ہیں جن کی ذمہ داری اس نظام کو قائم رکھنا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر دفاع خواجہ آصف کا جواب اسی لیے اہم تھا کہ وہ محض اختلاف نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجموعی طور پر محسن کے نظام کے بارے میں تجزیے سے متفق ہیں۔ ان کا اعتراض مقام پر تھا۔ اگر جمہوریہ کو بنیادی اصلاحات درکار ہیں تو پارلیمان موجود ہے، کابینہ موجود ہے اور محسن نقوی دونوں کا حصہ ہیں۔ یہ ایسے ادارے نہیں جنہیں نظر انداز کر کے بات کی جائے؛ یہ ہی وہ آئینی فورمز ہیں جہاں ایسے سوال جمہوری جواز حاصل کرتے ہیں۔ دو سینیئر وزرا اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ نظام ناکام ہے، مگر اس بات پر اختلاف کر سکتے ہیں کہ یہ بحث کہاں ہونی چاہیے۔ فورم کے بارے میں یہ اختلاف زیادہ معنی خیز ہے۔

خواجہ آصف نے ایک اور نکتہ اٹھایا جو توجہ کا مستحق ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کا بڑا حصہ اب بھی وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔ سیاسی طور پر اس دعوے کے بارے میں کوئی بھی رائے رکھی جا سکتی ہے لیکن یہ ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی بے شمار اصلاحات ایسی ہیں جو سرکاری فائلوں میں ادھوری پڑی ہیں۔ کسی نئی آئینی مہم کا آغاز کرنے سے پہلے یہ پوچھنا بالکل جائز ہے کہ موجودہ ذمہ داریوں میں سے اتنی زیادہ ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہو سکیں۔

یہ نئے صوبوں کے خلاف دلیل نہیں۔ ان کے حق میں دلائل غیر سنجیدہ نہیں ہیں۔ دس کروڑ سے زائد آبادی والا صوبہ واقعی کسی بھی صوبائی سیکریٹریٹ کی انتظامی صلاحیت سے باہر ہو سکتا ہے، اور جنوبی پنجاب کا مطالبہ کئی دہائیوں سے مضبوط سیاسی حمایت رکھتا ہے۔ پاکستان ممکن ہے ایک دن یہ نتیجہ اخذ کرے کہ اس کی وفاقی ساخت کو مزید انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے اور یہ ایک جائز آئینی مکالمہ ہوگا۔ لیکن اگر نئے صوبوں کو اس سے پہلے حل کے طور پر پیش کیا جائے کہ ہم موجودہ اداروں کی مؤثر حکمرانی ثابت کر سکیں تو ہمیں یہ خطرہ لاحق ہوگا کہ ہم حکمرانی کے مسئلے کو جغرافیے کا مسئلہ سمجھ بیٹھیں۔

یہی ہماری سب سے پرانی سیاسی غلط فہمی رہی ہے: یہ گمان کہ مسئلہ نقشے میں ہے، تعمیر کرنے والوں میں نہیں۔

ریاستوں کو پوڈیموں سے پیش کیے گئے ادھورے خیالات نہیں بچاتے۔ انہیں وہ حکومتیں مضبوط بناتی ہیں جو پہلے سے موجود آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے مسلسل، مستقل اور بہتر حکمرانی کا سست مگر ضروری کام انجام دینے پر آمادہ ہوں۔

یہ نئے نظام کا وعدہ کرنے جتنا پُرجوش نہیں ہوتا۔

لیکن فعال ریاستیں اسی طرح بنتی ہیں۔

مونا خان صحافی ہیں اور کراچی میں تحریر نویسی کی ورکشاپس منعقد کرتی ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ تحریر اس اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *