’نقد خیرات نہ دیں‘: کراچی میں گداگری کے خلاف آگاہی مہم

کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک سگنل کی سرخ بتی جلتے ہی گاڑیوں کی قطار رکتی ہے اور اسی لمحے کئی چھوٹے بڑے ہاتھ گاڑیوں کی کھڑکیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

 کوئی پھول لیے کھڑا ہے۔ کوئی قلم، کوئی تسبیح، تو کوئی غبارے تھامے ہوتا ہے۔ بظاہر یہ اشیا فروخت کی جا رہی ہوتی ہیں، لیکن چند لمحوں بعد یہی بچے التجا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’کچھ مدد کر دیں۔‘

کراچی سمیت سندھ بھر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ’نقد خیرات نہ دیں‘ کی مہم شروع کی گئی ہے، جس میں شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ بھیک مانگنے والوں کو رقم دینے کی بجائے کھانا فراہم کریں۔

مہم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے پیشہ ور گداگری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور منظم نیٹ ورکس کمزور پڑیں گے۔

جب انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے کراچی کی مختلف شاہراہوں، بازاروں، چوراہوں، فٹ پاتھوں اور ٹریفک سگنلز کا رخ کیا تو شہر کے تقریباً ہر بڑے مقام پر گداگر موجود دکھائی دیے۔

کہیں پورے پورے خاندان بھیک مانگ رہے تھے تو کہیں معصوم بچے گاڑیوں کے درمیان دوڑتے ہوئے لوگوں سے رقم طلب کر رہے تھے۔

ماضی میں زیادہ تر گداگر براہ راست گاڑیوں کے پاس جا کر بھیک مانگتے تھے، لیکن اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ اب ہاتھوں میں پین، تسبیح، ٹشو پیپر، غبارے اور دیگر چھوٹی اشیا تھما دی جاتی ہیں۔ 

بظاہر یہ فروخت کاعمل ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اکثر لوگوں سے رقم لینے کی ایک کوشش بن جاتا ہے۔ یہ بچے گاڑیوں کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں اور اس وقت تک درخواست کرتے رہتے ہیں جب تک انہیں کچھ نہ کچھ رقم نہ مل جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب کئی گداگر سکوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اگر کوئی ایک یا دو روپے کا سکہ دینے کی کوشش کرے تو بعض اوقات وہ لینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں 50 یا 100 روپے کے نوٹ کی طلب سنائی دیتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں فلاحی تنظیم جے ڈی سی فاؤنڈیشن کے بانی ظفر عباس نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے 2023 میں بھی ’بھیک بند کریں‘ مہم شروع کی تھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول ظفر عباس: ’ہمارے سروے میں ایسے شواہد سامنے آئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشہ ور گداگری کے بعض نیٹ ورک بچوں کو استعمال کر رہے ہیں، جب کہ بعض اوقات سنگین جرائم کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی تصدیق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘

ظفر عباس کا مزید کہنا تھا کہ ان کے سروے کے مطابق بعض خاندان روزانہ بھیک مانگ کر ہزاروں روپے تک اکٹھے کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایک منافع بخش پیشہ بنتا جا رہا ہے۔

ان کے بقول: ’جب تک ریاستی ادارے منظم کارروائی، بحالی کے منصوبے اور مؤثر قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے پر توجہ نہیں دیں گے، صرف آگاہی مہم سے گداگری کا خاتمہ نہیں ہو گا۔‘

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ گداگر ہر جگہ نظر آتے ہیں اور انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

کراچی کی ایک مارکیٹ میں موجود حیات خان جن کی کپڑے کی دکان ہے، کا کہنا ہے کہ ’ان گداگروں کی وجہ سے نہ صرف کاروبار خراب ہوتا ہے بلکہ چوری، جیب تراشی جیسی وارداتیں بھی ہوتی ہیں، جن کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پراقدامات کی ضرورت ہے۔‘

اسی طرح طالبہ مقدس بونیری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کو کوئی ایسا سسٹم بنانا چاہیے جس سے گداگری کا خاتمہ ہو۔ نہ میں انہیں نقد رقم دینے کے حق میں ہوں نہ انہیں مفت کھانا کھلایا جائے، تب جا کر ان کی حوصلہ شکنی ہو گی۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *