امریکی شہر لاس اینجلس میں نصب ایک بل بورڈ نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے، جہاں 30 فٹ بلند ڈھانچے کے اندر بنائے گئے ایک چھوٹے سے مکمل طور پر آراستہ کمرے میں ایک شخص رہائش پذیر ہے۔
سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے اپنی نئی سائنس فکشن ہارر فلم ’دی لاسٹ ہاؤس‘ کی تشہیر کے لیے مذکورہ شخص کو سن سیٹ بولیوارڈ اور سیلما ایونیو کے سنگم پر واقع بل بورڈ کے اندر بٹھا دیا۔ فلم میں گریٹا لی اور ویگنر مورا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
لوئی لیٹریئر کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ریلیز ہو چکی ہے۔ اس کی کہانی چار افراد پر مشتمل ایک خاندان کے گرد گھومتی ہے، جو اچانک اپنے گھر میں قید ہو جاتا ہے۔ محدود ہوتے وسائل اور انہیں اندر قید رکھنے والے پراسرار خطرے سے بچنے کے لیے خاندان کے تمام افراد کو مل کر جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
نیٹ فلکس کے مطابق مذکورہ شخص نے جمعرات کو بل بورڈ میں قیام شروع کیا اور وہ ہفتے تک اس کمرے میں رہیں گے۔
انہیں پاجامہ اور باتھ روب پہنے، مگ میں کافی پیتے اور نیچے کھڑے لوگوں سے وائٹ بورڈ کے ذریعے بات چیت کرتے دیکھا گیا۔
کمرے کی کھڑکی کے نیچے بڑے سیاہ حروف میں سوال لکھا ہے کہ ’آپ کتنی دیر زندہ رہ سکتے ہیں؟‘
جریدے ’انٹرٹینمنٹ ویکلی‘ کے مطابق کمرے میں ایئرکنڈیشنر بھی موجود ہے تاکہ جنوبی کیلی فورنیا میں شدید گرمی کی لہر کے دوران وہ آرام سے رہ سکیں۔
تاہم یہ معلوم نہیں کہ انہیں بیت الخلا کی سہولت میسر ہے یا ان کے کھانے پینے کا کیا انتظام ہے۔ دی انڈپینڈنٹ نے اس بارے میں نیٹ فلکس سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
اے بی سی سیون نے وائٹ بورڈ کے ذریعے ان سے پوچھا کہ بل بورڈ سے باہر کا منظر کیسا دکھائی دیتا ہے تو انہوں نے لکھا: ’شاندار۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں پوری نیند آ رہی ہے تو اس کا مختصر جواب تھا کہ ’نہیں۔‘
مذکورہ شخص کے بل بورڈ میں رہنے کے انوکھے انداز نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا۔
ایک صارف نے ایکس پر لکھا: ’ایسا منظر روز روز دیکھنے کو نہیں ملتا۔ نیٹ فلکس نے اپنی فلم ’دی لاسٹ ہاؤس‘ کی تشہیر کے لیے سن سیٹ بولیوارڈ پر لگے بل بورڈ میں مکمل فرنشڈ کمرہ بنایا اور ایک اداکار کو چار دن کے لیے اس میں بسا دیا۔ اس بار مارکیٹنگ ٹیم نے واقعی کمال کر دیا۔‘
ایک اور صارف نے مذاق میں لکھا: ’کیا میں بھی اس کے لیے درخواست دے سکتا ہوں؟ آج کل کے مکانوں کے کرائے دیکھتے ہوئے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فلم کے پیغام پر بات کرتے ہوئے ہدایت کار لوئی لیٹریئر کا کہنا تھا کہ ’دا لاسٹ ہاؤس محفوظ پناہ گاہ کے تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ فلم میں ایک خاندان کا گھر ہی خطرناک جگہ بن جاتا ہے، جہاں زندہ رہنے کے لیے سب کا متحد ہونا ضروری ہے۔
’یہ ایک عام خاندان کا بدترین خواب ہے، جو انہیں ایک دوسرے کی حفاظت کے لیے اپنی آخری حد تک جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس سے سکیورٹی کی کمزوری اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کی شدید جدوجہد بھی سامنے آتی ہے۔‘
آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد فلم ’سیکرٹ ایجنٹ‘ کے اداکار ویگنر مورا نے بتایا کہ انہیں یہ کردار کیوں پسند آیا؟ ان کا کہنا تھا کہ ’کہانی ایسے انداز میں آگے بڑھے گی جس کی ناظرین کو بالکل توقع نہیں ہوگی اور یہی بات اس فلم کو اتنا دلچسپ بناتی ہے۔
’اس کہانی میں کئی پرتیں اور حیران کن موڑ ہیں، جنہیں ناظرین کو دکھانے کا مجھے بے صبری سے انتظار ہے۔‘
گریٹا لی نے کہا: ’مجھے یہ بات پسند آئی کہ فلم ہماری دنیا اور اس میں ہمارے جینے کے طریقے کے بارے میں اہم سوال اٹھاتی ہے۔ میں ان سوالات کو ایک نئے اور دلچسپ انداز میں پیش کرنے کے امکان پر بہت پرجوش تھی۔‘
‘دی لاسٹ ہاؤس’ اب نیٹ فلکس پر دستیاب ہے۔
<p class="rteright">نیٹ فلکس کی فلم ’دی لاسٹ ہاؤس‘ کی تشہیر کے لیے بل بورڈ میں بنائے گئے کمرے میں موجود شخص (روئٹرز)</p>
