دنیا کی سب سے فِٹ خاتون قرار پانے والی برطانوی ایتھلیٹ کے پانچ اصول

اس وقت ہائبرڈ ٹریننگ کا رجحان عروج پر ہے۔ صرف ایک مقصد، مثلاً زیادہ طاقتور بننے، تیز دوڑنے یا دل کی برداشت بڑھانے سے اکتائے ہوئے شوقیہ کھلاڑی اب ایسے جسم بنانا چاہتے ہیں، جنہیں ’مات دینا مشکل‘ ہو۔

وہ مختصر رفتار والی دوڑ بھی لگانا چاہتے ہیں، طویل فاصلے بھی طے کرنا چاہتے ہیں، بھاری وزن بھی اٹھانا چاہتے ہیں، جمناسٹک مہارتیں بھی دکھانا چاہتے ہیں اور ٹرائیتھلون بھی کامیابی سے مکمل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ان کی جسمانی ساخت بھی قابلِ رشک ہو۔

اور معروضی پیمانوں کے مطابق، جزیرۂ مین کی ایمی کرنگل دنیا کی سب سے بہترین خاتون ہیں، جو ان تمام معیاروں پر پورا اترتی ہیں، بلکہ ان سے بھی آگے نکل جاتی ہیں۔

’زمین کی سب سے فِٹ خاتون‘ کا اعزاز ہر سال کراس فِٹ گیمز کی فاتح کو دیا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ کیلیفورنیا میں منعقدہ مقابلوں میں 27 سالہ کرنگل نے شاندار انداز میں یہ اعزاز حاصل کیا اور وہ 2013 کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی برطانوی خاتون بن گئیں۔

یقیناً بعض لوگ ’فِٹسٹ‘ یعنی سب سے فِٹ ہونے کے اس دعوے پر اعتراض کرتے ہیں اور ٹرائیتھلیٹس یا ڈیکاتھلون کھلاڑی جیسے کثیرالجہتی ایتھلیٹس بھی اس بحث میں شامل ہو جاتے ہیں، لیکن ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جس نے حال ہی میں کرنگل کے ساتھ تربیت کی ہے، میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی فٹنس سے انکار ممکن نہیں۔

اس سال کے کراس فِٹ گیمز میں پانچ دنوں کے دوران فٹنس کو جانچنے والے 20 مختلف مقابلوں میں انہوں نے غیرمعمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے سوئمنگ پول میں اپنی مہارت دکھائی، 20 چکروں پر مشتمل سائیکل ریس میں کامیابی حاصل کی، 500 میٹر کی دوڑ صرف ایک منٹ اور 20 سیکنڈ سے کچھ زیادہ وقت میں مکمل کی، 135 کلوگرام سے زائد وزن کے ساتھ باربل سکواٹ کیا، ہاتھوں کے بل چلتے ہوئے رکاوٹوں کا کورس مکمل کیا اور 7200 میٹر طویل ٹریل ریس جیتی جس میں بے شمار سخت چڑھائیاں شامل تھیں۔

کامیاب ذہنیت

گذشتہ سال کرنگل کے ساتھ تربیت کے تجربے کی بنیاد پر، میری نظر میں ان کی کامیابی کا پہلا راز ان کی ذہنیت ہے۔

ہم نے ایک ساتھ 30 منٹ کی ورزش کی جس میں انہوں نے مجھے بری طرح پیچھے چھوڑ دیا۔ ورزش کے دوران یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں چلی گئی ہوں، مکمل طور پر اپنے ہدف پر مرکوز۔

لیکن ورزش ختم ہوتے ہی وہ دوبارہ اپنی معمول کی دوستانہ اور عاجز شخصیت میں واپس آ گئیں اور مذاق کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات مقابلوں میں جیتنے کے بعد لازمی انٹرویو سے بچنے کے لیے ان کا دل کرتا ہے کہ رفتار کم کر دیں۔

ان کی کھیلوں کی کامیابیاں انہیں مغرور بنا سکتی تھیں، لیکن ان میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔

معمول کا تربیتی دن وجود ہی نہیں رکھتا

کرنگل روزانہ چھ گھنٹے تک جم میں گزار سکتی ہیں، لیکن ان کی تربیت دن، ہفتے اور طویل مدت کے دوران مسلسل بدلتی رہتی ہے تاکہ وہ اپنی بہترین کارکردگی برقرار رکھ سکیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں اتنے وقت جم میں ضرور ہوتی ہوں، لیکن سارا وقت شدید ورزش نہیں کر رہی ہوتی۔‘

کبھی کوئی سیشن طاقت بڑھانے پر مرکوز ہوتا ہے، کبھی کم شدت والی ایروبک ٹریننگ پر جس کا مقصد دل اور پھیپھڑوں کو زیادہ مؤثر بنانا ہوتا ہے اور کبھی جمناسٹک مہارتوں میں بہتری پر۔

کرنگل کے تربیتی کیمپ بروٹ اسٹرینتھ کے کوچ وِل کین کہتے ہیں: ’آپ یہ توقع نہیں کرتے کہ کوئی رگبی کھلاڑی روز میچ کھیلے یا کوئی باکسر روز مقابلہ کرے۔ کراس فِٹ میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔‘

تاہم کچھ دن ایسے بھی ہوتے ہیں جب پوری قوت کے ساتھ محنت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

کرنگل بتاتی ہیں: ’ہم وی او ٹو میکس انٹرولز کرتے ہیں جن میں تین منٹ کام اور تین منٹ آرام شامل ہوتا ہے۔ ورزشیں تکنیکی اعتبار سے آسان لیکن بہت زیادہ محنت طلب ہوتی ہیں، اس لیے رفتار کم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔‘

یہ سلسلہ آٹھ راؤنڈز تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے 48 منٹ کی ورزش بنتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ تین منٹ پوری شدت سے کام کیا جائے، پھر مناسب آرام لیا جائے تاکہ وی او ٹو میکس، یعنی ورزش کے دوران آکسیجن استعمال کرنے کی جسم کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت، میں اضافہ ہو۔

ایمی کرنگل کی وی او ٹو میکس بڑھانے والی ورزش:

نیچے دی گئی ترتیب کو چار مرتبہ مکمل کریں۔

۔ تین منٹ میں جتنے زیادہ راؤنڈز مکمل کر سکیں، کریں۔

۔ اسکی ایرگ پر 20 کیلوریز۔

۔ 20 انچ اونچے باکس پر 20 باکس جمپ اوورز۔

۔ روئنگ مشین پر 20 کیلوریز۔

۔ تین منٹ آرام کریں۔

۔ پھر تین منٹ میں جتنے زیادہ راؤنڈز مکمل کر سکیں، کریں۔

۔ 18 فٹ اونچی رسی پر پانچ مرتبہ چڑھنا۔

۔ 200 میٹر دوڑ۔

۔ تین منٹ آرام کریں۔

کرنگل فطری طور پر ہمیشہ سے ایک حد تک ایتھلیٹک صلاحیت رکھتی تھیں۔ نوعمری میں ٹریک اینڈ فیلڈ کھیلوں کے پس منظر کی وجہ سے وہ 400 میٹر رکاوٹوں کی دوڑ کی چیمپیئن بھی رہ چکی ہیں، اسی لیے کراس فِٹ کے دوڑ اور برداشت سے متعلق مقابلے ان کے لیے نسبتاً آسان تھے۔

البتہ کراس فِٹ کی مشہور ’میٹ کان‘ (میٹابولک کنڈیشننگ) ورزشیں، جن میں ویٹ لفٹنگ، ایروبک سرگرمیوں اور جمناسٹک حرکات کو ملا کر زیادہ شدت والے سرکٹس بنائے جاتے ہیں، ابتدا میں ان کے لیے قدرے مشکل ثابت ہوئیں۔

اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے کوچ فریزر میکینزی نے منصوبہ تیار کیا۔

کرنگل کہتی ہیں: ’ہم نے طاقت بڑھانے پر زیادہ کام کیا اور اس کا اثر یہ ہوا کہ دیگر حرکات نسبتاً آسان محسوس ہونے لگیں۔ سکواٹس اور جمناسٹکس بھی میری کمزوریاں تھیں، اس لیے ہم نے ان پر کافی کام کیا، جس میں پل اپس، مسل اپس اور تھرسٹرز کو ملا کر مشقیں شامل تھیں۔‘

2025 کے اختتام پر ہونے والے ہمارے انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا تھا: ’ابھی بھی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر مجھے مزید کام کرنا ہے۔ میں ابھی اپنی بہترین سطح پر نہیں پہنچی۔‘

لیکن صرف 12 ماہ بعد انہوں نے کراس فِٹ گیمز ایسے انداز میں جیت لیے جو اس کھیل کی تاریخ کی سب سے غالب کارکردگیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر واقعی اب بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے تو ان کی حریفوں کے لیے یہ تشویش کی بات ہونی چاہیے۔

بحالی اور آرام کی اہمیت

صحت یابی کے لیے کرنگل کھنچاؤ کی ورزشوں (سٹریچنگ) اور نیند کو ترجیح دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’مجھے کوئی خاص ریکوری ٹول یاد نہیں آتا جو میں استعمال کرتی ہوں۔‘

البتہ وہ اپنے آرام کے دنوں کا باقاعدہ شیڈول بناتی ہیں۔

’میں جمعرات اور اتوار کو کراس فِٹ سے مکمل وقفہ رکھتی ہوں۔ نہ باربل کو ہاتھ لگاتی ہوں اور نہ دل کی دھڑکن بہت زیادہ بڑھاتی ہوں۔ جمعرات کو کبھی سڑک والی سائیکل پر زون 2 رائیڈ کر لیتی ہوں، جبکہ اتوار مکمل آرام کا دن ہوتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں: ’بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بس لگاتار محنت کرتے رہنا ہی کامیابی کا راز ہے، لیکن جسم کو آرام اور مناسب غذا بھی درکار ہوتی ہے۔ خوراک بے حد اہم ہے۔‘

پروٹین اور ڈونٹس کو ترجیح

ہمارے مشترکہ ورزشی سیشن کے بعد کرنگل مجھے چند اضافی ورزشیں کرواتی ہیں، جن کا مقصد تربیت میں موجود کمزور پہلوؤں کو بہتر بنانا اور جسم کو چوٹوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پھر ہم سیدھا ساتھ والے کیفے کا رخ کرتے ہیں۔ مینو میں ایک ایسا ڈونٹ شامل ہے جو میری زندگی کا شاید سب سے لذیذ اور بھرپور ڈونٹ تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں بہت سخت یا محدود غذا نہیں کھاتی۔ جب آپ اتنی زیادہ جسمانی سرگرمی کر رہے ہوں اور کھانے سے اتنی محبت بھی ہو تو انتخاب میں کافی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ میں کھانے پینے کی شوقین ہوں۔‘

انہیں میکسیکن کھانے بہت پسند ہیں اور ناشتے میں سیریل اتنا پسند ہے کہ انہوں نے اپنا گرینولا برانڈ ’کرنگل کرنچ‘ بھی متعارف کروا دیا ہے۔

جسمانی بافتوں کی مرمت اور عضلات کو برقرار رکھنے کے لیے پروٹین بھی ان کی غذا کا اہم حصہ ہے۔ کرنگل، ’گرنیڈ‘ کی سفیر ایتھلیٹ ہیں اور حال ہی میں امریکہ میں ہونے والے ایک مقابلے کے دوران جب ان کے پروٹین بار ختم ہو گئے تو انہیں یہ مصنوعات خصوصی طور پر وہاں بھجوائی گئیں۔

وہ ہلکی سی شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ اعتراف کرتی ہیں: ’میں کافی زیادہ بارز کھاتی ہوں۔ دن کے پہلے ٹریننگ سیشن کے بعد ایک بار کھاتی ہوں، دوسرے سیشن کے بعد پروٹین شیک لیتی ہوں، پھر شام کو پروٹین پاؤڈر ملا کر اوور نائٹ اوٹس تیار کرتی ہوں تاکہ اگلی صبح انہیں کھا سکوں۔‘

کور ٹریننگ

اپنی بے شمار جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ کرنگل کی جسمانی ساخت بھی قابلِ رشک ہے اور ان کے مضبوط اور متناسب دھڑ کے باعث اکثر لوگ ان سے پوچھتے ہیں: ’آپ پیٹ کے عضلات کے لیے کون سی ورزش کرتی ہیں؟‘

چنانچہ میں بھی یہی سوال کرتی ہوں اور جواب یہ نہیں کہ وہ بے شمار سیٹ اَپس کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’کراس فِٹ ٹریننگ کے دوران آپ کا کور ویسے ہی کافی حد تک کام کرتا ہے۔ ہماری ورزشوں میں جی ایچ ڈی سیٹ اَپس اور ٹوز ٹو بار شامل ہوتے ہیں، جو پیٹ کے عضلات پر کام کرتے ہیں، لیکن میں یہ نہیں کہوں گی کہ میں خاص طور پر انہی عضلات پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہوں۔‘

اس کے بجائے وہ ایسی ورزشوں کو ترجیح دیتی ہیں جو ان کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔

مثال کے طور پر ’کوپن ہیگن پلانک‘، جو رانوں کے اندرونی حصے کے ایڈکٹر عضلات کو مضبوط بناتی ہے اور ’سوٹ کیس کیری‘، جس میں ایک ہاتھ میں بھاری وزن اٹھا کر چلنا پڑتا ہے اور جسم کو سیدھا رکھنے کے لیے کور کے ترچھے عضلات (اوبلیکس) متحرک ہوتے ہیں۔

اگر وہ کبھی کور کو الگ سے مضبوط بنانے کے لیے ورزش کرتی بھی ہیں تو عموماً جمناسٹک حرکات کے ذریعے، جیسے پلانک اور نسبتاً مشکل ’ایل سِٹ‘۔ کرنگل کے مطابق اگر آپ یہ آخری ورزش 20 سیکنڈ تک برقرار رکھ سکتے ہیں تو یہ ایک اچھی کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *