پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں انٹیلی جنس بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر انڈین پراکسی سے تعلق رکھنے والے سات عسکریت پسندوں کو مار دیا، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ایک افسر، کیپٹن حمزہ اکرم نے جان دے دی۔
فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق 7 اگست 2026 کو ضلع ہنگو میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے ’مؤثر انداز‘ میں عسکرحیت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں نے فرار کی کوشش میں ایک مسجد کے اندر پناہ لی اور عبادت گاہ کے تقدس کو پامال کیا۔ بعد ازاں ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں سات عسکریت پسند مارے گئے۔
فوج کے مطابق شدید مقابلے کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم، جو ضلع نارووال کے رہائشی تھے، اپنے جوانوں کی اگلی صف سے قیادت کر رہے تھے اور عسکریت پسندوں کا تعاقب کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔
بیان کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے اور انہوں نے سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔
فوج نے بتایا کہ علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ انسداد دہشت گردی مہم ‘عزم استحکام’ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید کہا گیا کہ وطن کے دفاع کے لیے جوانوں کی یہ قربانیاں دہشت گردی کے خلاف ریاست کے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس سے ایک دن قبل سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران دس عسکریت پسندوں کو مارا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں ایک گروہ نے سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ حملہ آور مارے گئے۔
ایک اور کارروائی ضلع دیر میں کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے مزید دو عسکریت پسندوں کو مار دیا ہے۔

