مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی طرز پر ہے: ترکی

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ہفتے کو کہا کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے دفاعی معاہدے جیسا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ سعودی عرب میں ایک جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جمعے کو مکہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔

سفارتی حلقے اسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی طے پانے والے دفاعی معاہدے کی توسیع قرار دے رہے ہیں۔ 

اگرچہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت وعدوں یا ذمہ داریوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن کہا گیا کہ یہ معاہدہ ان کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور امن کو فروغ دینے کے لیے ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *